50تقاریر(جلد دوم)برموقع یوم مسیح موعودؑ2025ء

 اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم سورت ابراہیم کی آیت 6  میں حضرت موسیٰؑ کے اپنی قوم کے نام پیغام ” ذَکِّرْھُمْ بِاَیّٰمِ اللّٰہِ“ کہ اُنہیں اللہ کے دن یاد کرواتا رہ،  کو محفوظ فرمایا ہے۔ انبیاء کی یہ سُنَّت مستمرّہ رہی ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو اللہ کے فضلوں اور انعامات کے خاص دن یاد کرواتے رہتے ہیں تا اُس خدائے عزّ و جلّ کا شکریہ ادا کیا جا سکے جس نے اِن انبیاء کو کامیابیوں سے ہمکنار کیا۔ اِسی سُنَّت کی روشنی میں جماعتِ احمدیہ بھی سال بھر مختلف دن مناتی رہتی ہے اور ”مشاہدات“کو گزشتہ دو سالوں سے اِن اہم مبارک دنوں کے حوالے سے مواد تحریری و تقریری شکل کے علاوہ کتابی اشکال میں بھی مہیا کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ یہ 50  تقریریں اِسی تسلسل کی ایک  کڑی ہے جو یومِ مسیح موعودؑ 2025ء  کے موقع پر منصۂ شہود پر لایا جا رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔  

مزید پڑھیں

تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان اور غزوہِ بدر (جنگِ بدر کا قصہ مت بھولو۔ الہام مسیح موعودؑ)

حضرت قاضی عبدالرحیمؓ نے 17فروری 1904ء کی ڈائری میں لکھا کہ
’’آج رات حضرتؑ (حضرت مسیح موعودؑ) نے خواب بیان فرمایا۔ کسی نے کہا کہ جنگ بدر کا قصہ مت بھولو۔‘‘
(اصحاب احمد جلد ششم صفحہ133)

مزید پڑھیں

درس نمبر 16بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور’’الغرور‘‘  سے اجتناب

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے۔
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ٝ وَلَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ (الفاطر:6)
اے لوگو ! اللہ کا وعدہ یقیناً سچا ہے۔ پس تمہیں دنیا کی زندگی ہرگز کسی دھوکہ میں نہ ڈالے اور اللہ کے بارہ میں تمہیں سخت فریبی (یعنی شیطان) ہرگز فریب نہ دےسکے۔

مزید پڑھیں

تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان  میں  رحمت ، مغفرت و بخشش کی مناسبت سے چند دعائیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک دعا
’’اے میرے محسن اورمیرے خدا!میں ایک تیرا ناکارہ بندہ پُرمعصیت اورپُر غفلت ہوں۔تو نے مجھ سے ظلم پرظلم دیکھا اورانعام پر انعام کیااورگناہ پر گناہ دیکھا اوراحسان پر احسان کیا ۔تونے ہمیشہ میری پردہ پوشی کی اوراپنی بے شمار نعمتوں سے مجھے متمتع کیا۔سو اب بھی مجھ نالائق اورپُرگناہ پر رحم کر اورمیری بےباکی اور ناسپاسی کو معاف فرما اور مجھ کومیرے اِس گناہ سے نجات بخش کہ بغیر تیرے کوئی چارہ گر نہیں ۔آمین ثم آمین‘‘
(مکتوبات احمدیہ جلد 5نمبر 2 صفحہ 3)

مزید پڑھیں

درس نمبر15 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان میں روزانہ ایک پارہ  کی تلاوت ضرور کریں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”مَیں نے قرآن کے لفظ میں غور کی تب مجھ پر کُھلا کہ اس مبارک لفظ میں ایک زبر دست پیشگوئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہی قرآن یعنی پڑھنے کے لائق کتاب ہے اور ایک زمانہ میں تو اَور بھی زیادہ یہی پڑھنے کے لائق کتاب ہو گی۔ جبکہ اور کتابیں بھی پڑھنے میں اس کے ساتھ شریک کی جائیں گی۔ اُس وقت اسلام کی عزت بچانے کے لئے اور بطلان کا استیصال کرنے کے لئے یہی ایک کتاب پڑھنے کے قابل ہو گی اور دیگر کتابیں قطعاً چھوڑ دینے کے لائق ہوں گی۔ فرقان کے بھی یہی معنی ہیں۔ یعنی یہی ایک کتاب حق وباطل میں فرق کرنے والی ٹھہرے گی اور کوئی حدیث کی یا اور کوئی کتاب اس حیثیت اور پایہ کی نہ ہو گی۔ اس لئے اب سب کتابیں چھوڑ دو اور رات دن کتاب اللہ ہی کو پڑھو۔ بڑا بے ایمان ہے وہ شخص جو قرآنِ کریم کی طرف التفات نہ کرے اور دوسری کتابوں پر ہی رات دن جُھکا رہے۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ قرآنِ کریم کے شغل اور تدبّر میں جان ودل سے مصروف ہو جائیں اور حدیثوں کے شغل کو ترک کریں۔ بڑے تأسّف کا مقام ہے کہ قرآنِ کریم کا وہ اعتناء اور تدارس نہیں کیا جاتا جو احادیث کا کیا جاتا ہے۔ اِس وقت قرآن کریم کا حربہ ہاتھ میں لو تو تمہاری فتح ہے۔ اِس نور کے آگے کوئی ظلمت ٹھہر نہ سکے گی۔‘‘
(ملفوظات جلد 1صفحہ386۔ ایڈیشن 2003ء)

