حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ خداتعالیٰ کے نزدیک اُس شخص کی قدرو منزلت ہے جو دین کا خادم اور نافع النّاس ہے ۔ ورنہ وُہ کچھ پَرواہ نہیں کرتا کہ لوگ کتّوں اور بھیڑوں کی موت مَر جائیں۔“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 324)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہرایک سے نیک سلوک کرو۔ حکّام کی اطاعت اور وفاداری ہر مُسلمان کا فرض ہے وہ ہماری حفاظت کرتے ہیں اور ہر قسم کی مذہبی آزادی ہمیں دے رکھی ہے۔ مَیں اِس کو بڑی بے ایمانی سمجھتا ہوں کہ گورنمنٹ کی اطاعت اوروفاداری سچّے دل سے نہ کی جائے۔ برادری کے حقُوق ہیں۔ اُن سے بھی نیک سلوک کرنا چاہئے۔ البتہ اُن باتوں میں جو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے خلاف ہیں، اُن سے الگ رہنا چاہئے۔ ہمارا اصول تو یہ ہے کہ ہرایک سے نیکی کرو اور خداتعالیٰ کی کُل مخلوق سے احسان کرو۔ “
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 459-460)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”تہجد میں خاص کر اُٹھو اور ذوق اور شوق سے ادا کرو۔ درمیانی نمازوں میں بہ باعث ملازمت کے ابتلا آجاتا ہے۔ رازق اللہ تعالیٰ ہے۔ نماز اپنے وقت پر ادا کرنی چاہیے۔ ظہر و عصر کبھی کبھی جمع ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ضعیف لوگ ہوں گے ۔ اس لئے یہ گنجائش رکھ دی ۔ مگر یہ گنجائش تین نمازوں کے جمع کرنے میں نہیں ہوسکتی ۔ جبکہ ملازمت میں اور دوسرے کئی امور میں لوگ سزا پاتے ہیں (اور موردِ عتاب حکام ہوتے ہیں) تو اگر اللہ تعالیٰ کے لئے تکلیف اُٹھاویں تو کیاخوب ہے“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 6)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” اس لئے اس سے پیشتر کہ عذاب الٰہی آکر توبہ کا دروازہ بند کردے توبہ کرو۔ جبکہ دُنیا کے قانون سے اس قدر ڈر پیدا ہوتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ خداتعالیٰ کے قانون سے نہ ڈریں۔ جب بَلا سر پر آپڑے تو اس کا مزہ چکھنا ہی پڑتا ہے۔ چاہئے کہ ہر ایک شخص تہجد میں اُٹھنے کی کوشش کرے اور پانچ وقت کی نمازوں میں بھی قنوت ملادیں ۔ ہرایک خدا کو ناراض کرنے والی باتوں سے توبہ کریں ۔ توبہ سے یہ مراد ہے کہ ان تمام بدکاریوں اور خدا کی نارضا مندی کے باعثوں کو چھوڑ کر ایک سچی تبدیلی کریں اور آگے قدم رکھیں اور تقویٰ اختیار کریں ۔ اس میں بھی خدا کا رحم ہوتا ہے ۔ عاداتِ انسانی کو شائستہ کریں۔ غضب نہ ہو۔ تواضع اور انکسار اس کی جگہ لے لے ۔ اخلاق کی درستی کے ساتھ اپنے مقدور کے موافق صدقات کا دینا بھی اختیار کرو۔ یُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّیَتِیۡمًا وَّاَسِیۡرًا (الدھر: 9)یعنی خدا کی رضا کے لئے مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھانا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خاص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہم دیتے ہیں اور اُس دن سے ہم ڈرتے ہیں جونہایت ہی ہَولناک ہے۔قصّہ مختصر دُعا سے، توبہ سے کام لواور صدقات دیتے رہو ۔ تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے ساتھ تم سے معاملہ کرے۔ “
( ملفوظات جلد اول صفحہ 208 ایڈیشن 1984ء )

مزید پڑھیں

”اگر نوحؑ کے وقت میں یہ نماز ہوتی تو وہ قوم کبھی تباہ نہ ہوتی“

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”نماز ایسی شئ ہے کہ اس کے ذریعہ سے آسمان انسان پر جُھک پڑتا ہے۔ نماز کا حق ادا کرنے والا یہ خیال کرتا ہے کہ مَیں مرگیا اور اس کی روح گداز ہو کر خدا کے آستانہ پر گِر پڑی ہے ۔ اگر طبعیت میں قبض اور بدمزگی ہو تو اس کے لئے بھی دعا ہی کرنی چاہئے کہ الٰہی! تُو ہی اُسے دُور کر اور لذّت اور نور نازل فرما۔ جس گھر میں اِس قسم کی نماز ہوگی وہ گھر کبھی تباہ نہ ہوگا ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر نوحؑ کے وقت میں یہ نماز ہوتی تو وہ قوم کبھی تباہ نہ ہوتی۔“
(ملفوظات جلد 6 صفحہ 421-422)

