اَمَرْبِاالْمَعْرُوْفْ نَہِیْ عَنِ الْمُنْکَرْ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نیک بات کا حکم دینا اور ناپسندیدہ باتوں سے روکنا بھی صدقہ ہے۔
(مسلم کتاب الزکوٰۃ)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نیک بات کا حکم دینا اور ناپسندیدہ باتوں سے روکنا بھی صدقہ ہے۔
(مسلم کتاب الزکوٰۃ)
حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
’’ مجھے خدا کی بزرگ کتاب قرآن مجید کے بعد حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے عشق ہے اور سرور کائنات کا کلام میرے لئے بطور غذا کے ہے کہ جب تک روزانہ اچھی غذا نہ ملنے کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔اِسی طرح بغیر سیدکونین کے کلام کو ایک دو دفعہ پڑھنے کے طبیعت بے چین رہتی ہے۔جب کبھی میری طبیعت گھبراتی ہے تو بجائے اس کے کہ مَیں باہر سیر کے لئے کسی باغ کی طرف نکل جاؤں مَیں بخاری یا حدیث کی کوئی اور کتاب نکال کر پڑھنے لگتا ہوں اور مجھے اپنے پیارے آقاؐ کے پیارے کلام کو پڑھ کر خدا کی قسم ویسی تفریح حاصل ہوتی ہے جو ایک غمزدہ گھر میں بند رہنے والے کو(پانی سے سیراب ۔ناقل) کسی خوشبو دار پھولوں والے باغ میں سیر کر کے ہو سکتی ہے۔‘‘
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان نوازی کا معیار اس قدر بلند تھا کہ جو دوسروں کے مقابلے میں ایک امتیازی شان رکھتا تھا اور نبوت کے دعوے کے بعد تو یہ مہمان نوازی ایک ایسی اعلیٰ شان رکھتی تھی کہ جس کی مثال ہی کوئی نہیں ہے۔
اس بارہ میں آپؐ کے اُسوہ حسنہ کو دیکھیں تو صرف وہاں یہ نہیں ہے کہ سلامتی بھیجنے کی باتیں ہو رہی ہیں بلکہ کھانے پینے کی مہمان نوازی کے علاوہ بھی یا استقبال کرنے کے علاوہ بھی ایسے ایسے واقعات ملتے ہیں جن کے معیار اعلیٰ ترین بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہمان کو کھانے کا انتظام کے احسن رنگ میں کرنے سے ہی صرف عزت نہیں بخشی بلکہ مہمان کے جذبات کا خیال بھی رکھا۔ اس کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کا خیال بھی رکھا اور اس کے لئے قربانی کرتے ہوئے بہتر سہولیات اور کھانے کا انتظام بھی کیا۔ اس کے لئے خاص طور پر اپنے ہاتھ سے خدمت بھی کی اور اس کی تلقین بھی اپنے ماننے والوں کو کی کہ یہ اعلیٰ معیار ہیں جو مَیں نے قائم کئے ہیں۔ یہ میرا اسوہ اس تعلیم کے مطابق ہے جو خداتعالیٰ نے مجھ پر اتاری ہے۔ تم اگر مجھ سے تعلق رکھتے ہو تو تمہارا یہ عمل ہونا چاہئے۔ تمہیں اگر مجھ سے محبت کا دعویٰ ہے تو اس تعلق کی وجہ سے، اس محبت کی وجہ سے، میری پیروی کرو اور یہ مہمان نوازی اور خدمت بغیر کسی تکلف، کسی بدل اور کسی تعریف کے ہو اور خالصتاً اس لئے ہو کہ خداتعالیٰ نے یہ اعلیٰ اخلاق اپنانے کا حکم دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی ہمارا مقصود اور مطلوب ہونا چاہئے۔ ‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ17جولائی 2009ء)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” اسلام نے ہمارے لیے ہر بات کے متعلق احکام دے رکھے ہیں۔ یہ احکام بیکار اور فضول نہیں بلکہ نہایت ضروری ہیں اور انہی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے مجموعہ کا نام اسلامی تمدن ہے۔ اسلامی تمدن نماز کا نام نہیں، روزے کا نام نہیں ، زکوۃ کا نام نہیں ہے بلکہ ان چھوٹے چھوٹے احکام کے مجموعہ کا نام ہے جو ایسا تغیر پیدا کر دیتے ہیں کہ اس کی وجہ سے وہ سوسائٹی دوسری سوسائٹیوں سے نمایاں اور ممتاز نظر آتی ہے ۔“
(خطبہ جمعہ 21 اپریل 1933 )
(احادیث کی روشنی میں)
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اَلُسَّعِیْدُ مَنْ وُعِظَ بِغَیْرِہٖ
( چہل احادیث )
کہ نیک بخت ،خوش نصیب اور سعادت مند وہ ہے جو غیروں کے حال سے نصیحت پکڑے ۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’خُلق کو پیدا کرنے کے لئے، رفق کے حسن کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرۃ :84) یہ بات ہے اس پر عمل کرنا چاہئے۔ یہ ہے اسلام کے اعلیٰ خُلق کا معیار کہ لوگوں کو نیک باتیں کہو۔ پیار سے، ملاطفت سے پیش آؤ۔ لوگوں کو نیک باتیں کہنے کے لئے پہلے اپنے اندر بھی تو وہ نیکیاں پیدا کرنی ہوں گی، وہ خُلق پیدا کرنے ہوں گے تبھی تو اثر ہو گا۔ دوہرے معیار تو نیک نتیجے پیدا نہیں کرتے۔ پھر تعلیم دی دوسروں کے جذبات کا خیال رکھنے کی اور اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ خود پسندی میں مبتلا نہ ہوجاؤ۔ عین ممکن ہے کہ جس کو تم اپنے سے کم تر سمجھ رہے ہو وہ تمہارے سے بہتر ہوں۔ جب یہ احساس ہو گا تو پھر اپنے اندر بھی بہتر تبدیلیاں پیدا کرنے کی طرف توجہ پیداہو گی۔‘‘
(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 4اپریل 2008ء )
حضرت مصلح موعود ؓ اخلاقِ حسنہ اپنانے کی اہمیت بیان کرتےہوئے فرماتےہیں :
”پس دلائل مذہبی ، دعائیں اور اخلاق فاضلہ یہی ہماری توپیں اور یہی ہماری تلواریں، انہی توپوں اور انہی تلواروں سے ہم نے دنیا کے تمام ادیان کو فتح کرکے اسلام کا پرچم لہرانا اور ان پر غلبہ و اقتدار حاصل کرنا ہے اور اگر نوجوانوں میں یہ مہم جاری رہی تو ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت جلد ایک نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی مسلح فوج تیار کرلیں گے جس کے مقابلہ میں کوئی دشمن نہیں ٹھہرسکے گا۔ “
( خطبہ جمعہ 17 مارچ 1939 مطبوعہ الفضل 7 اپریل 1939ء)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ عِنْدَهُ أَبَوَاهُ الْكِبَرَ فَلَمْ يُدْخِلَاهُ الْجَنَّةَ
)ترمذی حدیث 3545)
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اُس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ شخص مجھ پر درود نہ بھیجے اور اُس شخص کی بھی ناک خاک آلود ہو جس کی زندگی میں ر مضان کا مہینہ آیا اور اس کی مغفرت ہوئے بغیر وہ مہینہ گزر گیا، اور اس شخص کی بھی ناک خاک آلود ہو جس نے اپنے ماں باپ کو بڑھاپے میں پایا ہو اور وہ دونوں اُسے ان کے ساتھ حسن سلوک نہ کرنے کی وجہ سے جنت کا مستحق نہ بنا سکے ہوں۔