حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10 ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)
حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ یاد رکھو کہ بُت پرستی ، انسان پرستی ، مخلوق پرستی کی سزا آخرت میں ہے۔ مگر شریفوں بد معاشوں ، ظلم و تعدّی ، غفلت اور اہلِ حق کو ستانے اور دُکھ دینے کی سزا اِسی دنیامیں دی جاتی ہے۔ نوح کے وقت جو عذاب آیا اگر خدا تعالیٰ کے رسول کو نہ ستاتے تو وہ عذاب نہ آتا۔ یہ شوخی پر اِس لئے عذاب آتا ہے کہ ” ایک چور دوسرا چتر“ دنیا دارُالمکافات نہیں۔ اس میں دست بدست سزا صرف اُسے ملتی ہے جو بد معاشی کرے جو شرافت کے ساتھ گناہ میں گرفتار ہو تو اُس کی سزا آخرت میں ہے اور اب جو دنیا میں عذاب آیا تو اسی لئے کہ دلیری ، شوخی ، شرارت حد سے بڑھ گئی ایسی کہ گویا خدا ہے ہی نہیں۔ طاعون نےاِس قدر سخت بربادی کی مگر ابھی اُن کے دلوں نے کچھ محسوس نہیں کیا۔ پوچھو! تو ہنسی ٹھٹےمیں گزار دیتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں معمولی بیماری ہے گویا خدا کی قضاء و قدر سے مُنکر ہیں ۔ بیشک یہ بیماری ہے۔ مگر انہی بیماریوں سے عذاب آیا کرتا ہے۔ یہودیوں پر جب یہ وبا پڑی تو خدا تعالیٰ نے اسے عذاب فرمایا۔ یا د رکھو کہ جب خدا چاہتا ہے انہی بیماریوں کو شدت وکثرت میں بڑھا کر ہلاک کر دیتا ہے۔ ان لوگوں کی بے یقینی کی یہ علامت ہے کہ عذاب کوعذاب نہیں سمجھتے۔ خدا تعالیٰ رحیم ہے سزا دینے میں دھیما ہے مگر یہ لوگ یاد رکھیں کہ جب تک وہ وقت نہ آئے گا کہ پکار اٹھیں اب ہم سمجھے یہ عذاب ہٹنے کا نہیں۔ اس کا علاج وُہی ہےجو ہم بارہا دفعہ بتا چکے ہیں یعنی تضرّع و انابت الیٰ الله ۔‘‘
( ملفوظات جلد10صفحہ123)
