آنحضرتؐ کی سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی تک رسائی اور جنت کا دیکھنا (معراج مصطفیؐ کا شُہرہِ آفاق سفر)

قرآن کریم اور احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ معراج دو مرتبہ ہوا۔ پہلا معراج ابتدائے نبوت میں ہوا جس میں نمازیں فرض ہوئیں اوردوسرا معراج نبوت کے پانچویں سال یا اس سے کچھ عرصہ پہلے ہوا۔ سورۃ نجم میں جس معراج کا ذکر ہے وہ دوسرا معراج ہے۔
(تفسیر کبیر جلد 4 صفحہ284)

مزید پڑھیں

اَنَا اللَّبِنَۃُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّنَ (حضرت محمدؐ ) مَیں وہ اینٹ ہوں اور مَیں خَاتَمُ النبین ہوں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ نبی دیا جو خاتم المومنینؐ، خاتم العارفینؐ اور خاتم النبیینؐ ہے اور اسی طرح پر وہ کتاب اس پر نازل کی جو جامع الکتب اور خاتم الکتب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو خاتم النبیین ہیں اور آپ پر نبوت ختم ہو گئی۔ تو یہ نبوت اس طرح پر ختم نہیں ہوئی جیسے کوئی گلا گھونٹ کر ختم کر دے۔ ایسا ختم قابل فخر نہیں ہوتا۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہونے سے یہ مراد ہے کہ طبعی طور پر آپ پر کمالات نبوت ختم ہو گئے۔ یعنی وہ تمام کمالات متفرقہ جو آدمؑ سے لے کر مسیح.ابن مریمؑ تک نبیوں کو دئیے گئے تھے۔کسی کو کوئی اور کسی کو کوئی، وہ سب کے سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع کر دئیے گئے اور اس طرح پر طبعاً آپؐ خاتم.النبیین ٹھہرے اور ایسا ہی وہ جمیع تعلیمات، وصایا اور معارف جو مختلف کتابوں میں چلے آتے ہیں وہ قرآن شریف پر آ کر ختم ہو گئے اور قرآن شریف خاتم.الکتب.ٹھہرا۔‘‘
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ341-342 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

لَوْ کَانَ مُوْسیٰ وَ عِیْسیٰ حَیَّیْنِ لَمَا وَسِعَھُمَا اِلَّا اِتَّبَاعِیْ ( حضرت محمدؐ ) اگر حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ زندہ ہوتے تو اُنہیں میری پیروی کے بغیرچارہ نہ ہوتا

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ابتدا میں چند آدمی آپؐ پر ایمان لائے تھے اُس وقت خدا تعالیٰ نے آپؐ سے کہا کہ مَیں تیری جماعت میں اتنی برکت دوں گا کہ انسانوں کے لحاظ سے دنیا کی کوئی طاقت اور کوئی جماعت تیرا مقابلہ نہیں کر سکے گی ۔ زمانہ ترقی کرتا گیا اللہ تعالٰی نے لوگوں کے دلوں میں آپؐ کی محبت اور عشق پیدا کیا۔ ایک طرف آپؐ کا دائرہ وسیع ہو گیا اور دوسری طرف تمام ممالک میں آپؐ کی تعلیم نے وہ اثر کیا کہ آپؐ کی وفات کے وقت دنیا نے دیکھا کہ نہ صرف یہ کہ ابو جہل اورعاص بن وائل کے ساتھیوں کے مقابلہ میں ہی آپؐ کو اچھے اتباع ملے بلکہ آپؐ کی وفات کے وقت دنیا نے یہ مان لیا کہ جو اتباع آپؐ کو ملے ہیں اُن کے مقابلہ میں موسٰی اور عیسٰی علیہما السلام کے ساتھی بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتے ۔ چنانچہ آپؐ فرماتے ہیں لَوْ کَانَ مُوْسیٰ وَ عِیْسیٰ حَیَّیْنِ لَمَا وَسِعَھُمَا اِلَّا اِتَّبَاعِیْ (الیواقیت والجواہر صفحہ 24) اگر حضرت موسٰی اور عیسٰی علیہما السلام بھی زندہ ہوتے تو ان کو میرے صحابہ میں شامل ہوئے بغیر کوئی چارہ نہ ہوتا۔ گویا حضرت موسٰی اور حضرت عیسٰی علیہما السلام بھی آپؐ کے زمانہ میں زندہ موجود ہوتے تو وہ بھی آپؐ کے فرمانبردار اور مطیع ہوتے۔دیکھو! کتنا بڑا کوثر ہے جو آپؐ کو عطا کیا گیا۔ اگر آپؐ کی ابتدائی حالت کو دیکھا جائے ،اللہ تعالیٰ کے آپؐ کے ساتھ جو ابتدائی سلوک تھا اسے دیکھا جائے ،آپؐ کے اخلاق کے مظاہروں کو دیکھا جائے اور پھر آپؐ کے آخری انجام کو دیکھا جائے تو دل ایمان سے لبریز ہو جاتا ہے۔“
(تفسیر کبیر جلد 10 صفحہ 231)

