حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سفرِ آخرت

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو وصال سے کچھ عرصہ قبل خدا تعالیٰ کی طرف سے واضح طور پر وفات کی خبریں دی گئیں۔ دسمبر 1905ء میں حضور نے ’’رسالہ الوصیت‘‘میں جماعت کو اس عظیم سانحہ کی خبر دیتے ہوئے فرمایا۔
’’خدائے عزّوجل نے متواتر وحی سے مجھے خبر دی ہے کہ میرا زمانہ وفات قریب ہے اور اس بارے میں اُس کی وحی اس قدر تواتر سے ہوئی کہ میری ہستی کو بنیاد سے ہلا دیا اور اس زندگی کو میرے پر سرد کر دیا۔ الہام ہوا۔ قَرُبَ اَجلُکَ الْمُقَّدَر۔ تیری اجل قریب آ گئی ہے۔ بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔ اس دن سب پر اُداسی چھا جائے گی۔“

مزید پڑھیں

اسلام کے فتح نصیب جرنیل اغیار کی نظر میں

سید حبیب ایڈیٹر روزنامہ ’’سیاست‘‘ لاہور نے لکھا:
’’مسلمانوں کے بہکانے کے لئے عیسائیوں نے دین حقہ اسلامیہ اور اس کے بانی صلعم پر بے پناہ حملے شروع کر دئیے جن کا جواب دینے والا کوئی نہ تھا…. اس وقت کے آریہ اور مسیحی مبلغ اسلام پر بے پناہ حملے کر رہے تھے۔ اِکے دُکے جو عالم دین بھی کہیں موجود تھے وہ ناموس شریعت حقہ کے تحفظ میں مصروف ہوگئے مگر کوئی کامیاب نہ ہوا۔ اس وقت مرزا غلام احمدصاحب میدان میں اترے اور انہوں نے مسیحی پادریوں اور آریہ پدیشکوں کے مقابلہ میں اسلام کی طرف سے سینہ سپر ہونے کا تہیہ کر لیا۔ مجھے یہ کہنے میں ذرا باک نہیں کہ مرزا صاحب نے اس فرض کو نہایت خوبی اور خوش اسلوبی سے ادا کیا۔ اور مخالفین اسلام کے دانت کھٹے کر دئیے۔ اسلام کے متعلق ان کے بعض مضامین لاجواب ہیں۔ ‘‘

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی قبولیتِ دعا کے عظیم الشان نشان

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’میں کثرت قبولیت کا نشان دیا گیا ہوں۔کوئی نہیں جو اس کا مقابلہ کرسکے۔ میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میری دعائیں 30 ہزار کے قریب قبول ہوچکی ہیں اور ان کا میرے پاس ثبوت ہے۔‘‘
(روحانی خزائن جلد13 صفحہ 497)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کو ماننا کیوں ضروری ہے؟

حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے امام مہدی کی بیعت اور اطاعت کرنے کے متعلق تعلیم دیتے ہوئے فرمایا۔
”جس نے امام مہدی کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے اس کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔“
(بحارالانوار جلد 13 صفحہ 17)

مزید پڑھیں

دشمنوں کی ہلاکت اور اُن کی ذلت ورسوائی(حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئیوں کی روشنی میں)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو الہاماً فرمایا:
اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ
یعنی جوتجھے ذلیل کرنے کاارادہ کرے گامَیں اس کو ذلیل کروں گا۔
(براہین احمدیہ،روحانی خزائن جلد 1صفحہ601)
پھر فرمایا
وَنُمَزِّقُ الْاَعْدَاءَ کُلَّ مُمَزَّقٍ
یعنی مَیں تیرے دشمن کو ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا
(تذکرہ صفحہ550)
اور پھر ایک موقع پر اللہ تعالیٰ آپؑ کو مخاطب ہو کر فرماتا ہے۔
یَعْصِمُکَ اللّٰہُ مِنَ الْعِدَا وَیَسْطُوْبِکُلِّ مَنْ سَطَا
یعنی اللہ دشمنوں سے تجھے بچائے گا اورہرایک جوتجھ پر حملہ کرتاہے اُس پر حملہ کرے گا۔
(تذکرہ صفحہ 558)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کا بیماروں اورمریضوں سےحُسنِ سلوک

