تیرنا ہو تو کبھی ، دریا کے مخالف تیرو

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ں
’’ ں ں
ئَ
م نےمحض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پا یا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے بر گزیدوں کو دی گئی تھی اور میر ں ے
لئے اس نعمت کا پانا ممکن نہ تھا اگر ں ں
ئَ
م اپنے سیّدومولیٰ، فخرالانبیاء اور خیر الور ی حضرت محمد مصطفیٰ ںصلی اللہ علیہ ںوسلم ںکے ںراہوں کی پیروی نہ کرتا۔ سو ں ں
ئَ
م نے جو کچھ پا یا ں
اس پیروی سے پایا اور ں ں
ئَ
م اپنے سچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اس ںنبی ںصلی اللہ علیہ وسلم ںکے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفت کاملہ کا حصہ
پاسکتا ہے۔‘ں‘
)حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 65-64 (

مزید پڑھیں

سُستیاں ترک کرو طالبِ آرام نہ ہو

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کام کی یہ حالت ہوتی کہ ہم جب سوتے تو آپ کو کام کرتے دیکھتے اور جب آنکھ کھلتی تب بھی آپ کوکام کرتے دیکھتے اور باوجود اتنی محنت اور مشقّت برداشت کرنے کے جو دوست آپ کی کتابوں کے پروف پڑھنے میں شامل ہوتے آپ ان کے کام کی اس قدر، قدر فرماتے کہ اگر عشاء کے وقت بھی کوئی آواز دیتا کہ حضور! مَیں پروف لے آیا ہوں تو آپ چارپائی سے اُٹھ کر دروازہ تک جاتے ہوئے راستہ میں کئی دفعہ فرماتے جزاک اللّٰہ۔ آپ کو بڑی تکلیف ہوئی جزاک اللّٰہ۔ آپ کو بڑی تکلیف ہوئی۔ حالانکہ وہ کام اس کام کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہوتا تھا جو آپ خود کرتے تھے۔ غرض اس قدر کام کرنے کی عادت ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں دیکھی ہے کہ اس کی وجہ سے ہمیں حیرت آتی۔ بیماری کی وجہ سے بعض دفعہ آپ کو ٹہلنا پڑتا مگر اس حالت میں بھی آپ کام کرتے جاتے۔ سیر کے لئے تشریف لے جاتے تو راستہ میں بھی مسائل کا ذکر کرتے اور سوالات کے جوابات دیتے۔“

مزید پڑھیں

برداشت، انسانیت اَور سوسائٹی کی معراج ہے

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”صبر کے معنے یہ ہیں کہ اگر تمہیں کوئی گالی دے تو تم اسے گالی نہ دو ۔ اگر کوئی تم پر ظلم کرے تو تم اس وقت تک ظلم کا جواب نہ دو جب تک شریعت تمہیں جواب دینے کی اجازت نہیں دیتی۔ لیکن صبر کے یہ معنی نہیں کہ تم اپنا دفاع چھوڑ دو اور دین کے معاملے میں ذلّت برداشت کرلو۔ کیونکہ اس طرح بہادری اور دلیری نہیں بلکہ بزدلی پیدا ہوجائے گی ۔ صبر کےمعنے یہ ہیں کہ انسان متواتر اور استقلال کے ساتھ ان بدیوں کا مقابلہ کرے جو اس کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں اور ان بدیوں کے مقابلہ کے لئے تیار رہے جو اس کو آئندہ پیش آنے والی ہوں ۔ اسی طرح صبر کے ایک معنی یہ ہیں کہ انسان استقلال کے ساتھ اپنی نیکیوں پر قائم رہے جو اس کو حاصل ہوچکی ہوں اور ان نیکیوں کے حصول کے لئے کوشش کرے جو اس کو ابھی ملی نہیں۔ “
(تفسیر کبیر جلد 2صفحہ 115-116)