مزید پڑھیں

”اک دن تمہارا لوگ جنازہ اُٹھائیں گے “

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’جو شخص دنیا کے لالچ میں پھنسا ہوا ہے اور آخرت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ ‘‘
(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19 صفحہ18)

مزید پڑھیں

آنحضورؐکے دور کے مسلمان بچوں کے سنہری کارنامے

سات یتیم بہنوں کے بھائی جابرؓ نے بھی حضورؐ کے سامنے گٹنے ٹیک کر جھک کر اس قدر عاجزی کے ساتھ جنگ میں شمولیت کے لئے درخواست کی کہ حضورؐ نے ان کو جنگ میں شمولیت کی اجازت دےدی۔

مزید پڑھیں

اَحْسِنْ کَمَا اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ ( القصص: 78) جس طرح اللہ تعالیٰ نے تجھ پر احسان کیا ہے تُو بھی لوگوں پر احسان کر

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ نہ صرف اپنے بھائیوں ،عزیزوں ، رشتہ داروں ،اپنے جاننے والوں، ہمسایوں سے حسن سلوک کرو،ان سے ہمدردی کرو اور اگر ان کو تمہاری مدد کی ضرورت ہے تو اُن کی مدد کرو، ان کو جس حد تک فائدہ پہنچا سکتے ہو فائدہ پہنچاؤ بلکہ ایسے لوگ، ایسے ہمسائے جن کو تم نہیں بھی جانتے، تمہاری ان سے کوئی رشتہ داری یا تعلق داری بھی نہیں ہے جن کو تم عارضی طورپر ملے ہو ان کو بھی اگر تمہاری ہمدردی اور تمہاری مدد کی ضرورت ہے، اگر ان کو تمہارے سے کچھ فائدہ پہنچ سکتاہے تو ان کو ضرور فائدہ پہنچاؤ۔اس سے اسلام کا ایک حسین معاشرہ قائم ہوگا۔ ہمدردیٔ خلق اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو فائدہ پہنچانے کا وصف اور خوبی اپنے اندر پیدا کرلوگے اور اس خیال سے کرلوگے کہ یہ نیکی سے بڑھ کر احسان کے زمرے میں آتی ہے اوراحسان تو اس نیت سے نہیں کیا جاتا کہ مجھے اس کا کوئی بدلہ ملے گا۔احسان تو انسان خالصتاً اللہ.تعالیٰ کی خاطر کرتاہے۔تو پھر ایسا حسین معاشرہ قائم ہو جائے گاجس میں نہ خاوند بیوی کا جھگڑا ہوگا، نہ ساس بہو کا جھگڑا ہوگا، نہ بھائی بھائی کا جھگڑا ہوگا، نہ ہمسائے کا ہمسائے سے کوئی جھگڑا ہوگا، ہر فریق دوسر ے فریق کے ساتھ احسان کا سلوک کر رہا ہوگا اور اس کے حقوق اسی جذبہ سے ادا کرنے کی کوشش کررہا ہوگا۔ اور خالصتاً اللہ.تعالیٰ کی محبت،اس کا پیار حاصل کرنے کے لئے،اس پر عمل کر رہاہوگا۔“
(خطبہ جمعہ فرمودہ 12؍ستمبر 2003ء)

مزید پڑھیں

”اے جُنوں ! کچھ کام کر بے کار ہیں عقلوں کے وار “

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اطاعت بھی ایک موت ہوتی ہے جیسے ایک زندہ آدمی کی کھال اتاری جائے ویسی ہی اطاعت ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 74)

مزید پڑھیں

50تقاریربرائےنَونِہالانِ جماعت(جلداوّل)

برگِ سبز است تحفۂ درویش ہر چھوٹی اور نئی چیز جہاں پیاری ہوتی ہے اور پیاری لگتی ہے وہاں وہ ننھی مُنّی اشیاء دوسروں کی نسبت پیار بھی زیادہ لیتی ہیں اور اِن کی دیکھ بھال، نشوونما، پروان چڑھنے اور پالنے پوسنے کی طرف توجہ بھی بہت دی جاتی ہے۔ جیسے نرسری سےلایا ہوا ننھا […]

مزید پڑھیں