ساتویں شرطِ بیعت
’’ تکبّر اور نخوت کو بکلی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اور حلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔‘‘
مزید پڑھیں’’ تکبّر اور نخوت کو بکلی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اور حلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔‘‘
مزید پڑھیں’’ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آ جائے گا اور قرآنِ شریف کی حکومت کو بکلّی اپنے سر پر قبول کرے گا اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنے ہریک راہ میں دستور العمل قرار دے گا۔‘‘
مزید پڑھیں’’ ہر حال رنج وراحت اور عسر اور یسر اور نعمت اور بلاء میں خدا تعالیٰ کے ساتھ وفا داری کرے گا اور بہر حالت راضی بقضا ہو گا۔ اور ہر ایک ذلت اور دکھ کے قبول کرنےکے لئے اُس کی راہ میں تیار رہے گا اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اُس سے منہ نہیں پھیرے گا بلکہ آگے قدم بڑھائے گا‘‘
مزید پڑھیں’’ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔ نہ زبان سے، نہ ہاتھ سے، نہ کسی اور طرح.سے۔‘‘
مزید پڑھیں’’ بلا ناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہے گا اور حتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اور ہر روزاپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا اور دلی محبت سے خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اُس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر روزہ ورد بنائے گا ۔‘‘
مزید پڑھیں’’جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت اُن کا مغلوب نہیں ہو گا اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔‘‘
مزید پڑھیں’’بیعت کنندہ سچے دل سے عہد اس بات کا کرے کہ آئندہ اُس وقت تک کہ قبر میں داخل ہو، شرک سے مجتنب رہے گا۔‘‘
مزید پڑھیں”حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا جس کے کپڑے بہت سفید تھے اور بالوں کا رنگ بہت سیاہ تھا اس پر سفر کی کوئی علامت دکھائی نہیں دیتی تھی اور نہ ہم میں سے کوئی اُسے پہچانتا تھا ۔ وہ آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے کے ساتھ اپنا گھٹنا ملا کر (مؤدب) بیٹھ گیا اور عرض کیا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایمان کسے کہتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ، یوم آخرت کو مانے اور خیر اور شر کی تقدیر اور اس کے صحیح صحیح اندازے پر یقین رکھے۔ “
( حدیقۃُ الصالحین حدیث نمبر166)
اک سے ہزار ہوویں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ تحریر فرمایا ہے: ” یہ بات ہر ایک جانتا ہے کہ تالیفات کی نسبت یہ عام محاورہ ہے کہ ان کو نتائجِ طبع کہتے ہیں یعنی طبع.زادبچے“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ350-351) لغات میں لکھا ہے کہ نتائجِ طبع سے مراد طبیعت […]
مزید پڑھیںحضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”زمین کی وراثت کا راز تقویٰ میں ہے۔ زمین کے حقیقی وارث وہ نہیں ہیں جن کے پاس مادی دولت یا طاقت ہے بلکہ وہ ہیں جن کے پاس ایمان اور تقویٰ کی دولت ہے۔“
(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 69)