اَنَا اللَّبِنَۃُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّنَ (حضرت محمدؐ ) مَیں وہ اینٹ ہوں اور مَیں خَاتَمُ النبین ہوں
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ نبی دیا جو خاتم المومنینؐ، خاتم العارفینؐ اور خاتم النبیینؐ ہے اور اسی طرح پر وہ کتاب اس پر نازل کی جو جامع الکتب اور خاتم الکتب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو خاتم النبیین ہیں اور آپ پر نبوت ختم ہو گئی۔ تو یہ نبوت اس طرح پر ختم نہیں ہوئی جیسے کوئی گلا گھونٹ کر ختم کر دے۔ ایسا ختم قابل فخر نہیں ہوتا۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہونے سے یہ مراد ہے کہ طبعی طور پر آپ پر کمالات نبوت ختم ہو گئے۔ یعنی وہ تمام کمالات متفرقہ جو آدمؑ سے لے کر مسیح.ابن مریمؑ تک نبیوں کو دئیے گئے تھے۔کسی کو کوئی اور کسی کو کوئی، وہ سب کے سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع کر دئیے گئے اور اس طرح پر طبعاً آپؐ خاتم.النبیین ٹھہرے اور ایسا ہی وہ جمیع تعلیمات، وصایا اور معارف جو مختلف کتابوں میں چلے آتے ہیں وہ قرآن شریف پر آ کر ختم ہو گئے اور قرآن شریف خاتم.الکتب.ٹھہرا۔‘‘
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ341-342 ایڈیشن 1984ء)
