نَونِہالانِ جماعت
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ
بہادر وہ نہیں جو کُشتی میں کسی کو بچھاڑے مگر بہادر وہ ہے جو غصّہ پر قابو کرے۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ
بہادر وہ نہیں جو کُشتی میں کسی کو بچھاڑے مگر بہادر وہ ہے جو غصّہ پر قابو کرے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ
’’آج کل دنیا میں یہی حالات ہیں۔ کاروباروں میں بدعہدی ہے۔ روزمرہ کے معاملات میں بدعہدی ہے۔ قومی سطح پر اتنی بدعہدی ہے کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ایک تجارت کا معاہدہ کرتے ہیں اور اس میں اتنی خیانت اور بدعہدی ہے کہ تصور سے باہر ہے۔ کسی نے مجھے بتایا بلکہ ایک کاروبار کرنے والے نے ہی بتایا کہ پاکستان سے ہم جواچھا باسمتی چاول دنیا کو بھیجتے ہیں اُس کے درمیان میں ہم نے ایک ایسا طریقہ رکھا ہوا ہے جس میں اِری جو باسمتی چاول نہیں ہوتا، موٹے چاول کی ایک قسم ہے لیکن اتنا موٹا بھی نہیں ہوتا‘ وہ اس طریقے سے ڈالتے ہیں کہ کسی کو پتہ بھی نہ چلے اور یہ کوئی پرواہ نہیں کہ اگر پتہ لگ جاتا ہے تو اس سے ان کی تجارت پر بھی اثر پڑے گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک کی بدنامی ہو گی۔ پھر اسی طرح اور بہت سے کام ہیں جو کئے جاتے ہیں۔ یعنی یہ صرف بدعہدی نہیں ہے بلکہ خیانت بھی ہے، جھوٹ بھی ہے۔ صرف چار پیسے کمانے کے لئے یہ بد عہدی کر رہے ہوتے ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ 4 فروری 2011ء)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”اولاد کی خواہش تو لوگ بڑی کرتے ہیں اور اولاد ہوتی بھی ہے مگر یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ وہ اولاد کی تربیت اور ان کو عمدہ اور نیک چلن بنانے اور خدا تعالی کے فرمانبردار بنانے کی سعی اور فکر کریں، نہ کبھی ان کے لئے دعا کرتے ہیں اور نہ مراتبِ تربیت کو مدنظر رکھتے ہیں۔ میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں مَیں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا۔ بہت سے والدین ایسے ہیں جو اپنی اولاد کو بُری عادتیں سکھا دیتے ہیں ابتداء میں جب وہ بدی کرنا سیکھنے لگتے ہیں۔ تو ان کو تنبیہہ نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دِ ن بدن دلیر اور بے باک ہوتے جاتے ہیں۔“
(ملفو ظات جلد اوّل صفحہ 562 )
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” صحابیات نے جو قربانیاں کیں آج تک دنیا کے پردے پر اُس کی مثال نہیں ملتی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ جنگ کے لئے جانے لگے تو ایک صحابیہ بھی لشکر میں آشامل ہوئی، جب صحابہؓ نے اُس کو منع کیا تو اُس عورت نے کہا کیوں! ہم کیوں نہ جائیں۔ کیا ہم پر اسلام کی خدمت فرض نہیں؟ اس کا یہ جواب سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایااسے بھی ساتھ لے چلو اور زخمیوں کو پانی پلانے اور اُن کی مرہم پٹی کرنے کا کام اُس کے سپرد کر دیا…اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھاکہ جب آپ جنگ کے لئے جاتے تو کچھ عورتوں کو بھی ساتھ لے جاتے جو نرسنگ کا کام کرتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتیں۔ اکثر دفعہ آپؐ کی بیویاں بھی جنگ میں شامل ہوتیں اور نرسنگ کا کام کرتیں۔ جنگِ اُحد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہؓ بھی شامل تھیں۔ کوئی جنگ ایسی نہیں جس میں صحابیات پیچھے رہی ہوں۔“
