آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں احترامِ انسانیت، شرفِ انسانیت اور خدمتِ انسانیت

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
”یہ مومن کا کام ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کو جب پڑھے، آپ کے اُسوۂ حسنہ کو جب دیکھے تو جہاں اس پر عمل کرنے اور اسے اپنانے کی کوشش کرے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجے کہ اس محسنِ اعظم نے ہم پر کتنا عظیم احسان کیا ہے کہ زندگی کے ہر پہلو کو خدا تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق عمل کرکے دکھا کر اور ہمیں اس کے مطابق عمل کرنے کا کہہ کر خدا تعالیٰ سے ملنے کے راستوں کی طرف ہماری رہنمائی کر دی۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے معیار حاصل کرنے کے راستے دکھا دئیے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا حق ادا کرنے کی ذمہ داری کا احساس مومنین میں پیدا کیا جس سے ایک مومن خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتا ہے۔ یہ سب باتیں تقاضا کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجتے ہوئے ہم دنیا کو بھی اس تعلیم اور آپ کے اُسوہ سے آگاہ کریں۔ آپ کے حسن و احسان سے دنیا کو آگاہ کریں۔ جب بھی غیروں کے سامنے آپ کی سیرت کے پہلو آئے تو وہ لوگ جو ذرا بھی دل میں انصاف کی رمق رکھتے تھے، وہ باوجود اختلافات کے آپ کی سیرت کے حسین پہلوؤں کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکے۔“
(خطبہ جمعہ 5؍ اکتوبر 2012ء)

مزید پڑھیں

احترامِ انسانیت، خدمتِ انسانیت  اور شرفِ انسانیت (از روئے قرآنِ کریم)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”مسلمانوں کے سب سے بہتر ہونے کی یہ وجہ ہے کہ انہیں اپنے فائدہ کی بجائے سب دنیا کے فائدہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ کاش! مسلمان اس حکمت کو سمجھیں اور اس طرح ذلیل نہ ہوں۔ “
( تفسیر صغیر سورۃ آل عمران ۔ حاشیہ آیت 111)

مزید پڑھیں

قُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیْداً (خلاصہ خطبہ جمعہ حضورِ انورایدہ اللہ فرمودہ 21؍ جون 2013ء ) ( تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’انسان کو دقائق تقویٰ کی رعایت رکھنی چاہئے۔ سلامتی اسی میں ہے کہ اگر چھوٹی چھوٹی باتوں کی پروا نہ کرے تو پھر ایک دن وہی چھوٹی چھوٹی باتیں کبائر کا مرتکب بنادیں.گی اور طبیعت میں کسل اور لاپروائی پیدا ہوکرہلاک ہو جائے گا ۔ تم اپنے زیرِ نظر تقویٰ کے اعلیٰ مدارج کو حاصل کرنا رکھو اور اس کے لئے دقائقِ تقویٰ کی رعایت ضروری ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 4 صفحہ 442 ایڈیشن 2003ء)

مزید پڑھیں

قُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِیۡدًا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام قولِ سدید کی تشریح میں فرماتے ہیںکہ
’’وہ بات منہ پر لاؤ جو بالکل راست اور نہایت معقولیت میں ہو اور لغو اور فضول اور جھوٹ کا اس میں سرِمُو دخل نہ ہو۔‘‘
(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد1صفحہ209-210حاشیہ نمبر11)

