اُحِلَّتۡ لِیَ الۡغَنَائِمُ (حضرت محمدؐ) غنیمتیں میرے لئے جائز کی گئی ہیں (تقریر نمبر 6)
حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے سورۃ انفال آیت 2 کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ:
”یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ: تین الفاظ ہیں۔ فَے ، غنیمت ، نفل۔ 1۔ فَے : جس مال پر مسمانوں کا کچھ بڑا خرچ نہ ہوا ہو جیسے سورہ حشر میں فَمَا اَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِکَابٍ ۔ ( حشر:7)۔ 2۔ نفل: وہ مال جو خرچ کے بالمقابل زیادہ ملا ہو۔ 3۔ غنیمت : اِس لفظ کے معنوں میں عام لوگوں نے سخت غلطی کھائی ہے … غنیمت کے معنی لُوٹ کے کئے جاتے ہیں۔ عربی زبان میں غنیمت کہتے ہیں ۔ مطلق حصولِ مال کو۔ “
(حقائق الفرقان جلد دوم صفحہ250)
