محترم صاحبزادہ مرزا ادریس احمد صاحب

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے صاحبزادہ مرزا ادریس احمد صاحب کی وفات پر فرمایا :
’’ بے نفس اور بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور اپنے پیاروں کے قدموں میں جگہ دے۔‘‘ (آمین)
( خطبہ جمعہ فرمودہ 29 اپریل2005ء)

مزید پڑھیں

محترم صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب اور زوجہ محترمہ   طاہرہ صدیقہ  بیگم صاحبہ

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب کی وفات پر فرمایا:
”صاحبزادہ مرزا منیر احمد جن کو ہم بے تکلفی سے بھائی منیر کہا کرتے تھے بہت سادہ اور نڈر انسان تھے… حضرت عموں صاحبؓ کے بچوں میں ان کا مزاج حضرت عموں صاحبؓ سے بہت ملتا تھا۔ آخری بیماری بڑے حوصلے اور صبر سے کاٹی۔ اللہ تعالیٰ غریق رحمت فرمائے آمین“

مزید پڑھیں

محترم صاحبزادہ کرنل مرزا داؤد احمد صاحب اور زوجہ محترمہ صاحبزادی ذکیہ بیگم صاحبہ

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے صاحبزادہ مرزا داؤد احمد صاحب کی وفات پر اپنے مکتوب میں تحریر فرمایا :
’’ بھائی داؤد بڑے بہادر انسان تھے ۔ بہت خوبیوں کے مالک ،امامت اور جماعت کے لیے غیرت میں تو ایک ننگی تلوار تھے ۔ نہ اپنے کی پرواہ کی نہ پھر کسی اور کی اور یہ رنگ حضرت چچا جان کی ساری اولاد میں ہے ۔ آپ نے جس طرح صبر و رضا کے ساتھ جس رفاقت کا حق ادا کیا ہے ایسی مثال کم دکھائی دیتی ہے ۔ یہ تاثر صرف میرا ہی نہیں بلکہ سب دیکھنے والوں کا ہے ۔ ‘‘
( روز نامہ الفضل مورخہ12جنوری1994ء )

مزید پڑھیں

محترم چوہدری ناصر محمد سیال صاحب

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے چوہدری ناصر محمد سیال صاحب کی وفات پر ایک خط میں تحریر فرمایا:
”مرحوم ان گنت خوبیوں کے مالک تھے، اپنی میٹھی طبیعت اور نیک مزاج کی وجہ سے ہر دلعزیز تھے اور دعاگو شخصیت کے مالک تھے اور فرشتہ سیرت انسان تھے۔“

مزید پڑھیں

محترمہ صاحبزادی امۃ الشکور صاحبہ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے صاحبزادی امۃ الشکور صاحبہ کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے فرمایا :
’’ ان کی بیماری کافی تکلیف دہ تھی۔ آخرمیں پتا لگا کہ کینسر ہے لیکن بڑے حوصلے اور صبر سے انہوں نے برداشت کیا۔ یہ حضرت خلیفہ ثالثؒ بھی ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ انہوں نے ہر تکلیف بڑی صبر سے برداشت کی ہے۔
اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور ان کے بچوں اور ان کی اگلی نسل کو بھی خلافت اور جماعت سے ہمیشہ وفا کے ساتھ تعلق قائم رکھنے کی توفیق عطافرمائے۔‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ 6 ستمبر2019ء)

مزید پڑھیں

محترم صاحبزادہ مرزا حفیظ احمد صاحب اور زوجہ محترمہ سیدہ تنویر الاسلام صاحبہ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے صاحبزادہ مرزا حفیظ احمد صاحب کی وفات پر فرمایا :
’’ بڑے نرمی سے بات کرنے والے، غریبوں سے حسن سلوک کرنے والے تھے… خلافت سے بھی ان کا بڑا تعلق تھا۔ مجھے باقاعدگی سے خط بھی لکھا کرتے تھے اور بڑے اخلاص و وفا کا تعلق انہوں نے ہمیشہ ظاہر کیا… اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے۔‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ 20جولائی2012ء)

مزید پڑھیں

محترم صاحبزادہ مرزا حمید احمد صاحب

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی لندن ہجرت کے وقت صاحبزادہ مرزا حمید احمد صاحب کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ حضورؒ اور بیگم صاحبہؒ ربوہ میں آخری رات آپ کے گھر ٹھہرے نیز ان کا قیام آپ کے بیڈ روم میں ہی تھا۔

مزید پڑھیں

40تقاریربابت خاندان حضرت مسیح موعودؑ (حصہ دوم)

” مشاہدات“ کی یہ متذکرہ بالا کتاب 17ویں جلد ہے جو 40 تقاریر بابت خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلددوم پر مشتمل ہے گو یہ 40 تقاریر ہیں لیکن بعض تقاریر میں بیگمات کو شامل کر کے 48 افراد کی سیرت بیان ہوئی ہے ۔ اس سے قبل اِسی عنوان پر 60 تقاریر پر مشتمل تصنیف  16ویں جلد کے طور پر منصّہ شہود پر آئی تھی جو67  افراد کی سیرت پر مشتمل ہے اور یوں دونوں کتب میں 115 افراد کی سیرت کو جمع کر دیا گیا ہے

مزید پڑھیں

محترم صاحبزادہ مرزا رفیق احمد صاحب اور زوجہ  محترمہ  سیّدہ فریدہ بیگم صاحبہ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے صاحبزادہ مرزا رفیق احمدصاحب کی وفات پر فرمایا :
’’یہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے… اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ اللہ کے فضل سے ان سب کا خلافت سے بڑا وفا کا تعلق ہے ۔ ‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ 5؍اگست2011ء)

مزید پڑھیں

محترم صاحبزادہ مرزا رفیع احمدصاحب  اور زوجہ  محترمہ سیّدہ امۃ السمیع صاحبہ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب کی وفات پر فرمایا :
’’ جب اللہ تعالیٰ نے مجھے خلافت پر متمکن فرمایا تو ان کی طرف سے انتہائی عاجزی اور اخلاص اور وفا کا خط مجھے ملا اور پھراس کے بعد ہر خط میں یہ حال بڑھتا چلا گیا۔ باوجود اس کے کہ میرے ساتھ انتہائی قریبی رشتہ تھا، ماموں کارشتہ تھا۔ ان کے اخلاص اور وفا کے الفاظ پڑھ کر دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھر جاتاتھا ۔‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ 23جنوری2004ء )

مزید پڑھیں