کشتی نوح میں درج نصائح کو روزانہ ایک بار پڑھ لیا کرو ( تقریر نمبر 2)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’کشتی نوح میں مَیں نے اپنی تعلیم لکھ دی ہے اور اس سے ہر ایک شخص کو آگاہ ہونا ضروری ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ203)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’کشتی نوح میں مَیں نے اپنی تعلیم لکھ دی ہے اور اس سے ہر ایک شخص کو آگاہ ہونا ضروری ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ203)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”مَیں نے بارہا اپنی جماعت کو کہا ہے کہ تم نِرے اس بیعت پر ہی بھروسہ نہ کرنا۔اس کی حقیقت تک جب تک نہ پہنچو گے تب تک نجات نہیں۔ قشر پر صبر کرنے والا مغز سے محروم ہوتا ہے اگر مرید خود عامل نہیں تو پیر کی بزرگی اُسے کچھ فائدہ نہیں دیتی۔ جب کوئی طبیب کسی کو نسخہ دیوے اور وہ نسخہ لے کر طاق میں رکھ دیوے تو اُسے ہرگز فائدہ نہ ہوگا کیونکہ فائدہ تو اس پر لکھے ہوئے عمل کا نتیجہ تھا۔ جس سے وہ خود محروم ہے کشتی نوح کو بار بار مطالعہ کرو اور اس کے مطابق اپنے آپ کوبناؤ۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ404)
حضرت مسیح موعود علیہ السلا م فرماتے ہیں۔
” صالح آدمی کا اثر اس کی ذریت پر بھی پڑتا ہے اور وہ بھی اِس سے فائدہ اٹھاتی ہے… حضرت داؤد علیہ السلام نے کہا ہے کہ مَیں بچہ تھا بوڑھا ہوامَیں نے کسی خدا پرست کو ذلیل حالت میں نہیں دیکھا اور نہ اُس کے لڑکوں کو دیکھا کہ وہ ٹکڑے مانگتے ہوں۔گویا متقی کی اولاد کا بھی خدا تعالیٰ ذمہ دار ہوتا ہے، لیکن حدیث میں آیا ہے ظالم اپنے اہل و عیال پر بھی ظلم کرتا ہے کیونکہ ان پراس کا بد اثر پڑتا ہے۔“
(ملفوظات جلد اول صفحہ 117۔ 118 )
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
’’اپنے نفس پر اتنا قابو رکھتا ہوں اور خدا تعالیٰ نے میرے نفس کو ایسا مسلمان بنایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سال بھر میرے سامنے بیٹھ کر میرے نفس کو گندی سے گندی گالی دیتا رہے، آخر وہی شرمندہ ہو گا۔ اور اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ میرے پاؤں جگہ سے اکھاڑ نہ سکا۔‘‘
)سیرت حضرت مسیح موعودؑ از مولانا عبدالکریمؓ سیالکوٹی صفحہ51۔52(
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” جس شخص کے گھر بیٹی پیدا ہو اوروہ اُسے زندہ درگور کرے نہ اسے ذلیل کرے اور نہ بیٹے کو اِس پر ترجیح دے ۔اللہ تعالیٰ اُسے جنت میں داخل کرے گا۔“
(مسنداحمد جلد1صفحہ223)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
” نماز، دعا ہی کا نام ہے ۔اس لیے اس میں دعا کرو کہ وہ تم کو دنیا اور آخرت کی آفتوں سے بچاوے اور خاتمہ بالخیر ہو۔“
( ملفوظات جلد 3 صفحہ 435 )
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
انسان جتنی زیادہ کوئی تواضع اور خاکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُتنا ہی اُسے بلند مرتبہ عطا کرتا ہے۔
(مسلم کتاب البرّ والصلۃ)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اگر تم خدا کے ہو جاؤ گے تو یقیناً سمجھو کہ خدا تمہارا ہی ہے۔ تم سوئے ہوئے ہو گے اور خدا تعالیٰ تمہارے لئے جاگے گا،تم دشمن سے غافل ہوگے اورخدا اُسے دیکھے گا اوراُس کے منصوبے کو توڑے گا۔تم ابھی تک نہیں جانتے کہ تمہارے خدا میں کیا کیا قدرتیں ہیں۔“
(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19صفحہ22)
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ میں رمضان کی اہمیت و برکات کاذکر فرمایا:
” یہ ایسا مہینہ ہے جس کی ابتداء نزول رحمت ہے اور جس کا وسط مغفرت کا وقت ہے اورجس کا آخر کامل اجر پانے یعنی آگ سے آزادی کا زمانہ ہے اور جو شخص اس مہینے میں اپنے مزدور یا خادم سے اس کے کام کا بوجھ ہلکا کرتا ہے اور کم خدمت لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی بخش دے گا اور اسے آگ سے آزاد کردے گا‘‘
(مشکوٰۃ کتاب الصوم۔ الفصل الثالث)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَیسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ یَرحَمْ صَغِیرَنَا وَ یَعرِفْ حَقَّ کَبِیرِنَا
(الادب المفرد للبخاری باب رحمۃ الصغیر)
کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو چھوٹوں سے رحم کا سلوک نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کے حقوق کا پاس نہیں کرتا۔