مزید پڑھیں

معاشرتی اور اخلاقی زوال کے اسباب

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ
’’آج کل دنیا میں یہی حالات ہیں۔ کاروباروں میں بدعہدی ہے۔ روزمرہ کے معاملات میں بدعہدی ہے۔ قومی سطح پر اتنی بدعہدی ہے کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ایک تجارت کا معاہدہ کرتے ہیں اور اس میں اتنی خیانت اور بدعہدی ہے کہ تصور سے باہر ہے۔ کسی نے مجھے بتایا بلکہ ایک کاروبار کرنے والے نے ہی بتایا کہ پاکستان سے ہم جواچھا باسمتی چاول دنیا کو بھیجتے ہیں اُس کے درمیان میں ہم نے ایک ایسا طریقہ رکھا ہوا ہے جس میں اِری جو باسمتی چاول نہیں ہوتا، موٹے چاول کی ایک قسم ہے لیکن اتنا موٹا بھی نہیں ہوتا‘ وہ اس طریقے سے ڈالتے ہیں کہ کسی کو پتہ بھی نہ چلے اور یہ کوئی پرواہ نہیں کہ اگر پتہ لگ جاتا ہے تو اس سے ان کی تجارت پر بھی اثر پڑے گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک کی بدنامی ہو گی۔ پھر اسی طرح اور بہت سے کام ہیں جو کئے جاتے ہیں۔ یعنی یہ صرف بدعہدی نہیں ہے بلکہ خیانت بھی ہے، جھوٹ بھی ہے۔ صرف چار پیسے کمانے کے لئے یہ بد عہدی کر رہے ہوتے ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ 4 فروری 2011ء)

مزید پڑھیں

اِسۡتِیۡنَاس کیا ہے اور اس کے آداب

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :
” دوسرے گھروں میں وحشیوں کی طرح خود بخود بے اجازت نہ چلے جاؤ۔ اجازت لینا شرط ہے اور جب تم دوسروں کے گھروں میں جاؤ تو داخل ہوتے ہی السلام علیکم کہو اور اگر ان گھروں میں کوئی نہ ہو تو جب تک کوئی مالک خانہ تمہیں اجازت نہ دے اُن گھروں میں مت جاؤ اور اگر مالک خانہ یہ کہے کہ واپس چلے جاؤ توتم واپس چلےجاؤ۔“
( اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 336)

مزید پڑھیں

آج کا نوجوان  بطور ایک اُمید  کے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”اولاد کی خواہش تو لوگ بڑی کرتے ہیں اور اولاد ہوتی بھی ہے مگر یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ وہ اولاد کی تربیت اور ان کو عمدہ اور نیک چلن بنانے اور خدا تعالی کے فرمانبردار بنانے کی سعی اور فکر کریں، نہ کبھی ان کے لئے دعا کرتے ہیں اور نہ مراتبِ تربیت کو مدنظر رکھتے ہیں۔ میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں مَیں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا۔ بہت سے والدین ایسے ہیں جو اپنی اولاد کو بُری عادتیں سکھا دیتے ہیں ابتداء میں جب وہ بدی کرنا سیکھنے لگتے ہیں۔ تو ان کو تنبیہہ نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دِ ن بدن دلیر اور بے باک ہوتے جاتے ہیں۔“
(ملفو ظات جلد اوّل صفحہ 562 )

مزید پڑھیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ پس (اے جنّ و اِنس!) تم دونوں اپنے ربّ کی کس کس نعمت کا انکار کروگے

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا بِشَیْئٍ مِنْ نِعْمَکَ رَبَّنَا نُکَذَّبُ فَلَکَ الْحَمْد
اے ہمارے ربّ! ہم تیری کسی بھی نعمت کا انکار نہیں کرتے۔ پس سب تعریف تیرے لیے ہے۔

مزید پڑھیں

جماعت احمدیہ کی صحافت اور روایتی صحافت میں فرق

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
” اِس زمانہ میں خداتعالیٰ نے چاہا کہ سیف یعنی تلوار کا کام قلم سے لیا جائے اور تحریر سے مقابلہ کر کے مخالفوں کو پست کیاجائے۔ اس وقت جو ضرورت ہے و ہ یقیناً سمجھ لو سیف کی نہیں قلم کی ہے۔“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ59)

مزید پڑھیں

صحافت اور ذرائع اِبلاغ کی ضرورت اور اہمیت

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’اخبار قوم کی زندگی کی علامت ہوتا ہے۔ جو قوم زندہ رہنا چاہتی ہے۔ اسے اخبار کو زندہ رکھنا چاہئے اور اپنے اخبار کے مطالعہ کی عادت ڈالنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ آپ کو ان امور پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔‘‘
(الفضل 31دسمبر 1954ء)

مزید پڑھیں