نظام وصیت۔روحانی،اخلاقی اور مادی ترقیات کا ذریعہ

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’جب وصیت کا نظام مکمل ہوگا تو صرف تبلیغ ہی اس سے نہ ہوگی بلکہ اسلام کے منشا کے ماتحت ہر فرد بشر کی ضرورت کو اس سے پورا کیا جائے گا اور دکھ اور تنگی کو دنیا سے مٹا دیا جائے گا انشاءاللہ۔ یتیم بھیک نہ مانگے گا ۔ بیوہ لوگوں کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے گی۔ بے سامان پریشان نہ پھرے گا کیونکہ وصیت بچوں کی ماں ہوگی ، جوانوں کی باپ ہوگی ،عورتوں کا سہاگ ہوگی اور جبر کے بغیر محبت اور دلی خوشی کے ساتھ بھائی بھائی کو اس کے ذریعے سے مدد کرے گا اور اس کا دینا بے بدلہ نہ ہوگا بلکہ ہر دینے والا خداتعالی ٰسے بہتر بدلہ پائے گا ۔ نہ امیر گھاٹے میں رہے گا نہ غریب، نہ قوم قوم سے لڑے گی بلکہ اس کا احسان سب دنیا پر وسیع ہوگا۔‘‘
( نظامِ نو صفحہ130)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی دعویٰ سے پہلے کی پاکیزہ اور مطہّر زندگی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’تم غور کرو کہ وہ شخص جو تمہیں اس سلسلہ کی طرف بلاتا ہے وہ کس درجہ کی معرفت کا آدمی ہے اور کس قدر دلائل پیش کرتا ہے اور تم کوئی عیب، افتراء یا جھوٹ یا دغا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے تا تم یہ خیال کرو کہ جو شخص پہلے سے جھوٹ اور افتراء کا عادی ہے یہ بھی اس نے جھوٹ بولا ہوگا۔ کون تم میں ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا ہے۔ پس یہ خدا کا فضل ہے کہ جو اُس نے ابتداء سے مجھے تقویٰ پر قائم رکھا اور سوچنے والوں کے لئے یہ ایک دلیل ہے۔‘‘
(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 64)

مزید پڑھیں

نظام وصیت اور صحابہ و تابعین مسیح موعودؑ کی قربانیاں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”عرصہ ہوا کہ خداتعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا تھا کہ ایک بہشتی مقبرہ ہو گا گویا اس مَیں وہ لوگ داخل ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے علم اور ارادہ میں جنتی ہوں گے۔ پھر اس کے متعلق الہام ہوا۔ اُنْزِلَ فِیْھَا کُلَّ رَحْمَۃٍ ۔ اس سے کوئی نعمت اور رحمت باہر نہیں رہتی۔ اب جو شخص چاہتا ہے کہ وہ ایسی رحمت کے نزول کی جگہ میں دفن ہو کیا عمدہ موقع ہے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کرے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کو اپنی مرضی پر مقدم کرے ۔ “
(ملفوظات جلد 5صفحہ 216)

مزید پڑھیں

بعثتِ مسیح موعود اور تبلیغ-حضرت مسیح موعودؑ کی تحریرات کی رو سے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
’’دعوت الی اللہ کریں۔ حکمت سے کریں، ایک تسلسل سے کریں، مستقل مزاجی سے کریں اور ٹھنڈے مزاج ے ساتھ، مستقل مزاجی کے ساتھ کرتے چلے جائیں۔ دوسرے کے جذبات کا بھی خیال رکھیں اور دلیل کے لئے ہمیشہ قرآن کریم اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابوں سے حوالے نکالیں۔ پھر ہر علم، عقل اور طبقے کے آدمی کے لئے اس کے مطابق بات کریں۔ خدا کے نام پر جب آپ نیک نیتی سے بات کر رہے ہوں گے تو اگلے کے بھی جذبات اَور ہوتے ہیں۔ نیک نیتی سے اللہ تعالیٰ کے نام پر کی گئی بات اثر کرتی ہے۔ ایک تکلیف سے ایک درد سے جب بات کی جاتی ہے تو وہ اثر کرتی ہے۔“
(خطبہ جمعہ فرمودہ8؍اکتوبر2004ء)

مزید پڑھیں

تبلیغ کے لیے حضرت مسیح موعودؑکی تحریرات کا خزانہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبییّن نہیں مانتے یہ ہم پر افترائے عظیم ہے۔ ہم جس قوّت ،یقین ، معرفت اور بصیرت سے آنحضرتؐ کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں اس کا لاکھواں حصہ بھی دوسرے لوگ نہیں مانتے اور ان کا ایسا ظرف بھی نہیں ہے۔ وہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء کی ختمِ نبوّت میں ہے سمجھتے ہی نہیں ہیں ، انہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سنا ہوا ہے مگر اس کی حقیقت سے بے خبر ہیں اور نہیں جانتے کہ ختم نبوّت کیا ہوتا ہے اور اس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا ہے ؟ مگر ہم بصیرتِ تامّ سے (جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ) آنحضرتؐ کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ہم پر ختمِ نبوّت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے کہ اس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذّت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا بجز ان لوگوں کے جو اِس چشمہ سے سیراب ہوں۔ ‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ342)

مزید پڑھیں
Quran book

تلاوتِ قرآنِ کریم کی اہمیت و برکات از روئے ارشادات حضرت مسیح موعودؑ

” پرستش کی جڑ تلاوتِ کلام الٰہی ہے۔ کیونکہ محبوب کا کلام اگر پڑھا جائے یا سنا جائے تو ضرور سچے محب کے لئے محبت انگیز ہوتا ہے اور شورشِ عشق پیدا کرتاہے۔“

مزید پڑھیں

خدائے رحمان کی وحی بابت مصلح موعود اور لیکھرام کی پیشگوئی کا محاکمہ

دونوں پیشگوئیوں کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ پنڈت لیکھرام مسلسل مرزا صاحب کی ذریت کے خاتمہ کی پیشگوئی کررہا ہے۔ جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ہاں جلیل۔القدر بیٹے کی پیدائش کی پیشگوئی کرتے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ لیکھرام سے اس کے خدا کی غیرت نے کیا سلوک کیا اور خداتعالیٰ کی تائید نے کس شان کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ساتھ دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی گئی آسمانی بشارتیں کس صفائی سے پوری ہوئیں

مزید پڑھیں