حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5 ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ کہتے ہیں ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں جلا دینے کی کوشش کی گئی اس وقت اُن کے پاس فرشتے آئے اور کہا کہ تمہیں کوئی حاجت ہے تو ابراہیم علیہ السلام نے ان کو یہی جواب دیا ۔ بلٰی وَلٰکِنْ اِلَیْکُمْ فَلَا۔ یعنی ہاں حاجت تو ہے لیکن تمہاری طرف نہیں۔ ایسے مقام پر دعا بھی منع ہوتی ہے اور انبیاء علیہم السلام اس مقام کو خوب سمجھتےہیں۔
گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی
غرض اصل غرض انسان کی محبت ذاتی ہونی چاہیے۔ اس سے جو کچھ اطاعت اور عبادت ہوگی وہ اعلیٰ درجہ کے نتائج اپنے ساتھ رکھے گی۔ ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے مبارک بندے ہوتے ہیں وہ جس گھر میں ہوں وہ گھر مبارک اور جس شہر میں ہوں وہ شہر مبارک۔ اس کی برکت سے بہت سی بلائیں دور ہو جاتی ہیں اس کی ہر حرکت و سکون، اُس کے در و دیوار پر خدا کی برکت اور رحمت نازل ہوتی ہے ۔ مَیں اسی راہ کو سکھانا چاہتا ہوں اسی غرض کے لیے خدا تعالیٰ نے مجھے مامور کیا ہے ۔‘‘
( ملفوظات جلد5 صفحہ 108)