(فریضۂ تبلیغ، انوارالعلوم جلد18صفحہ 400-403)
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے اطفال سے مخاطب ہوکر فرمایا:
”الہٰی سلسلہ کے بچے فقید المثال ہوتے ہیں۔ آپ لوگ اسلام کے بچے ہیں ۔ مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے بچے ہیں۔جسمانی لحاظ سے ماں باپ والدین ہیں ۔ مگر روحانی لحاظ سے مسیح موعودؑ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آپ منسوب ہوتے ہیں ۔اگر تم حقیقی احمدی بن جاؤ تو دنیا میں کوئی بھی تمہارا مقابلہ نہیں کر سکے گا اور دنیا ہمیشہ تمہیں یاد رکھے گی ۔“
”مشاہدات“ کے قارئین کے لیے یہ امر خوشی کا باعث ہوگا کہ لجنہ اماء اللہ کی 100 تقاریر اور مجلس انصاراللہ سے متعلقہ 65 تقاریر کے مجموعوں کے بعد مجلس خدام الاحمدیہ کے لیے 70 تقاریر کا مجموعہ پیش ہے۔ یہ مجموعی طور پر ادارہ ”مشاہدات“ کا 13واں مجموعہ ہے اور یوں ان 13 مجموعوں میں مجموعی طور پر 557 تقاریرکو سمو دیا گیا ہے۔ بعض تقاریر ایک سے زائد مجموعوں میں دو بار بھی آئیں ہیں جبکہ کل تقاریر کی تعداد 550 کے فگر کو چھو رہی ہے ۔الحمدللّٰہ رب العالمین
مزید پڑھیںحضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
’’ میں نے متواتر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی نئی نسلیں جب تک اس دین اور ان اصول کی حامل نہ ہو ں جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے نبی اور ماموردنیا میں قائم کرتے ہیں اس وقت تک اس سلسلہ کی ترقی کی طرف کبھی بھی صحیح معنوں میں قدم نہیں اٹھ سکتا ۔‘‘
)الفضل 10؍اپریل 1938ء(
مصنف نے کتاب ‘مشاہدات’ کی نویں جلد پیش کی، جس میں جماعت کے مقاصد کے مطابق مختلف عنوانات پر تقاریر شامل ہیں۔ یہ جلد خاص طور پر مجلس انصاراللہ اور خدام بھائیوں کی تعلیم وتربیت کے لئے تصنیف کی گئی ہے۔ کتاب میں شامل تقاریر کو مختلف عناوین سے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیںحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
” چندہ دینے والے یہ سوچیں کہ خداتعالیٰ کا اُن پراحسان ہے کہ اُن کو چندہ دینے کی توفیق دے رہا ہے، نہ کہ یہ احسان کسی شخص کا، اللہ تعالیٰ پر یا اللہ تعالیٰ کی جماعت پر ہے کہ وہ اُسے چندہ دے رہے ہیں۔ پس ہر چندہ دینے والے کو یہ سوچ رکھنی چاہئے کہ وہ چندے دے کر خداتعالیٰ کے فضلوں کے وارث بننے کی کوشش کررہا ہے۔ “
(خطبہ جمعہ 31 مارچ 2006ء)
یومِ مادر (مدرڈے) منانے کے حوالہ سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
”ٹھیک ہے تحفے بے شک لے لیا کرو لیکن اسلام تو کہتا ہے کہ ہر دن مدر ڈے ہے تم ہر روز مدرڈے مناؤ۔ مَیں نے یہاں ایک د فعہ لندن میں ایک فنکشن تھا۔ مسجد کا افتتاح تھا ۔ انگریز آئے ہوئے تھے ۔ اُس دن مدر ڈے تھا اُن کو مَیں نے یہی کہا تھا کہ تمہارا مدر ڈے آج ہے اسلام تو ہر روزکو مدر ڈے کہتا ہے۔ والدین کی عزت کرو، اُن سے حسن سلوک کرو۔ اُن کو اُف نہ کہو اُن کی خدمت کرو ۔ تحفہ روز دو ماں باپ کو اگر تمہیں توفیق ہے تو“