آخری پیغامات
مؤمن کی تعریف کرتے ہوئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَلۡمُوۡمِنُ مَنۡ اٰمَنَہُ النَّاسُ
کہ مومن وہ ہے جس سے دنیا کی مخلوق امن میں رہے ۔
مؤمن کی تعریف کرتے ہوئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَلۡمُوۡمِنُ مَنۡ اٰمَنَہُ النَّاسُ
کہ مومن وہ ہے جس سے دنیا کی مخلوق امن میں رہے ۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
” دُعا میں خداتعالیٰ نے بڑی قوتیں رکھی ہیں۔ خدا نے مجھے بار بار الہامات کے ذریعہ یہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہوگا دُعا کے ذریعہ سے ہوگا ۔ ہمارا ہتھیار تو دعا ہی ہے اور اس کے سوا کوئی ہتھیار میرے پاس نہیں ہے۔ جو کچھ ہم پوشیدہ خدا سے مانگتے ہیں ۔ خدا اس کو ظاہر کرکے رکھ دیتا ہے۔ “
( سیرت حضرت مسیح موعود از یعقوب علی عرفانیؓ صفحہ 518)
حضور انور ایدہ اللہ نے امریکہ کے شہرزائن (Zion) میں مسجد فتح عظیم کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا :
’’آج سے ایک سو بیس سال پہلے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر جس جھوٹے دعویدار اور دشمنِ اسلام کی ہلاکت کی پیش گوئی آپؑ نے فرمائی تھی آج اس کے شہر میں جس کے بارے میں اس کا اعلان تھا کہ کوئی مسلمان یہاں داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ عیسائی نہیں ہو جاتا اللہ تعالیٰ نے جماعت کو مسجد بنانے کی توفیق دی۔
پس یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے کام۔ ایک ارب پتی اور دنیاوی جاہ و حشمت رکھنے والے کو اللہ تعالیٰ نے جھوٹا کر دیا، ختم کر دیا اور پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہنے والے اپنے فرستادے کا دعویٰ جو اسلام کی نشأة ثانیہ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ دنیا کے دو سو بیس ممالک میں گونجنے کے سامان پیدا کر دیے۔‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ 30ستمبر2022 ء)
کس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں نے آپؐ کے استیصال کے لئے منصوبے بنائے ۔ مکہ میں تیرہ برس تک وہ دکھ دیے جو ایک معمولی انسان کے تباہ کرنے کے لئے بہت کافی تھے۔ آخر کار مکہ سے آپؐ کو نکلنے پر مجبور کیا اور اپنے وطن سے بہت دور ایک بیگانہ سر زمین میں آپؐ پناہ گزیں ہوئے۔ عرب کی متفقہ قوموں نے اس نبی کے استیصال کے لئے بہت کوششیں کیں مگر وہ کامیاب ہوا اور ایسا کامیاب ہوا کہ اس کی کامیابی کی کوئی نظیردنیا میں نہیں ۔
مزید پڑھیںحضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ذات کے عاشق زار اور دیوانہ ہوئے اور پھر وہ پایا جو دنیا میں کبھی کسی کو نہیں ملا۔ آپؐ کو اللہ تعالیٰ سے اِس قدر محبت تھی کہ عام لوگ بھی کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ رَبَّہُ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ربّ پر عاشق ہوگیا ۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔“
(ملفوظات جلد 3صفحہ524)
حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
’’قرآن مجید نے جو لَا تَقْتُلُوْا اَوْلَادَکُمْ یعنی اپنی اولاد کو قتل نہ کرو ،کے الفاظ فرمائے ہیں اِن میں بھی اِسی حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ اگر تم اپنے بچوں کی عمدہ تربیت اور اچھی تعلیم کا خیال نہیں رکھو گے تو گویا اِنہیں قتل کرنے والے ٹھہرو گے۔‘‘
(چالیس جواہرپارے صفحہ نمبر 65)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”ہر شخص کی کوئی نہ کوئی جہت ہوتی ہے۔ یا ہر شخص کا کوئی نہ کوئی نصب العین ہوتا ہے جس پر وہ اپنی تمام توجہات کو مرکوز کردیتا ہے اور جسے زندگی بھر اپنے سامنے رکھتا ہے اور پورے انہماک اور توجہ سے اُسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر لوگ تو اپنے مقاصد اپنے لئے خود تجویز کرتے ہیں ۔ لیکن ہم اُمّت محمدیہ پر رحم کرتے ہوئے خود ہی ایک بلند ترین مطمح نظر اُس کے سامنے رکھتے ہیں اور ہدایت دیتے ہیں کہ فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ۔ تمہارا مطمح نظر یہ ہونا چاہئے کہ تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ اس جگہ نیکیوں میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے کی تحریک فرما کر اللہ تعالیٰ نے قومی ترقی کاایک عجیب گُر بتایا ہے۔ “
(تفسیر کبیر جلد 2صفحہ 253)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”استغفار کے حقیقی اور اصلی معنے یہ ہیں کہ خدا سے درخواست کرنا کہ بشریت کی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہو اور خدا فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے اور اپنی حمایت اور نصرت کے حلقہ کے اندر لے لے۔ یہ لفظ غَفْر سے لیا گیا ہے جو ڈھانکنے کو کہتے ہیں سو اس کے یہ معنے ہیں کہ خدا اپنی قوت کے ساتھ شخص مُسْتَغْفِرکی فطرتی کمزوری کو ڈھانک لے۔ لیکن بعداس کے عام لوگوں کے لئے اس لفظ کے معنے اور بھی وسیع کئے گئے اور یہ بھی مراد لیا گیا کہ خدا گناہ کو جو صادر ہو چکا ہے ڈھانک لے۔ لیکن اصل اور حقیقی معنی یہی ہیں کہ خدا اپنی خدائی کی طاقت کے ساتھ مستغفر کو جو استغفار کرتا ہے فطرتی کمزوری سے بچاوے اور اپنی طاقت سے طاقت بخشے اور اپنے علم سے علم عطا کرے اور اپنی روشنی سے روشنی دے۔“
(عصمتِ انبیاء علیھم السلام، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 671)
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِی قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ
( مشکوٰۃ کتاب الادب)
یعنی جس شخص کے دل میں ذرہ بھر تکبّر ہے وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’لوگوں کے لیے آسانی مہیا کرو- ان کے لیے مشکل پیدا نہ کرو اور اچھی خبر ہی دیا کرو اور لوگوں کومایوس نہ کرو‘‘
(مسلم کتاب الجھاد(