حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” اس لئے اس سے پیشتر کہ عذاب الٰہی آکر توبہ کا دروازہ بند کردے توبہ کرو۔ جبکہ دُنیا کے قانون سے اس قدر ڈر پیدا ہوتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ خداتعالیٰ کے قانون سے نہ ڈریں۔ جب بَلا سر پر آپڑے تو اس کا مزہ چکھنا ہی پڑتا ہے۔ چاہئے کہ ہر ایک شخص تہجد میں اُٹھنے کی کوشش کرے اور پانچ وقت کی نمازوں میں بھی قنوت ملادیں ۔ ہرایک خدا کو ناراض کرنے والی باتوں سے توبہ کریں ۔ توبہ سے یہ مراد ہے کہ ان تمام بدکاریوں اور خدا کی نارضا مندی کے باعثوں کو چھوڑ کر ایک سچی تبدیلی کریں اور آگے قدم رکھیں اور تقویٰ اختیار کریں ۔ اس میں بھی خدا کا رحم ہوتا ہے ۔ عاداتِ انسانی کو شائستہ کریں۔ غضب نہ ہو۔ تواضع اور انکسار اس کی جگہ لے لے ۔ اخلاق کی درستی کے ساتھ اپنے مقدور کے موافق صدقات کا دینا بھی اختیار کرو۔ یُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّیَتِیۡمًا وَّاَسِیۡرًا (الدھر: 9)یعنی خدا کی رضا کے لئے مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھانا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خاص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہم دیتے ہیں اور اُس دن سے ہم ڈرتے ہیں جونہایت ہی ہَولناک ہے۔قصّہ مختصر دُعا سے، توبہ سے کام لواور صدقات دیتے رہو ۔ تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے ساتھ تم سے معاملہ کرے۔ “
( ملفوظات جلد اول صفحہ 208 ایڈیشن 1984ء )
مزید پڑھیں