مزید پڑھیں

مجھ پر سورۃ الکوثر نازل ہوئی  (حضرت محمدؐ ) (تقریر نمبر 6)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
” (کوثر میں) وہ تمام امور جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوی زندگی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں وہ سب کے سب کوثر کا حصّہ ہیں اور اِس لفظ میں یہ دعویٰ ہے کہ وہ تمام کمالات جو نبوت کا حصّہ ہیں یا نبوت سے اِن کا گہرا تعلق ہے۔ اُن سب میں آپؐ کو کوثر ملی ۔“
( تفسیر کبیر جلد 10 صفحہ 248)

مزید پڑھیں

اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَر اَلۡکَوثَرۡ ۔ خَیرِ کَثِیر بذریعہ حضرت مسیح موعودؑ (تقریر نمبر5)

حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے سورۃ الکوثر میں اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَر کے تحت فٹ نوٹ میں فرمایا:
” کَوۡثَر کے معنے ہر چیز کی کثرت کے ہیں نیز ایسے شخص کے جو بہت خیرات کرنے والا اور سخی ہو ۔ جیسا کہ حدیثوں میں مسیحؑ کی نسبت آتا ہے کہ وہ آئے گا اور مال لٹائے گا لیکن لوگ اسے قبول نہیں کریں گے۔ پس اس جگہ ایک آنے والے اُمتی کا ذکر ہے جو روحانی طور پر ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ہوگا ۔ چنانچہ اس سورۃ میں بتایا ہے کہ کافر کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتر ہیں ۔ وہ کس طرح ابتر ہوسکتے ہیں جبکہ ان کی روحانی اولاد میں تو ایک ایسا شخص کھڑا ہونے والا ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہو ئی تعلیم کے خزانے لٹائے گا۔ یہاں تک کہ لوگ اس کے دئے ہوئے مال کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ایسا مال جس کے لینے سے لوگ انکار کرتے ہیں علمی خزانے ہی ہوتے ہیں ورنہ ظاہری مال کے لحاظ سے تو اگر کسی کے پاس کروڑ پونڈ ہوتو اُسے اگر ایک پونڈ بھی دیا جائے تو وہ اسے قبول کرلیتا ہے۔“
( تفسیر صغیر صفحہ نمبر847 فٹ نوٹ )

مزید پڑھیں

50تقاریر بابت سیرت و شمائل حضرت محمد ﷺ (حصہ سوم)

صدر دروازہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی حیات پر یقین رکھنا اورآپؐ کو زندہ نبی کہنا اور اُنہیں زندہ نبی  ثابت کرنا ہرمسلمان بالخصوص ہر احمدی مسلمان کا فرض ہے۔ اس کے لئے جہادباللسّان،  جہاد بالقلم ، جہاد بالنفس اور جہاد بالمال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے […]

