اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَر اَلۡکَوثَرۡ ۔ خَیرِ کَثِیر بذریعہ حضرت مسیح موعودؑ (تقریر نمبر5)
حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے سورۃ الکوثر میں اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَر کے تحت فٹ نوٹ میں فرمایا:
” کَوۡثَر کے معنے ہر چیز کی کثرت کے ہیں نیز ایسے شخص کے جو بہت خیرات کرنے والا اور سخی ہو ۔ جیسا کہ حدیثوں میں مسیحؑ کی نسبت آتا ہے کہ وہ آئے گا اور مال لٹائے گا لیکن لوگ اسے قبول نہیں کریں گے۔ پس اس جگہ ایک آنے والے اُمتی کا ذکر ہے جو روحانی طور پر ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ہوگا ۔ چنانچہ اس سورۃ میں بتایا ہے کہ کافر کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتر ہیں ۔ وہ کس طرح ابتر ہوسکتے ہیں جبکہ ان کی روحانی اولاد میں تو ایک ایسا شخص کھڑا ہونے والا ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہو ئی تعلیم کے خزانے لٹائے گا۔ یہاں تک کہ لوگ اس کے دئے ہوئے مال کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ایسا مال جس کے لینے سے لوگ انکار کرتے ہیں علمی خزانے ہی ہوتے ہیں ورنہ ظاہری مال کے لحاظ سے تو اگر کسی کے پاس کروڑ پونڈ ہوتو اُسے اگر ایک پونڈ بھی دیا جائے تو وہ اسے قبول کرلیتا ہے۔“
( تفسیر صغیر صفحہ نمبر847 فٹ نوٹ )
