حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے بڑھ کر کوئی نہیں ہو سکتا مگر تاہم آپؐ کی بیویاں سب کام کر لیا کرتی تھیں ۔جھاڑو بھی دے لیا کرتی تھیں اور ساتھ اس کے عبادت بھی کرتی تھیں۔ چنانچہ ایک بیوی نے اپنی حفاظت کے واسطے ایک رسا لٹکا رکھا تھا کہ عبادت میں اُونگھ نہ آئے۔ عورتوں کے لیے ایک ٹکڑا عبادت کا خاوندوں کا حق ادا کرنا ہے اور ایک ٹکڑا عبادت کا خدا کا شکر بجا لانا ہے۔ خدا کا شکر کرنا اور خدا کی تعریف کرنی یہ بھی عبادت ہے اور دوسرا ٹکڑا عبادت کا نماز کو ادا کرنا ہے ۔“
( ملفوظات جلد6 صفحہ53)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ ہر ایک شۓ کی ایک اُمّ ہوتی ہے ۔ مَیں نے سوچا کہ جو انعامات ہیں اُن کی اُمّ کیا ہے ؟ خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ اُن کی اُمّ اُدۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ( المومن:61) ہے ۔ کوئی انسان بدی سے بچ نہیں سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو ۔ پس اُدۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ فرما کر یہ جتلا دیا کہ عاصم وہی ہے اُسی کی طرف تم رجوع کرو۔ ‘‘
( ملفوظات جلد6 صفحہ 3)

مزید پڑھیں

بِکھرنا ۔ نِکھرنا-اور خودی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’انسان بیعت کنندہ کو اوّل انکسارى اور عِجز اختیار کرنى پڑتى ہے اور اپنى خودى اور نفسانیت سے الگ ہونا پڑتاہے تب وہ نشوونما کے قابل ہوتاہے لیکن جو بیعت کے ساتھ نفسانیت بھى رکھتاہے اسے ہر گز فیض حاصل نہیں ہوتا۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ455)

مزید پڑھیں

’’آج حوّا کی بریّت کے ہوئے ہیں سامان ‘‘

حضور انور ایدہ اللہ نے سانحہ لاہور کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
”دشمن نے ایک مذموم سازش کی اور اپنے زعم میں احمدیوں سے ان کا دین اور ایمان چھیننا چاہا لیکن اس کا یہ خواب پورا نہ ہوسکا۔ ہم نے تو یہ نظارے دیکھے کہ باپ کے شہید ہونے پر اس کے نو دس سالہ بیٹے کو ماں نے یہ نصیحت کر کےمسجد بھجوایا کہ بیٹا وہیں کھڑے ہو کر جمعہ پڑھنا جہاں تمہارا باپ شہید ہوا تھا تا کہ یہ بات تمہارے ذہن میں رہے کہ موت ہمیں ہمارے عظیم مقاصد کے حصول سےخوفزدہ نہیں کر سکتی۔ پس جس قوم میں ایمان کی دولت سے لبریز ایسے بہادر بچے اور مائیں ہوں اس قوم کی ترقی کو کوئی دشمن اور دنیاوی طاقت روک نہیں سکتی۔ “
(ماہنامہ انصار اللہ نومبر،دسمبر2010ء کو شہدائے لاہور نمبر صفحہ 9)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی آمد کا ایک مقصد ۔ مخلوق کا اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’بیعت سے اصل مدعا یہ ہے کہ اپنے نفس کو اپنے رہبر کی غلامی میں دے کر وہ علوم اور معارف اور برکات اس کے عوض میں لیوے جن سے ایمان قوی ہو اور معرفت بڑھے اور خدا تعالیٰ سے صاف تعلق پیدا ہو اور اسی طرح دنیوی جہنم سے رہا ہوکر آخرت کے دوزخ سے مخلصی نصیب ہو۔‘‘
(ضرورۃ الاما م،روحانی خزائن جلد 13صفحہ498)

مزید پڑھیں

50 تقاریر بابت اخلاقیات (جلد چہارم)

پیرہن آپ قا رئین نے یہ محسوس کیا ہوگا کہ مَیں اپنی کتب کے پیش لفظ کو کوئی نہ کوئی عنوان دے کرتحریر کرتا ہوں۔ اِس وقت میرے ہاتھوں میں ”مشاہدات“ کی 31ویں کاوش ہے جو اخلاقیات پر 50 تقاریر پر مشتمل ہے۔ اس کے پیش لفظ کو مَیں ”پیرہن“ کا عنوان دے رہا ہوں جس کے معنی پوشاک اور لباس کے ہیں ۔ جس طرح انسان اپنے لباس سے پہچانا جاتا ہے۔ اس کی شخصیت اُجاگر ہوتی ہے اسی طرح کسی کتاب کے پیش لفظ […]

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد3  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”یاد رکھو کہ بیعت کے بعد تبدیلی کرنی ضروری ہوتی ہے۔ اگر بیعت کے بعد اپنی حالت میں تبدیلی نہ کی جاوے۔ تو پھر یہ استخفاف ہے۔ بیعت بازیچہ اطفال نہیں ہے۔ درحقیقت وہی بیعت کرتا ہے جس کی پہلی زندگی پر موت وارد ہو جاتی ہے اور ایک نئی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ ہر ایک امر میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔ پہلے تعلقات معدوم ہو کر نئے تعلقات پیدا ہوتے ہیں۔ “
(ملفوظات جلد 3 صفحہ 339)

مزید پڑھیں

احمدیہ اسٹیج کا تقدّس

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’انسان کو چاہئے شوخ نہ ہو۔ بے حیائی نہ کرے۔ مخلوق سے بد سلوکی نہ کرے۔ محبت اور نیکی سے پیش آوے۔ اپنی نفسانی اغراض کی وجہ سے کسی سے بغض نہ رکھے۔ سختی اور نرمی مناسب موقع اور مناسب حال کرے۔‘‘ ْ
(ملفوظات جلد5 صفحہ609 ایڈیشن 1988ء)

مزید پڑھیں

’’کہنا ‘‘ ۔ اور ۔ ’’کرنا ‘‘

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’تم میری بات سن رکھو اور خوب یاد کر لو کہ انسان کی گفتگو سچے دل سے نہ ہو اور عملی طاقت اس میں نہ ہو تو وہ اثر پذیر نہیں ہوتی۔ ‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ67 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

ہم نئے سال کا آغاز کیسے کریں  (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتےہیں:
”مَیں یہ بھی کہوں گا کہ ایک دوسرے کو مبارکباد دینے کا فائدہ ہمیں تبھی ہوگا جب ہم اپنے جائزے لیں کہ گزشتہ سال میں ہم نے اپنے احمدی ہونے کے حق کو کس حد تک ادا کیا ہے اور آئندہ کے لئے ہم اس حق کو ادا کرنے کے لئے کتنی کوشش کریں گے۔پس ہمیں اس جمعہ سے آئندہ کے لئے ایسے ارادے قائم کرنے چاہئیں جو نئے سال میں ہمارے لئے اس حق کی ادائیگی کے لئے چستی اور محنت کا سامان پیدا کرتے رہیں۔“
(خطبہ جمعہ 2 ؍جنوری 2015ء )

مزید پڑھیں