تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان اور مَن    کا مَنکا صاف کر

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
’’جیسے بیت اللہ میں حجرِ اسود پڑا ہوا ہے اسی طرح قلب، سینہ میں پڑا ہوا ہے… قلبِ انسانی بھی حجرِاسود کی طرح ہے اور اس کا سینہ، بیت اللہ سے مشابہت رکھتا ہے۔‘‘
)ملفوظات جلد اول صفحہ172۔173(

مزید پڑھیں

درس نمبر11 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور محفوظ قلعے میں داخل کرنے والی دعائیں

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’مَیں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اللہ کو زیادہ یاد کرو اور ذکر کی مثال ایسی سمجھو کہ جیسے کسی آدمی کا اس کے دشمن نہایت تیزی کے ساتھ پیچھا کر رہے ہوں یہاں تک کہ اس آدمی نے بھاگ کر ایک مضبوط قلعے میں پناہ لی اور دشمنوں کے ہاتھ لگنے سے بچ گیا۔ اِسی طرح انسان شیطان سے نجات پا سکتا ہے ورنہ کوئی ذریعہ نہیں۔‘‘
(شعب الایمان جزء دوم صفحہ 73 حدیث 534)

مزید پڑھیں

تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان میں ہونے والی  دو بابرکت شادیاں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے کامل ترین انسان، اعلیٰ حکمران، بہترین سپہ سالار، قاضی، تاجر اور ساتھ ہی ساتھ کامل شوہر بھی تھے، بحیثیت شوہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پہ نظر دوڑائیں تو عمدہ آبگینوں سے مزیّن ہے جو کہ موجودہ زمانے میں تمام خاوندوں کے لئے قابل نمونہ اور لاثانی طرزِ عمل ہے۔ آپؐ کی جن دو ازواجِ.مطہرات کا ذکر کرنا آج مجھے مقصود ہے جن کی شادیاں رمضانُ المبارک میں ہوئیں۔ وہ دونوں ازواج یعنی حضرت سودہ بنتِ زمعہؓ اور حضرت زینب بنتِ خزیمہؓ اُن خصوصیات کی حامل تھیں جن کا تعلق بالخصوص رمضان کی برکات اور فضائل سےہے ۔

مزید پڑھیں

درس نمبر 10بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان ، دعاؤں کا مہینہ

حدیث میں آتا ہے کہ رمضان کی ہر رات اللہ تعالیٰ منادی کرنے والے ایک فرشتہ کو عرش سے فرش پر بھیجتا ہے۔جو یہ اعلان کرتا ہے
یا بَاغِیُ الْخَیْرِ ھَلُمَّ ھَلْ مِنْ دَاعٍ یُسْتَجَابُ لہٗ ھَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ یُسْتَغْفَرُ لَہٗ ھَلْ مِنْ تَائبٍ یُتَابُ عَلَیْہِ ھَلْ مِنْ سائلٍ یُعْطَیٰ سؤلہٗ
(کنزالعمال)
کہ اے خیر کے طالب! آگے بڑھو۔ کیا کوئی ہے جو دُعا کرے تا کہ اُس کی دعا قبول کی جائے؟کیا کوئی ہے جو استغفار کرے کہ اُسے بخش دیا جائے کیا؟ کوئی ہے جو توبہ کرے تا کہ اس کی توبہ قبول کی جائے؟ کیا کوئی ہے جو سوال کرے۔ جس کو پورا کیا جائے گا؟

مزید پڑھیں

درس نمبر 9بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان کا پیغام

عَنْ اَنَسٍ عَنِ النَّبیِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ انَّمَا سُمِّیَ الرَّ مَضَانُ لِاَ نَّہٗ یَرْ مَضُ الذُّ نُوْبَ ۔
(کنز العمال کتاب الصوم )
ترجمہ: حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اِس مبارک مہینے کا نام “رمضان” اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ یہ گناہوں کو جلا کر بھسم کر دیتا ہے ۔

مزید پڑھیں

تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان اور ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”یاد رکھو! قبریں آوازیں دے رہی ہیں اور موت ہر وقت قریب ہوتی جاتی ہے۔ ہر ایک سانس تمہیں موت کے قریب کرتا جاتا ہے اور تم اُسے فرصت کی گھڑیاں سمجھتے جاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے مکر کرنا مؤمن کا کام نہیں ہے۔ جب موت کا وقت آگیا پھر ساعت آگے پیچھے نہ ہوگی۔“
(ملفوظات جلد اول صفحہ124)

مزید پڑھیں

درس نمبر 8بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور نیکیوں میں آگے بڑھنے کی دوڑ

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کیا اللہ نے تمہارے لئے وہ چیز نہیں بنائی جو تم صدقہ کرو۔ یقینًا ہر تسبیح صدقہ ہے۔ ہر تکبیر صدقہ ہے۔ہر تحمید صدقہ ہے اورہر تہلیل( لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنا)صدقہ ہے اور نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے اور بدی سے روکنا صدقہ ہے اور تمہارا اپنی بیوی سے تعلق قائم کرنا بھی صدقہ ہے۔
(مسلم کتاب الزکوۃ)

مزید پڑھیں

تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء اللہ ہمارا بہترین دوست ہے

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
”مَیں تمہیں بڑے زور سے بتلاتا ہوں کہ دنیا میں لوگ خداتعالیٰ سے غافل ہوگئے ہیں۔ حالانکہ اُس سے بڑھ کر خوبصورت، اُس سے بڑھ کر محبت کرنے والا، اُس سے بڑھ کر پیارا اور کوئی نہیں ہے۔“
(برکات خلافت، انوار العلوم جلد 2صفحہ 238)

مزید پڑھیں

درس نمبر7 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان کے فضائل

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
’’رمضان کے مہینے میں ایک خاص ماحول بنا ہوتا ہے اور دوسروں کی دیکھا دیکھی بھی عبادتوں اور نیکیوں کی طرف توجہ پیدا ہو رہی ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں عبادتوں اور نیکیوں کی طرف توجہ کرتے ہوئے، اپنے اعمال کی طرف توجہ کرتے ہوئے، ہمیں اپنے خدا کے آگے جھکتے ہوئے گزشتہ گناہوں کی معافی مانگنی چاہئے اور پھر اس رمضان کی عبادتوں کو اور اس میں تبدیلیوں کو آئندہ زندگی کا مستقل حصہ بنا لینا چاہئے اور اس میں جو گناہ معاف ہوئے یا جنت کے دروازے کھولے گئے تو پھر ہمیشہ کوشش کرنی چاہئے کہ یہ کھلے رہیں اور رمضان کے فیوض سے حصہ لینے کے لئے نہایت عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔ اللہ کرے کہ ہم اس کے فیض پاتے چلے جائیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے سامنے روزوں کا جو مقصد رکھا ہے کہ تقویٰ حاصل ہو اس کے بھی معیار حاصل کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ 2جون 2017ء )

مزید پڑھیں