خلفاء کرام کی خدام الاحمدیہ سے توقعات

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
’’ میں نے متواتر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی نئی نسلیں جب تک اس دین اور ان اصول کی حامل نہ ہو ں جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے نبی اور ماموردنیا میں قائم کرتے ہیں اس وقت تک اس سلسلہ کی ترقی کی طرف کبھی بھی صحیح معنوں میں قدم نہیں اٹھ سکتا ۔‘‘
)الفضل 10؍اپریل 1938ء(

مزید پڑھیں
brown and black hardbound book

تلاوت قرآن کریم کی اہمیت و برکات(ارشادات خلفائے احمدیت کی روشنی میں)

حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”قرآن کریم پڑھنے کے بعد سوچنے کی عادت ڈالو اور سوچنے کے بعد اس پر عمل کرو۔اگر تم ایسا کروگے تو ایک زندہ فعال قوم نظر آنے لگ جاؤ گے۔ “
(تفسیر کبیر جلد 7 صفحہ 640 )

مزید پڑھیں

مالی قر بانی کی اہمیت ارشادات حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی روشنی میں

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”تم یہ مت سمجھو کہ تمہارے مال ضائع جاتے ہیں ایک ایک پائی جو تم دیتے ہو خدا کے بنک میں جمع ہورہی ہے جو سُود دَرسُود کے ساتھ تمہیں ملے گی۔ پس ڈرو نہیں اور گھبراؤ نہیں وہ دن قریب ہیں بلکہ دروازہ پر ہیں جب مُلک تم کو دیئے جائیں گے اور بادشاہ سلسلہ میں داخل ہوں گے ۔ “
(انوارالعلوم ، جلد 14صفحہ 39)

مزید پڑھیں

مالی قربانی کی اہمیت(ازارشادات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ)

حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
”یہ بھی یاد رکھو کہ جو تم خرچ کرتے ہو اور جتنا تم بجٹ لکھواتے ہو اور جتنی تمہاری آمد ہے یہ سب اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ اس لئے اس سے معاملہ ہمیشہ صاف رکھو۔نیکی کا ثواب اللہ تعالیٰ سے حاصل کرنے کے لئے اپنی تشخیص بھی صحیح کرواؤ اور ادائیگیاں بھی صحیح رکھو تاکہ تمہاری روحانی حالت بھی بہتر ہو اور تم نیکیوں میں ترقی.کرسکو۔“
(خطبہ جمعہ 28 مئی 2004ء)

مزید پڑھیں

خلافتِ رابعہ اور استحکامِ خلافت

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ ربوہ کی ایک ایک گلی گواہ ہے بڑے سے بڑا ابتلا جو ممکن ہو سکتا تھا ، تصور میں آسکتا تھا وہ آیا اور گزر گیا اور کوئی زخم نہیں پہنچا سکا جماعت کو اور انتہائی وفا کے ساتھ کامل صبر کے ساتھ ساتھ جماعت اس عہد پر قائم رہی کہ ہم خلافت احمدیہ سے وابستہ رہیں گے اور اس کی خاطر اپنا سب کچھ لٹا دینے کے لیے تیار ہوں گے ۔‘‘
(خطباتِ طاہر جلد اوّل صفحہ17)

مزید پڑھیں

خلافتِ ثالثہ اور استحکامِ خلافت

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’جس خلافت کے گرد خدا تعالیٰ کی مدد اور اس کی نصرت پہرہ دے رہی ہے، اس خلافت کے قلعے پر تو تمہاری لات اگر پڑے گی تو تمہاری ہڈیا ں بھی اِس طرح چُورچُور ہوجائیں گی کہ اُن کے ذرے بھی دنیا کو نظر نہیں آئی گے‘‘
(خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ10مارچ 1972ء)

مزید پڑھیں

خلافت اولیٰ اور استحکام خلافت

’’میں نے تمہیں بارہا کہا ہے اور قرآنِ مجید سے دکھایا ہے کہ خلیفہ بنانا انسان کا کام نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔آدم کو خلیفہ بنایا کس نے؟ اللہ تعالیٰ نےفرمایا۔ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً …. جس طرح آدم وداؤداور ابوبکر وعمرکو اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے اگر کوئی کہے کہ انجمن نے خلیفہ بنایا ہے تو وہ جھوٹا ہے اس قسم کے خیالات ہلاکت کی حد تک پہنچاتے ہیں۔تم ان سے بچو۔‘‘

مزید پڑھیں

تاخلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استوار

جناب واصف علی واصف یا الہٰی! یا الہٰی! کے زیر عنوان اللہ تعالیٰ سے التجا کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’ یا الہٰی! ہمیں لیڈروں کی یلغار سے بچا۔ہمیں ایک قائد عطا فرما، ایسا قائد جو تیرے حبیب کے تابع فرمان ہو…..اس کی اطاعت کریں تو تیری اطاعت کے حقوق ادا ہوتےرہیں۔ ‘‘
(روزنامہ نوائے وقت لاہور 26 ستمبر1991ء)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑاورخلفاء کےجماعت پراحسانات

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
” دنیا کا کوئی ملک نہیں جہاں رات سونے سے پہلے چشم تصور میں مَیں نہ پہنچتا ہوں اور ان کے لئے سوتے وقت بھی اور جاگتے وقت بھی دعا نہ ہو۔ یہ مَیں باتیں اس لئے نہیں بتا رہا کہ کوئی احسان ہے۔ یہ میرا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ اس سے بڑھ کر مَیں فرض ادا کرنے والا بنوں۔“
(خطبہ جمعہ فرمودہ 6؍جون 2014ء)

مزید پڑھیں

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ(سیرت و سوانح)

حضرت اُمّ طاہرؓ ہروقت کے لیے خود بھی دعا کرتیں اور دوسروں سے یہ دعا کرواتیں کہ
’ ’میرا ایک ہی بیٹا ہے، خدا کرے یہ خادم دین ہو۔ مَیں نے اسے خدا کے راستہ میں وقف کیا ہے‘۔ پھر آنسوؤں کے ساتھ یہ جملے بار بار دہراتیں کہ خدایا ! میرا طاری تیرا پرستار ہو، یہ عابدو زاہد ہو، اسے خادم دین بنائیو! اسے اپنے عشق اور حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق اور حضرت مسیح موعودؑ کے عشق میں سرشار کرنا۔‘‘
( سیرت حضرت اُم طاہرؓ از ملک صلاح الدین صفحہ 224 )

مزید پڑھیں