لَوْ کَانَ مُوْسیٰ وَ عِیْسیٰ حَیَّیْنِ لَمَا وَسِعَھُمَا اِلَّا اِتَّبَاعِیْ ( حضرت محمدؐ ) اگر حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ زندہ ہوتے تو اُنہیں میری پیروی کے بغیرچارہ نہ ہوتا
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ابتدا میں چند آدمی آپؐ پر ایمان لائے تھے اُس وقت خدا تعالیٰ نے آپؐ سے کہا کہ مَیں تیری جماعت میں اتنی برکت دوں گا کہ انسانوں کے لحاظ سے دنیا کی کوئی طاقت اور کوئی جماعت تیرا مقابلہ نہیں کر سکے گی ۔ زمانہ ترقی کرتا گیا اللہ تعالٰی نے لوگوں کے دلوں میں آپؐ کی محبت اور عشق پیدا کیا۔ ایک طرف آپؐ کا دائرہ وسیع ہو گیا اور دوسری طرف تمام ممالک میں آپؐ کی تعلیم نے وہ اثر کیا کہ آپؐ کی وفات کے وقت دنیا نے دیکھا کہ نہ صرف یہ کہ ابو جہل اورعاص بن وائل کے ساتھیوں کے مقابلہ میں ہی آپؐ کو اچھے اتباع ملے بلکہ آپؐ کی وفات کے وقت دنیا نے یہ مان لیا کہ جو اتباع آپؐ کو ملے ہیں اُن کے مقابلہ میں موسٰی اور عیسٰی علیہما السلام کے ساتھی بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتے ۔ چنانچہ آپؐ فرماتے ہیں لَوْ کَانَ مُوْسیٰ وَ عِیْسیٰ حَیَّیْنِ لَمَا وَسِعَھُمَا اِلَّا اِتَّبَاعِیْ (الیواقیت والجواہر صفحہ 24) اگر حضرت موسٰی اور عیسٰی علیہما السلام بھی زندہ ہوتے تو ان کو میرے صحابہ میں شامل ہوئے بغیر کوئی چارہ نہ ہوتا۔ گویا حضرت موسٰی اور حضرت عیسٰی علیہما السلام بھی آپؐ کے زمانہ میں زندہ موجود ہوتے تو وہ بھی آپؐ کے فرمانبردار اور مطیع ہوتے۔دیکھو! کتنا بڑا کوثر ہے جو آپؐ کو عطا کیا گیا۔ اگر آپؐ کی ابتدائی حالت کو دیکھا جائے ،اللہ تعالیٰ کے آپؐ کے ساتھ جو ابتدائی سلوک تھا اسے دیکھا جائے ،آپؐ کے اخلاق کے مظاہروں کو دیکھا جائے اور پھر آپؐ کے آخری انجام کو دیکھا جائے تو دل ایمان سے لبریز ہو جاتا ہے۔“
(تفسیر کبیر جلد 10 صفحہ 231)