مزید پڑھیں

اَلْکَوْثَرْ۔ خَیْرِ کَثَیْر اَیْ اَلْقُرْآن (اَلْخَیْرُ کُلُّہٗ فِی الْقُرْاٰنِ) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
”میرا مذہب یہ ہے کہ تین چیزیں ہیں کہ جو تمہاری ہدایت کے لئے خدا نے تمہیں دی ہیں۔ سب سے اوّل قرآن ہے جس میں خدا کی توحید اور جلال اور عظمت کا ذکر ہے اور جس میں ان اختلافات کا فیصلہ کیا گیا ہے جو یہود اور نصاریٰ میں تھے… خدا نےمجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ اَلْخَیْرُ کُلُّہٗ فِی الْقُرْاٰنِ کہ تمام قسم کی بھلائیاں قرآن میں ہیں یہی بات سچ ہے …قرآن ایک ہفتہ میں انسان کو پاک کر سکتا ہے اگر صوری یا معنوی اعراض نہ ہو قرآن تم کو نبیوں کی طرح کر سکتا ہے اگر تم خود اس سے نہ بھاگو ……تمہاری تمام کوشش اسی میں مصروف ہونی چاہئے کہ تم خدا کے تمام احکام کے پابند ہو جاؤ اور یقین میں ترقی چاہو نجات کے لئے نہ الہام نمائی کے لئے۔“۔۔۔۔
۔ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 26 – 28 )

مزید پڑھیں

الکوثر، خیر کثیر کے معانی (حضرت مصلح موعودؓ کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر3)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”غرض موسیٰ علیہ السلام کو کتاب ملی جس کے معنے حکم ہوتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو احکام دئےجن میں سے آپ کو کچھ احکام تو لفظاً لفظاً یاد رہ گئے اور باقی کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے الفاظ میں بیان کردیا اور وہ تورات میں درج ہوگئے۔ مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کلام اللہ دیا گیا جس کے الفاظ اوّل سے آخر تک وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں۔ گویا سورۃ فاتحہ کی ‘ب’ سے لیکر سورۃ النّاس کی ‘س’ تک نہ کوئی لفظ ایسا ہے اور نہ کوئی زیر اور زبر جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے شامل کردیا ہو۔ بلکہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے الفاظ ہیں۔ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر کتنی بڑی فضیلت ہے کوئی عیسائی یا یہودی تورات کے متعلق قسم نہیں کھاسکتا کہ یہ وہی کتاب ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی۔ کوئی عیسائی یا یہودی بھلا یہ قسم کھا کر کہہ تو دے کہ میرے بیوی بچوں کو خداتعالیٰ تباہ کرے اور اگلے جہان میں بھی اُن پر لعنت ہو اگر تورات کے الفاظ وہی نہ ہوں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اُترے تھے۔ کوئی عیسائی یا یہودی ایسی قسم نہیں کھاسکتا ۔ لیکن ہم قرآن کریم کے متعلق یہ قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں آج بھی آئندہ بھی۔ کہ اگر یہ وہی الفاظ نہ ہوں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے تھے تو ہمارے بیوی بچوں کو خداتعالیٰ تباہ کرے اور اگلے جہان میں بھی اُن پر لعنت ہو ۔ یہ کتنی بڑی فضیلت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ پر حاصل ہوئی۔“

مزید پڑھیں

اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ (حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کی تفسیر کے آئینہ میں) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّلؓ فرماتے ہیں کہ
”یہ سورۃ مکّی ہے… یہ ایک مختصر سی سورۃ ہے اور اس مختصر سی سورۂ شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم الشان پیشگوئی بیان فرمائی ہے۔ جو جامع ہے پھر اس کے پورا ہونے پر شکریہ میں مخلوقِ الٰہی کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے … پس یہ ایک سورۂ شریفہ ہے ۔ بہت ہی مختصر ۔ لفظ اتنے کم کہ سننے والے کو کوئی ملال طوالت کا نہیں یہاں تک کہ ایک چھوٹا سا بچہ بھی ایک دن میں ہی اُسے یاد کرلے۔ اگر ان کے مطالب اور معانی دیکھو تو حیرت انگیز۔“
(حقائق الفرقان جلد 4 صفحہ نمبر498)

مزید پڑھیں

اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ (حضرت مسیح موعودؑ  کے ارشادات کی روشنی میں ) (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
”اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ میں ایک بروزی وجود کا وعدہ دیا گیا جس کے زمانہ میں کوثر ظہور میں آئے گا یعنی دینی برکات کے چشمے بہ نکلیں گے اور بکثرت دنیا میں سچے اہل اسلام ہو جائیں گے۔ اس آیت میں بھی ظاہری اولاد کی ضرورت کو نظرِ تحقیر سے دیکھا اور بروزی اولاد کی پیش گوئی کی۔“
( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ (530

مزید پڑھیں