حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6 ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ اگر کوئی شخص بیعت کر کے یہ خیال کرتا ہے کہ ہم پر احسان کرتا ہے تو یاد رکھیں کہ ہم پر کوئی احسان نہیں بلکہ یہ خدا کا اس پر احسان ہے کہ اُس نے یہ موقع اُسے نصیب کیا ۔سب لوگ ایک ہلاکت کے کنارے پر پہنچے ہوئے تھے۔ دین کا نام و نشان نہ تھا اور تباہ ہو رہے تھے ۔ خدا نے اُس کی دستگیری کی کہ یہ سلسلہ قائم کیا۔ اب جو اِس مائدہ سے محروم رہتا ہے وہ بے نصیب ہے لیکن جو اس کی طرف آوے اسے چاہیے کہ اپنی پوری کوشش کے بعد دعا سے کام لیوے ۔ جو شخص اس خیال سے آتا ہے کہ آزمائش کرے کہ فلاں سچا ہے یا جھوٹا وہ ہمیشہ محروم رہتا ہے ۔آدم سے لے کر اس وقت تک کوئی ایسی نظیر نہ پیش کر سکو گے کہ فلاں شخص فلاں نبی کے پاس آزمائش کے لیے آیا اور پھر اُسے ایمان نصیب ہوا ہو۔ پس چاہیے کہ یہ خدا کے آگے روئے اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر گریہ وزاری کرے کہ خدا اُسے حق دکھا دے ۔‘‘
( ملفوظات جلد 6 صفحہ220-219)
