مکرمہ صاحبزادی امۃ الباسط صاحبہ المعروف بی بی باچھی

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ صاحبزادی امۃ الباسط صاحبہ کے بارے میں خطبہ جمعہ میں ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’خلافت سے بے انتہا محبت کا تعلق تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ ان کے چھوٹے بھائی تھے۔خلافت کے بعد وہ احترام دیا جو خلافت کا حق ہے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے جو دوسرے بہن بھائی ہیں انہوں نے ایک دفعہ باتوں میں اُن سے پوچھا کہ پہلے تو نام لیتے تھے اب ادب و احترام کے دائرے میں ان کو مخاطب کرنے یا اُن سے بات کرنے کے لیے آپ کس طرح اُن کو مخاطب کرتی ہیں ۔ تو کہنے لگیں کہ اب وہ خلیفۂ وقت ہیں ۔ مَیں تو خلیفہ وقت ہی کہتی ہوں تا کہ خلافت کا احترام قائم رہے اور ذاتی رشتوں پر خلافت کا رشتہ مقدم رہے ۔ میرے بارے میں کسی نے پوچھا کہ اب کس طرح مخاطب کریں گی تو فرمانے لگیں کہ میرے نزدیک خلافت کا رشتہ سب سے مقدم ہے۔ جس طرح حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتی تھی اسی طرح ان کو مخاطب کروں گی۔ خلافت کے بعد اپنی خالاؤں میں میری سب سے پہلی ملاقات شایدان سے ہوئی اور ان کی آنکھوں میں، الفاظ میں، بات چیت میں جو فوری غیر معمولی احترام مَیں نے دیکھا وہ حیران کن تھا۔ “
( خطبہ جمعہ یکم ستمبر2006ء )

مزید پڑھیں

حضرت صاحبزادی امۃالسلام صاحبہؓ

حضرت صاحبزادی امۃالسلام صاحبہؓ کی پیدائش حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہوئی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپؓ کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اور اپنی شہادت کی انگلی سے اپنی پیاری پوتی کو شہد چٹاکر گھٹی دی۔ حضورؑنے ہی آپ کانام امۃالسلام رکھا۔ حضرت مسیح موعودؑ جب حضرت اماں جانؓ کے پاس بیٹھے ہوتے تو حضرت اماں جانؓ بعض اوقات حضورؑ کی گود میں پوتی دے دیتیں۔ آپؑ اپنے بازومیں پوتی لے کر بہت خوش ہوتے اور زیرِلب بچی کے لیے دعائیں کرتے۔

مزید پڑھیں

حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’ خلیفہ وقت ہی مرکز سلسلہ میں امیر مقامی ہوتا ہے لیکن ربوہ سے میری ہجرت کے بعد میرے حکم سے حضرت مرزا منصور احمد صاحب کو ربوہ کا امیر مقامی مقرر کیا گیا ۔ اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نمائندگی میں میری طرف سے حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ کے بیٹے کو اپنی جگہ بٹھانا واقعاتی لحاظ سے ثابت کر رہا ہے کہ یہ دونوں الہامات یعنی ’’ اب تو ہماری جگہ بیٹھ اور ہم چلتے ہیں ‘‘ اور اَمَّرَہُ اللّٰہُ علیٰ خِلَافِ التَّوَقُّعِ ‘‘ نہایت صفائی کے ساتھ حضرت مرزا منصور احمد صاحب کی ذات میں پورے ہوئے ہیں ۔ ‘‘

مزید پڑھیں

سیرت حضرت میر محمد اسحٰاق صاحب رضی اللہ عنہ

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے حضرت میر محمد اسحٰاق صاحب رضی اللہ عنہ کی وفات پرفرمایا :
’’ میر محمد اسحٰق صاحب خدمتِ سلسلہ کے لحاظ سے غیر معمولی وجود تھے ۔ در حقیقت میرے بعد علمی لحاظ سے جماعت کا فکر انہی کو رہتا تھا ۔ وہ رات دن قرآن و حدیث پڑھانے میں لگے رہتے تھے ۔ زندگی کے اس آخری دَور میں کئی مرتبہ موت کے منہ سے بچے ۔ میر صاحب کی وفات سلسلہ کا نقصان ہے اور اتنا بڑا نقصان ہے کہ بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ اس نقصان کا پورا کرنا آسان نہیں ۔ ‘‘
(الفضل 19مارچ1944ء )

