تحریکات حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ تمام دنیا کے احمدیوں کو مَیں اس اعلان کے ذریعہ متنبِّہ کرتا ہوں کہ اگر وہ پہلے مبلغ نہیں تھے تو آج کے بعد ان کو لازماً بننا پڑے گا ۔ اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنے کے لیے بہت وسیع تقاضے ہیں اور یہ بہت بڑا بوجھ ہے جو جماعت احمدیہ کے کندھوں پر ڈالا گیا ہے …..اس کی زندگی کے ہر لمحہ کا جواز اس بات میں مضمر ہوگا کہ وہ خدا کی خاطر جیتا ہے اور خدا کی طرف بلانے کے لیے جیتا ہے۔ اِس عہد کے ساتھ جب وہ کام شروع کرے گا تو آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دنیا میں کس کثرت کے ساتھ اور کس تیزی کے ساتھ وہ انقلاب پیدا ہونا شروع ہو جائے گا جس کی ہم تمنا لیے بیٹھے ہیں ۔ ‘‘
( خطبات طاہر جلد 2 صفحہ62-57)

مزید پڑھیں

تحریکات حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ میرے دل میں یہ خواہش شدّت سے پیدا کی گئی ہے کہ قرآنِ کریم کی سورۃ بقرہ کی ابتدائی 17 آیتیں جن کی مَیں نے ابھی تلاوت کی ہے ہر احمدی کو یاد ہونی چاہئیں اور ان کے معنی بھی آنے چاہئیں اور جس حد تک ممکن ہو ان کی تفسیر بھی آنی چاہیے اور پھر ہمیشہ دماغ میں وہ مستحضر بھی رہنی چاہیے ۔اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ستَّر اسِّی صفحات کا ایک رسالہ جو حضرت مسیح موعودؑاور حضرت خلیفہ اوّلؓ اور حضرت مصلح موعودؓ کی تفاسیر کے متعلقہ اقتباسات پر مشتمل ہو گا ، شائع بھی کر دیں گے ۔ مجھے آپ کی سعادت مندی اور جذبہ اخلاص اور اس رحمت کو دیکھ کر جو ہر آن اللہ تعالیٰ آپ پر نازل کر رہا ہے امید ہے کہ آپ میری روح کی گہرائی سے پیدا ہونے والے اس مطالبہ پر لبیک کہتے ہوئے ان آیات کو زبانی یاد کرنے کا اہتمام کریں گے ۔ مرد بھی یاد کریں گے، عورتیں بھی یاد کریں گی ، چھوٹے بڑے سب ان سترہ آیات کو از بر کر لیں گے ۔ پھر تین مہینے کے ایک وسیع منصوبہ پر عمل در آمد کرتے ہوئے ہم ہر ایک کے سامنے ان آیات کی تفسیر بھی لے آئیں گے ۔ ‘‘
( خطبات ناصر جلد2 صفحہ851)

مزید پڑھیں

تحریکات حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’ ہمارے دوست اپنی زندگیاں وقف کریں اور مختلف پیشے سیکھیں۔ پھر ان کو جہاں جانے کے لیے حکم دیا جائے وہاں چلے جائیں اور وہ کام کریں جو انہوں نے سیکھا ہے۔ کچھ وقت اس کام میں لگے رہیں تاکہ اُن کے کھانے پینے کا انتظام ہوسکے اور باقی وقت دین کی خدمت میں صرف کریں۔ مثلاً کچھ لوگ ڈاکٹری سیکھیں کہ یہ بہت مفید علم ہے۔ بعض طب سیکھیں۔ اگرچہ طب جہاں ڈاکٹری پہنچ گئی ہے کامیاب نہیں ہو سکتی ہے۔ مگر ابھی بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں طب کو لوگ پسند کرتے ہیں۔ اِسی طرح اور کئی کام ہیں۔ ان تمام کاموں کو سیکھنے سے ان کی غرض یہ ہو کہ جہاں وہ بھیجے جائیں وہاں خواہ ان کاکام چلے یا نہ چلے۔ لیکن کوئی خیال ان کو روک نہ سکے …میرے دل میں مدت سے یہ تحریک تھی لیکن اب تین چار دوستوں نے باہر سے بھی تحریک کی ہے کہ اِسی رنگ میں دین کی خدمت کی جائے پس مَیں اس خطبہ کے ذریعہ یہاں کے دوستوں اور باہر کے دوستوں کومتوجہ کرتا ہوں کہ دین کے لیے جوش رکھنے والے بڑھیں اور اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ جو ابھی تعلیم میں ہیں اور زندگی وقف کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مجھ سے مشورہ کریں کہ کس ہنر کوپسند کرتے ہیں۔ تا ان کے لیے اس کام میں آسانیاں پیدا کی جائیں۔ لیکن جو فارغ التحصیل تو نہیں لیکن تعلیم چھوڑ چکے ہیں۔ وہ بھی مشورہ کرسکتے ہیں‘‘
( خطبات محمود جلد5صفحہ611-610)

