تقریر بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور سریّہ عبداللہ بن عتیک
سریہ عبداللہ بن عتیک، ابورافع کی طرف بھجوایا گیا تھا۔ ابن سعد نے بیان کیا ہے کہ یہ سریّہ رمضان 6 ہجری میں ہوا۔
مزید پڑھیںسریہ عبداللہ بن عتیک، ابورافع کی طرف بھجوایا گیا تھا۔ ابن سعد نے بیان کیا ہے کہ یہ سریّہ رمضان 6 ہجری میں ہوا۔
مزید پڑھیںعَنْ اَنَسٍ عَنِ النَّبیِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ انَّمَا سُمِّیَ الرَّ مَضَانُ لِاَ نَّہٗ یَرْ مَضُ الذُّ نُوْبَ ۔
(کنز العمال کتاب الصوم )
ترجمہ: حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اِس مبارک مہینے کا نام “رمضان” اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ یہ گناہوں کو جلا کر بھسم کر دیتا ہے ۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”یاد رکھو! قبریں آوازیں دے رہی ہیں اور موت ہر وقت قریب ہوتی جاتی ہے۔ ہر ایک سانس تمہیں موت کے قریب کرتا جاتا ہے اور تم اُسے فرصت کی گھڑیاں سمجھتے جاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے مکر کرنا مؤمن کا کام نہیں ہے۔ جب موت کا وقت آگیا پھر ساعت آگے پیچھے نہ ہوگی۔“
(ملفوظات جلد اول صفحہ124)
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کیا اللہ نے تمہارے لئے وہ چیز نہیں بنائی جو تم صدقہ کرو۔ یقینًا ہر تسبیح صدقہ ہے۔ ہر تکبیر صدقہ ہے۔ہر تحمید صدقہ ہے اورہر تہلیل( لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنا)صدقہ ہے اور نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے اور بدی سے روکنا صدقہ ہے اور تمہارا اپنی بیوی سے تعلق قائم کرنا بھی صدقہ ہے۔
(مسلم کتاب الزکوۃ)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
”مَیں تمہیں بڑے زور سے بتلاتا ہوں کہ دنیا میں لوگ خداتعالیٰ سے غافل ہوگئے ہیں۔ حالانکہ اُس سے بڑھ کر خوبصورت، اُس سے بڑھ کر محبت کرنے والا، اُس سے بڑھ کر پیارا اور کوئی نہیں ہے۔“
(برکات خلافت، انوار العلوم جلد 2صفحہ 238)
حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
’’رمضان کے مہینے میں ایک خاص ماحول بنا ہوتا ہے اور دوسروں کی دیکھا دیکھی بھی عبادتوں اور نیکیوں کی طرف توجہ پیدا ہو رہی ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں عبادتوں اور نیکیوں کی طرف توجہ کرتے ہوئے، اپنے اعمال کی طرف توجہ کرتے ہوئے، ہمیں اپنے خدا کے آگے جھکتے ہوئے گزشتہ گناہوں کی معافی مانگنی چاہئے اور پھر اس رمضان کی عبادتوں کو اور اس میں تبدیلیوں کو آئندہ زندگی کا مستقل حصہ بنا لینا چاہئے اور اس میں جو گناہ معاف ہوئے یا جنت کے دروازے کھولے گئے تو پھر ہمیشہ کوشش کرنی چاہئے کہ یہ کھلے رہیں اور رمضان کے فیوض سے حصہ لینے کے لئے نہایت عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔ اللہ کرے کہ ہم اس کے فیض پاتے چلے جائیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے سامنے روزوں کا جو مقصد رکھا ہے کہ تقویٰ حاصل ہو اس کے بھی معیار حاصل کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ 2جون 2017ء )
حضرت ابو مسعود غفاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے رمضان شروع ہونے کے بعد ایک روز آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر لوگوں کو رمضان کی فضیلت کا علم ہوتا تو میری اُمّت اس بات کی خواہش کرتی کہ سارا سال ہی رمضان ہو۔اس پر بنوخزاعہ کے ایک آدمی نے کہا کہ اے اللہ کے نبیؐ! ہمیں رمضان کے فضائل سے آگاہ کریں۔ چنانچہ آپؐ نے فرمایا یقیناً جنت کو رمضان کے لئے سال کے آغاز سے آخر تک مزیّن کیا جاتا ہے۔ پس جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش الٰہی کے نیچے ہوائیں چلتی ہیں۔
(الترغیب والترھیب کتاب الصوم الترغیب فی صیام رمضان احتساباً … حدیث 1498)
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جہنم کی آگ ان دوآنکھوں پر حرام ہے۔ اول وہ آنکھ جو خوفِ خدا میں آنسو بہاتی ہے اور دوم۔ وہ آنکھ جو راتوں کو جاگ کر اللہ تعالیٰ کے راستے میں پہرہ دیتی ہے ۔
(المستدرک کتاب الجہاد)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ کون سی ہجرت افضل ہے تو آپؐ نے فرمایا
مَنْ ہَجَرَ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ
(سنن ابوداؤد جلد اول کتاب الصلوٰۃ)
کہ جن باتوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ان کو چھوڑ دینا۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے۔
ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ (البقرہ:3)
یہ (کامل) کتاب ہے ، نہیں کوئی شک جس میں، ہدایت ہے متقیوں کے لیے۔