مزید پڑھیں

حضرت چراغ بی بی صاحبہ والدہ ماجدہ حضرت مسیح موعودؑ

حضرت چراغ بی بی صاحبہ ایک دور اندیش اور معاملہ فہم خاتون تھیں ۔ اپنے خاوند حضرت مرزا غلام مرتضٰی صاحب کے لیے ایک بہترین مشیراور آپ کی غمگسار تھیں ۔ حضرت غلام مرتضٰی صاحب آپ کی باتوں کی بہت احساس کیا کرتے تھے اور ان کی مرضی کے خلاف گھر کے معاملات میں دخل نہیں کرتے تھے ۔

مزید پڑھیں

حضرت مرزاغلام مرتضیٰ صاحب والدِ ماجد حضرت مسیح موعودؑ

حضرت مرزاغلام مرتضیٰ صاحب ایک عالم بھی تھے اور علم دوست بھی ، کتب خانہ کا خاص طور پر شوق تھا اور بہت سی کتابیں آپ کے کتب خانہ میں موجود تھیں۔آپ کی ایک بہت بڑی لائبریری تھی۔ اپنی اولادکو بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ وپیراستہ کرنے کا ازحدخیال تھا۔

مزید پڑھیں

چھوٹی چیزیں، بڑے نتائج(حضرت مسیح موعودؑ کے کلمات کی روشنی میں)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” جو شخص پورے طور پر اطاعت نہیں کرتا وہ اس سلسلہ کو بد نام کرتا ہے۔“
(ملفوظات جلد4 صفحہ73 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی نظر میں حضرت امام حسینؓ کا مقام ومرتبہ

پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت علیؓ اور حضرت حسینؓ سے اپنی ایک مناسبت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
’’مجھے حضرت علیؓ اور حضرت حسینؓ کے ساتھ ایک لطیف مناسبت ہے اور اس مناسبت کی حقیقت کو مشرق و مغرب کے ربّ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور مَیں حضرت علیؓ اور آپ کے دونوں بیٹوں سے محبت کرتا ہوں اور جواُن سے عداوت رکھے اس سے مَیں عداوت رکھتا ہوں‘‘
(سرالخلافۃ اُردو ترجمہ صفحہ112)

مزید پڑھیں

مالی قربانی کی اہمیت از ارشادات خلفائے حضرت مسیح موعودؑ

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کےذریعہ جماعت احمدیہ میں نظام وصیت قائم کیا۔ نظام وصیت ایک عظیم نظام ہے۔ ہر پہلو کے لحاظ سے۔ نظام وصیت کے ذریعہ یہ کوشش کی گئی ہے کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے جو ممبر ہیں یا داخل ہیں سلسلہ عالیہ احمدیہ میں ان میں سے ایک گروہ ایسا ہو جو اسلامی تعلیم کی روح سے ذمہ داریوں کو اس قدر توجہ اور قربانی سے ادا کرنے والا ہو کہ ان میں اور دوسرے گروہ میں ایک مابہ الامتیاز پیدا ہو جائے۔ نظام وصیت صرف 1/10 ما لی قربانی کا نام نہیں ہے۔ یہ نظام ہے زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمانی رفعتوں تک پہنچانے کا۔‘‘
(خطبہ جمعہ 30 اپریل 1982ء)

مزید پڑھیں

مالی قر بانی کی ترغیب (از ارشادات حضرت مسیح موعودؑ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”یہ ظاہر ہے کہ تم دو چیز سے محبت نہیں کر سکتے اور تمہارے لئے ممکن نہیں۔ کہ مال سے بھی محبت کرو اور خدا سے بھی۔ صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو۔ پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ جو خدا سے محبت کرے اور ا گر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کرکے اس کی راہ میں مال خر چ کرے گا۔ تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی ۔ کیونکہ مال خودبخود نہیں آتا ۔ بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔ پس جو شخص خدا کیلئے بعض حصہ مال کا چھوڑتا ہے۔ وہ ضرور اسے پائے گا۔ “
(مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ497-498)

مزید پڑھیں