’’اچھے بھلے کو دیکھ کے دیوانہ کر دیا ‘‘

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تین باتیں جس میں ہوں وہ ایمان کا مزہ پا لیتا ہے۔ اِن میں سے دو باتیں دیوانگی کے متعلق ہیں۔ اوّل اللہ اور اُس کے رسول تمام دوسری چیزوں سے بڑھ کر اُسے پیارے ہوں اور دوم یہ کہ جس انسان سے بھی محبت کرے صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے محبت کرے۔
(بخاری کتاب الایمان)

مزید پڑھیں

انسانی قویٰ اور ملائکہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ کمال عابد انسان کا یہی ہے کہ تَخَلَّقُوا بِأَخْلاقِ اللّٰه – اللہ تعالیٰ کے اخلاق میں رنگین ہو جاوے جب تک اِس مرتبہ تک نہ پہنچ جائے نہ تھکے نہ ہارے۔ اِس کے بعد خود ایک کشش اور جذب پیدا ہو جاتا ہے جو عبادت الٰہی کی طرف اُسے لئے جاتا ہے اور وہ حالت اُس پر وارد ہو جاتی ہے جو يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ کی ہوتی ہے۔‘‘
( الحکم 24؍ مئی 1901ء صفحہ4)

مزید پڑھیں

ہاتھ اور پاؤں کا زنا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ زنا کے قریب مت جاؤ یعنی ایسی تقریبوں سے دور رہو جن سے یہ خیال بھی دل میں پیدا ہو سکتا ہو اور ان راہوں کو اختیار نہ کرو جن سے اس گناہ کے وقوع کا اندیشہ ہو۔ جو زنا کرتا ہے وہ بدی کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ زنا کی راہ بہت بُری راہ ہے یعنی منزلِ مقصود سے روکتی ہے اور تمہاری آخری منزل کے لیے سخت خطرناک ہے۔“
(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ342 )

مزید پڑھیں

دل کا زنا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ دل کی مثال ایک بڑی نہر کی سی ہے جس میں سے اَور چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں جن کو سُواَ کہتے ہیں یا راجباہا کہتے ہیں۔ دل کی نہر میں سے بھی چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں مثلاً زبان وغیرہ ۔ اگر چھوٹی نہر یعنی سُوئے کا پانی خراب اور گندہ اور مَیلا ہو تو قیاس کیا جاتا ہے کہ بڑی نہر کا پانی خراب ہے۔ پس اگر کسی کو دیکھو کہ اس کی زبان یا دست وپا وغیرہ میں سے کوئی عضو ناپاک ہے تو سمجھو کہ اُس کا دل بھی ایسا ہی ہے۔‘‘
)تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد 2صفحہ 459)

مزید پڑھیں

دل کی گلیوں میں اعتکاف

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”خدا تعالیٰ نے صرف قرآن کریم میں ہاتھ پیر کے گناہوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ کان اور آنکھ اور دل کے گناہوں کا بھی ذکر کیا ہے جیسا کہ وہ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِکَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا یعنی کان اور آنکھ اور دل جو ہیں ان سب سے باز پرس کی جائے گی ۔ اب دیکھو جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کان اور آنکھ کےگناہ کا ذکر کیا ایسا ہی دل کے گناہ کا بھی ذکر کیا مگر دل کا گناہ خطرات اور خیالات نہیں ہیں کیونکہ وہ تو دل کے بس میں نہیں ہیں بلکہ دل کا گناہ پختہ ارادہ کر لینا ہے۔صرف ایسے خیالات جو انسان کے اپنے اختیار میں نہیں گناہ میں داخل نہیں ۔ ہاں اس وقت داخل ہو جائیں گے جب ان پر عزیمت کرے اور ان کے ارتکاب کا ارادہ کرلیوے۔ “
(نور القرآن ، روحانی خزائن جلد 9صفحہ428-427)

مزید پڑھیں

’’انسان کا سینہ بیتُ اللہ اور دل حجرِاسود ہے‘‘ (مسیح موعودؑ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اس گھر کو بتوں سے صاف کرو۔ فرمایا …… (البقرہ: 126) یعنی میرے گھر کو فرشتوں کے لئے پاک کرو۔انسان کا دل خدا کا گھر ہے یہ خدا کا گھر اس وقت کہلائے گا اور اس وقت فرشتوں کا طواف گاہ بنے گا جب یہ اوہام باطلہ وعقائد فاسدہ سے بالکل پاک وصاف ہو۔ جب تک انسان کا دل صاف نہ ہو اس کی عملی حالت درست نہیں ہو سکتی‘‘
(ملفوظات جلد10 صفحہ74-75 حاشیہ)

مزید پڑھیں

ٹائٹل بمقابلہ رینک (Title v/s Rank)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ چاہیے کہ اسلام کی ساری تصویر تمہارے وجود میں نمودار ہو اور تمہاری پیشانیوں میں اثر سجود نظر آوے اور خدائے تعالیٰ کی بزرگی تم میں قائم ہو۔ اگر قرآن اور حدیث کے مقابل پر ایک جہان عقلی دلائل کا دیکھو تو ہرگز اس کو قبول نہ کرو اور یقیناً سمجھو کہ عقل نے لغزش کھائی ہے۔ توحید پر قائم رہو اور نماز کے پابند ہو جاؤ اور اپنے مولیٰ حقیقی کے حکموں کو سب سے مقدم رکھو اور اسلام کے لئے سارے دکھ اٹھاؤ۔ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۔‘‘
(روحانی خزائن جلد3ازالہ اوہام صفحہ552)

مزید پڑھیں

کانوں کی افادیت اور اِن کا درست و برمحل استعمال

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ جب انسان اپنے نفس کو کھو دیتا ہے اور غیر اللہ کی طرف التفات نہیں رہتی اور کسی کو اپنی نظر میں نہیں دیکھتا اور خدا ہی کو دیکھتا اور اس کو ہی سناتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ بھی اس کو سناتا ہے۔ مگر وہ لوگ جن کے باوجودیکہ دوکان ہوتے ہیں مگر وہ حرص، ہوا، غصّہ، کینہ وغیرہ ہر قسم کی طاقتوں کی باتیں سنتے ہیں وہ خدا تعالٰی کی بات کیوں کر سُن سکتے ہیں ہاں ایک قوم ہوتی ہے جو باقی سب کو ذبح کر ڈالتے ہیں اور سب طرف سے کانوں کو بند کر لیتے ہیں نہ کسی کی سنتے ہیں نہ کسی کو سناتے ہیں انہیں ہی خدا بھی اپنی سناتا ہے اور ان کی سنتا ہے اور وہی مبارک ہوتا ہے۔“
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 105)

مزید پڑھیں

کان کا زنا

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
” حفص بن عاصم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ انسان کے جھوٹے ہونے کے لئے یہی علامت کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔ اب دیکھیں یہ عادت عموماً لوگوں میں ہوتی ہے۔ جماعت میں بھی یہ برائی بعض لوگوں میں بہت زیادہ ہے مجھے بھی کوئی لوگ لکھ دیتے ہیں بعض کسی کے بارے میں کہ اس نے یہ کیا اور وہ کیا اور جب تحقیق کرو تو بات غلط نکلتی ہے اور جب لکھنے والے سے پوچھا جائے کہ کس نے کہا تمہیں یہ بات تو غلط ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سنا تھا اور اس سننے پر ہی وہ دنیا میں شور مچا دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو غور کرنا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کو جھوٹا قرار دیا ہے۔“
(خطبہ جمعہ 24 ؍اپریل 2026ء)

مزید پڑھیں