مزید پڑھیں

تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان اور خدمت و اطاعت والدین

حضرت خلیفۃُ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”خدا نے فرمایا ہے ،تم پر ماں باپ نے رحم کیا تھا ، تم پر احسان کیا تھا۔تم بھی اس رحم کے مقابل پر احسان کا سلوک کرو۔عدل کا نہیں فرمایا …مطلب یہ ہے کہ تم نے جب ماں باپ کے معاملے میں کوئی زیادتی دیکھنی ہے تو عدل کے جھگڑے میں نہ پڑ جانا۔یہ سوچنا کہ اللہ نے تمہیں احسان کی تعلیم دی ہے…احسان کا مطلب یہ ہے کہ کسی نے اگر کوئی زیادتی بھی کر دی ہے تو تم وسیع حوصلگی دکھاؤ ،اس سے چشم پوشی کرو۔“
(خطباتِ طاہر جلد 14 صفحہ 733)

مزید پڑھیں

درس نمبر 14بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان المبارک کے مسائل

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ اصل بات یہ ہے کہ قرآنِ شریف کی رخصتوں پر عمل کرنا بھی تقویٰ ہے۔ خداتعالیٰ نے مسافر اور بیمار کو دوسرے وقت(روزے) رکھنے کی اجازت اور رخصت دی ہے اِس لئے اِس حکم پر بھی تو عمل رکھنا چاہئے۔ مَیں نے پڑھا ہے کہ اکثر اکابر اس طرف گئے ہیں کہ اگر کوئی حالت سفر یا بیماری میں روزہ رکھتا ہے تو یہ معصیت ہے۔ کیونکہ غرض تو اللہ تعالیٰ کی رضا ہے، نہ اپنی مرضی اور اللہ تعالیٰ کی رضا فرمانبرداری میں ہے۔ جو حکم وہ دے اس کی اطاعت کی جاوے اور اپنی طرف سے اس پر حاشیہ نہ چڑھایا جاوے۔اُس نے تو یہی حکم دیا ہے کہ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ(سورۃ البقرہ :185)۔ اس میں کوئی قیداور نہیں لگائی کہ ایسا سفرہو یا ایسی بیماری ہو‘‘۔ فرمایا کہ:’’مَیں سفر کی حالت میں روزہ نہیں رکھتا اور ایسا ہی بیماری کی حالت میں۔ چنانچہ آج بھی میری طبیعت اچھی نہیں اور مَیں نے روزہ نہیں رکھا۔‘‘
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 68-67۔ الحکم 31جنوری 1907ء)

مزید پڑھیں

تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء کَتَبَ اللّٰہُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِیْ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”یہ خدا تعالیٰ کی سُنَّت ہے اور جب سے کہ اُس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سُنَّت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور ان کو غَلَبَہ دیتا ہے…اور غَلَبَہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ مَنْشَاء ہوتا ہے کہ خدا کی حُجَّت زمین پر پوری ہو جائے اور اس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے اسی طرح خداتعالیٰ قَوِی نشانوں کے ساتھ ان کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے۔“
(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد 20صفحہ304)

مزید پڑھیں

درس نمبر 13بابت رمضان المبارک 2025ء روزہ اور عورتوں کے متعلق مسائل

” قرآن میں صرف بیمار اور مسافر کے لئے روزہ نہ رکھنے کی وضاحت ہے۔ دودھ پلانے والی عورت اور حاملہ کے لئے کوئی ایسا حُکم نہیں مگر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیمار کی حدّ میں رکھا ہے“
( فقہ احمدیہ صفحہ 291)

مزید پڑھیں

تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان اور کسوف و خسوف کا نشان

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
إِنَّ لِمَهْدِيّنَا آيَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ تَنْكَسِفُ الْقَمَرُ لأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِى النِّصْفِ مِنْهُ وَلَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ
(سنن الدّار قطنی کتاب العیدین باب صفۃ صلوۃ الخسوف والکسوف وھیئتُہا)
کہ ہمارے مہدی کے لیے دو نشان مقرر ہیں اور جب سے زمین و آسمان پیداہوئے ہیں یہ نشان کسی اور مامور کے لیے ظاہر نہیں ہوئے۔ وہ یہ ہیں کہ رمضان کے مہینے میں چاند (اپنے گرہن کی مقررہ راتوں میں سے) پہلی رات کو گہنایا جائے گا اور سورج کو (اس کے گرہن کے مقررہ دنوں میں سے) درمیانے دن کو گرہن ہوگا اور یہ ایسے نشان ہیں کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا یہ نشان کبھی کسی مامور کےلیے ظاہر نہیں ہوئے۔

مزید پڑھیں