مزید پڑھیں

تحریکات حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ مَیں سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف کے سوا کوئی ایسی کتاب نہیں ہے کہ اس کو جتنی بار پڑھو، جس قدر پڑھو اور جتنا اس پر غور کرواُس قدر لطف اور راحت بڑھتی جاوےگی ۔ طبیعت اُکتانے کی بجائے چاہے گی کہ اَور وقت اِس پر صرف کرو۔ عمل کرنے کے لئے کم از کم جوش پیدا ہوتا ہے اور دل میں ایمان،یقین اور عرفان کی لہریں اٹھتی ہیں۔ ‘‘
(حقائق الفرقان جلد 1صفحہ34 )

مزید پڑھیں

مقامِ خلافت کی عظمت اور اہمیت

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’جس کو خد اخلیفہ بناتا ہے، کوئی نہیں جو اس کے کاموں میں روک ڈال سکے۔ اس کو ایک قوت اور اقبال دیا جاتا ہے اور ایک غلبہ اور کامیابی اس کی فطرت میں رکھ دی جاتی ہے“
(روزنامہ الفضل، 25 مارچ1961 ء)

مزید پڑھیں

بزرگانِ اُمّت  کے نزدیک خلافت کی اہمیت

حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔
’’نزولِ نعمتِ الٰہی یعنی ظہور خلافتِ راشدہ سے کسی زمانہ میں مایوس نہ ہونا چاہیے اور اِسے مجیب الدعوات سے طلب کرتے رہنا چاہیے اور اپنی دعا کی قبولیت کی امید رکھنا اور خلیفہ راشد کی جستجو میں ہر وقت ہمت صرف کرنا چاہیے، شاید کہ یہ نعمتِ کاملہ اِسی زمانہ میں ظہور فرماوے اور خلافتِ راشدہ اِسی وقت ہی جلوہ گر ہو جائے“
(منصبِ امامت صفحہ 86)

مزید پڑھیں

50 تقاریر برموقع یوم خلافت2025ء (حصہ دوم)

”مشاہدات“ کے آنگن  کا 22 واں درخت بنیادی اینٹ خلافت کے حوالہ  سے جو بھی موضوع ذہن میں آئے جیسے ضرورتِ خلافت، قیامِ خلافت، نظامِ خلافت، مقام و منصبِ خلافت،  برکاتِ خلافت، استحکامِ خلافت اور حفاظتِ خلافت نیز خلافت سے وابستگی،  خلافت سے پختہ تعلق اور پیار و محبت۔ ان تمام کو پایۂ تکمیل تک […]

مزید پڑھیں

خلافت از افاضات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے احمدیوں پر کہ نہ صر ف ہادیٔ کامل صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں شامل ہونے کی توفیق ملی بلکہ اس زمانے میں مسیح موعود علیہ السلام اور مہدی کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق بھی اس نے عطا فرمائی جس میں ایک نظام قائم ہے، ایک نظام خلافت قائم ہے، ایک مضبوط کڑا آپ کے ہاتھ میں ہے جس کاٹوٹنا ممکن نہیں لیکن یاد رکھیں کہ یہ کڑا تو ٹوٹنے والا نہیں لیکن اگر آپ نے اپنے ہاتھ ذرا ڈھیلے کیے تو آپ کے ٹوٹنے کے امکان پیدا ہو سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس سے بچائے اس لیے اس حکم کو ہمیشہ یا رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ ے رکھو اور نظام جماعت سے ہمیشہ چمٹے رہو کیونکہ اب اس کے بغیر آپ کی بقا نہیں۔‘‘
(خطبات مسرور جلد1۔صفحہ256۔257خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 22اگست2003ء)

مزید پڑھیں

خلافت از افاضات حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ سارا عالَمِ اسلام مل کر زور لگا لے اور خلیفہ بنا کر دکھا دے، وہ نہیں بنا سکتے، کیونکہ خلیفہ کا تعلق خدا کی پسند سے ہے“
(الفضل انٹر نیشنل، 12 ؍پریل 1993 ء)

مزید پڑھیں

خلافت از افاضات حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ اللہ تعالیٰ ہی بناتا ہے۔ اگر بندوں پر اس کو چھوڑا جاتا تو جو بھی بندوں کی نگاہ میں افضل ہوتا اسے ہی وہ اپنا خلیفہ بنا لیتے۔ لیکن خلیفہ خود اللہ تعالیٰ بناتا ہے اور اس کے انتخاب میں کوئی نقص نہیں۔ وہ اپنے ایک کمزور بندے کو چنتا ہے ، جسے وہ بہت حقیر سمجھتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کو چن کر اس پر اپنی عظمت اور جلال کا ایک جلوہ کرتا ہے اور جو کچھ وہ تھا اور جو کچھ اس کا تھا اس میں سے وہ کچھ بھی باقی نہیں رہنے دیتا اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے سامنے کلّی طور پر فنا اور بے نفسی کا لبادہ وہ پہن لیتا ہے اور اس کا وجود دنیا سے غائب ہو جاتا ہے اور خدا کی قدرتوں میں وہ چھپ جاتا ہے تب اللہ تعالیٰ اسے اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیتا ہے “
(الفضل، 17مارچ1967)

مزید پڑھیں