مزید پڑھیں

گلشنِ احمد کی ہیں ہم چہچہاتی بُلبلیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں:
’’ناصرات بھی عہد کرتی ہیں۔ ان کو بھی اپنے عہدوں کو نبھانا چاہئے۔ چودہ پندرہ سال کی عمر ہوش کی عمر ہوتی ہے اور اچھا بُرا سمجھنے کی عمر ہوتی ہے اور یہ آخری عمر ہے ناصرات کی اور اس عمر میں ہی بہت ساری خواہشات بھی ہوتی ہیں۔ اگر دنیا کی طرف نظر ہو تو دنیاوی خواہشات دین پر حاوی ہو جاتی ہیں۔ اس لئے ہر احمدی بچی کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور اپنے عہد کو بار بار دہراتے رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ہر احمدی بچی بجائے فضول دنیاوی خواہشات کے پیچھے چلنے کے اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لئے کوشش کرنے والی ہو اور وہ اعلیٰ مقاصدناصرات کے عہد میں یہ بیان کئے گئے ہیں کہ مذہب، قوم اور وطن کی خدمت کے لئے تیار رہنا، ہمیشہ سچائی پر قائم رہنا، خلافت احمدیہ کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار رہنا۔ پس اگر ہماری بچیاں اس عہد کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں تو جہاں اپنی زندگیاں محفوظ کر لیں گی وہاں آئندہ نسلوں کی زندگیوں کو بھی محفوظ کرنے والی ہوں گی اور انہیں خلافت سے جوڑنے والی ہوں گی۔“
(خطبہ جمعہ 30؍ستمبر2016ء)

مزید پڑھیں

بچے، جماعت کا قیمتی اثاثہ ہیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ ایسے بچے جن کو اس طرح بچپن میں مالی قربانی کی عادت پڑ جائے وہ آئندہ نسلوں کی قربانیوں کی ضمانت بن جایا کرتے ہیں ۔ اللہ کرے کہ یہ روح ہمارے بچوں میں بڑھتی چلی جائے …..بچوں کو اس کی اہمیت کا احساس دلائیں، قربانی کی روح ان میں پیدا کریں۔ جو بچے اس مادی دور میں اس طرح قربانی کرنے کے لئے تیار ہوں گے، اس طرح قربانی کرتے ہوئے پروان چڑھیں گے، وہ نہ صرف جماعت کا بہترین وجود بنیں گے بلکہ اپنے روشن مستقبل کی بھی ضمانت بن جائیں گے۔ لہو ولعب سے بچتے ہوئے، فضولیات سے بچتے ہوئے لغویات سے بچتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنیں گے۔‘‘
(خطبات مسرور جلد 6صفحہ5)

مزید پڑھیں

اپنے اندر بیماریوں کو ڈیلیٹ کرنے کا شعار بنائیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دوسری شرطِ بیعت میں فرمایا ہے کہ
’’ جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت اُن کا مغلوب نہیں ہو گا اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔ ‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ159 اشتہار ’’تکمیل تبلیغ‘‘، اشتہار نمبر51)

مزید پڑھیں

خلافت ایک خزانہ ہے۔ اِس سے فائدہ اُٹھائیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
’’ پس اگر آپ نے ترقی کرنی ہے اور دنیا پر غالب آنا ہے تو میری آپ کو یہی نصیحت ہے اور میرا یہی پیغام ہے کہ آپ خلافت سے وابستہ ہوجائیں۔اس حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ ہماری ساری ترقیات کا دارومدار خلافت سے وابستگی میں پنہاں ہے ۔“
(الفضل انٹر نیشنل 23تا 30مئی 2003ءصفحہ اول)

مزید پڑھیں

’’ ستائیس کو خوشیاں منائیں گے ‘‘ (الہام حضرت مسیح موعودؑ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لیے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اُس کا آنا تمہارے لیے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک مَیں نہ جاؤں ۔ ‘‘
(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد20صفحہ305)

مزید پڑھیں