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
”ہر ایک اپنے لئے کوشش کرتا ہے مگر انبیاء علیھم السلام دوسروں کے لئے کوشش کرتے ہیں۔ لوگ سوتے ہیں اور وہ ان کے لئے جاگتے ہیں اور لوگ ہنستے ہیں اور وہ ان کے لئے روتے ہیں اور دنیا کی رہائی کے لئے ہر ایک مصیبت کو بخوشی اپنے پر وارد کرلیتے ہیں۔“
(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 117-118 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کا صبراورعفو و درگزر

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
’’یقیناً یاد رکھو کہ مومن متقی کے دل میں شر نہیں ہوتا۔مومن جس قدر متقی ہوتا جاتا ہے اسی قدر وہ کسی کی نسبت سزا اور ایذاء کو پسند نہیں کرتا۔مسلمان کبھی کینہ پرور نہیں ہو سکتا۔ہاں دوسری قومیں ایسی کینہ پرور ہوتی ہیں کہ اُن کے دل سے دوسرے کی بات کینہ کی کبھی نہیں جاتی اور بدلہ لینے کے لئے ہمیشہ کوشش میں لگے رہتے ہیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے مخالفوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا ہے۔کوئی دُکھ اور تکلیف جو وہ پہنچا سکتے تھے اُنہوں نے پہنچایا ہے۔لیکن پھر بھی اُن کی ہزاروں خطائیں بخشنے کو ہم اب بھی تیار ہیں۔پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو یاد رکھو کہ ہر شخص سے خواہ وہ کسی مذہب کا ہو ہمدردی کرو اور بلاتمیز مذہب و قوم ہر ایک سے نیکی کرو۔‘‘
(تقریریں صفحہ29)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کے ننانوے اسمائے حسنیٰ( از حضرت میر محمد اسمٰعیلؓ)

خدا تعالیٰ کے 99 نام احادیث میں آئے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی 99 نام کتابوں میں موجود ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ الہامی نام جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیئے۔ وہ سب جمع کئے تو 99 ہی بن گئے۔

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ اور بنی نوع انسان کی ہمدردی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
’’اس کے بندوں پر رحم کرو ان پر زبان یا ہاتھ کسی تدبیر سے ظلم نہ کرو اور مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو اور کسی پر تکبر نہ کروگو اپنا ماتحت ہو، کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو۔غریب اور حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمدرد بن جاؤتا قبول کیے جاؤ…بڑے ہو کر چھوٹوں پر رحم کرو ۔ نہ ان کی تحقیراور عالم ہوکر نادانوں کو نصیحت کرو۔ نہ خودنمائی سے ان کی تذلیل اور امیر ہو کر غریبوں کی خدمت کرو نہ خود پسندی سے ان پر تکبرہلاکت کی راہوں سے ڈرو‘‘
(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد نمبر 19صفحہ11 -12

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی مہمان نوازی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام مہمانوں کو کثرت سے فرماتے تھے کہ
’’آپ مہمان ہیں آپ کو جس چیز کی تکلیف ہو مجھے بے تکلّف کہیں کیونکہ مَیں تو اندر رہتا ہوں اور نہیں معلوم ہوتاکہ کس کو کیا ضرورت ہے۔ آجکل مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے بعض اوقات خادم بھی غفلت کر سکتے ہیں۔ آپ اگر زبانی کہنا پسند نہ کریں تو مجھے لکھ کر بھیج دیاکریں۔ مہمان نوازی تو میرا فرض ہے۔‘‘ ۔۔۔۔۔
۔(سیرت حضرت مسیح موعودؑ از حضرت یعقوب علی عرفانی ؓصفحہ142)

مزید پڑھیں