میڈیا کے ذریعہ جھوٹ، لغویات کی تشہیر

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’آج انٹرنیٹ یا کمپیوٹر پر آپس کے تعارف کا ایک نیا ذریعہ نکلا ہے جسے face book کہتے ہیں۔ گو اتنا نیا بھی نہیں لیکن بہرحال یہ بعد کی چند سالوں کی پیداوار ہے۔ اِس طریقے سے مَیں نے ایک دفعہ منع بھی کیا، خطبے میں بھی کہا کہ یہ بے حیائیوں کی ترغیب دیتا ہے۔آپس کے جوحجاب ہیں، ایک دوسرے کا حجاب ہے، اپنے راز ہیں بندے کے وہ اُن حجابوں کو توڑتا ہے،اُن رازوں کو فاش کرتا ہے اور بےحیائیوں کی دعوت دیتا ہے۔ اِس سائٹ کو جو بنانے والا ہے اُس نے خود یہ کہا ہے کہ مَیں نے اِسے اس لئے بنایا ہے کہ مَیں سمجھتا ہوں کہ انسان جو کچھ ہے وہ ظاہر و باہر ہوکر دوسرے کے سامنے آجائے اور اُس کے نزدیک ظاہر و باہر ہوجانا یہ ہے کہ اگر کوئی اپنی ننگی تصویر بھی ڈالتا ہے تو بیشک ڈال دے اور اس پر دوسروں کو تبصرہ کرنے کی دعوت دیتا ہے تو یہ جائز ہے۔ اِنَّاللّٰہ۔ اسی طرح دوسرے بھی جو کچھ کسی بارے میں دیکھیں اس میں ڈال دیں۔ یہ اخلاقی پستی اور گراوٹ کی انتہا نہیں تو اَور کیا ہے؟ اوراِس اخلاقی پستی اور گراوٹ کی حالت میں ایک احمدی ہی ہے جس نے دنیا کو اخلاق اور نیکیوں کے اعلیٰ معیار بتانے ہیں۔‘‘
(اختتامی خطاب برموقع جلسہ سالانہ جرمنی فرمودہ 26؍جون 2011ء )

مزید پڑھیں

گھریلوجھگڑوں و عائلی تنازعات کی وجہ ۔ جھوٹ اور قولِ زور

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’بہت سے جھگڑے خاوند بیوی کے اس لئے ہو رہے ہوتے ہیں کہ بے اعتمادی کا شکار ہوئے ہوتے ہیں۔ عورت کو شکوہ ہوتا ہے کہ مرد سچ نہیں بولتا۔ مرد کو شکوہ ہوتا ہے کہ عورت سچ نہیں بولتی اور اس کوسچ بولنے کی عادت ہی نہیں اور اکثر معاملات میں یہ ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہوتے ہیں کہ میرے سے غلط بیانی سے کام لیا یا مستقل ہر بات میں غلط بیانی کرتے ہیں یا کرتی ہے۔ پھر سچ پر قائم نہ رہنے کی وجہ سے بچوں پر بھی اثر پڑتا ہے اور بچے بھی جھوٹ بولنے کی عادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ‘‘
(جلسہ سالانہ جرمنی خطاب از مستورات فرمودہ21؍ اگست2004ء)

مزید پڑھیں

وَاجۡتَنِبُوۡا قَوۡلَ الزُّوۡرِ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’قرآن شریف نے دروغ گوئی کو بُت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاجتَنِبُوا الرِّجسَ مِنَ الاَوثَانِ وَاجتَنِبُوا قَولَ الزُّورِیعنی بُتوں کی پلیدی اور جھوٹ کی پلیدی سے پرہیز کرو ۔“
( نور القرآن نمبر2روحانی خزائن جلد9صفحہ403، تفسیر حضرت مسیح موعودؑ سورۃ الحج صفحہ373)

مزید پڑھیں

عہد شکنی نہ کرو

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں :
”کیا ہی خوش قسمت وہ لوگ ہیں جو اپنے دلوں کو صاف کرتے اور اپنے دلوں کو ہر ایک آلودگی سے پاک کرلیتے ہیں اور اپنے خدا سے وفاداری کا عہد باندھتے ہیں کیونکہ وہ ہرگز ضائع نہیں کئے جائیں گے ۔ ممکن نہیں کہ خدا ان کو رسوا کرے کیونکہ وہ خدا کے ہیں اور خدااُ ن کا۔ وہ ہر ایک بَلا کے وقت بچائے جائیں گے ۔“
( کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 19-20)

مزید پڑھیں

اسلام کا ایک بنیادی وصف ۔ سچائی

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ
”یقیناً یاد رکھو! جھوٹ جیسی کوئی منحوس چیز نہیں عام طور پر دنیا دار کہتے ہیں کہ سچ بولنے والے گرفتار ہو جاتے ہیں ۔ مگر مَیں کیوں کر اس کو باور کروں ۔ مجھ پر 7 مقدمے ہوئے ہیں اور خدا کے فضل سے کسی میں بھی ایک لفظ بھی مجھے جھوٹ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی “
(ملفوظات جلد 4 صفحہ 238)

مزید پڑھیں

غصّہ پر قابو پانا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’یاد رکھو کہ عقل اور جوش میں خطرناک دشمنی ہے۔جب جوش اور غصّہ آتا ہے تو عقل قائم نہیں رہ سکتی۔ لیکن جو صبر کرتا ہے اور بردباری کا نمونہ دکھاتا ہے اس کو ایک نور دیا جاتا ہے جس سے اس کی عقل و فکر کی قوتوں میں ایک نئی روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر نور سے نور پیدا ہوتا ہے۔ غصّہ اور جوش کی حالت میں چونکہ دل و دماغ تاریک ہوتے ہیں اس لئے پھر تاریکی سے تاریکی پیدا ہوتی ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 180)

مزید پڑھیں

کھانے کے آداب

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
” انسان کے کھانے پینے کے طریق بھی انسان کی اخلاقی اور روحانی حالتوں پر بھی اثر کرتے ہیں۔ اس واسطے قرآن شریف نے تمام عبادات اور اندرونی پاکیزگی کی اغراض اور خشوع و خضوع کے مقاصد میں جسمانی طہارتوں اور جسمانی آداب اور جسمانی تعدیل کو بہت ملحوظ رکھا ہے اور غور کرنے کے وقت یہی فلاسفی نہایت صحیح معلوم ہوتی ہےکہ جسمانی اوضاع کا روح پر بہت قوی اثر ہے۔ “
(اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ 18-19)

مزید پڑھیں

آؤ بچو! لغویات سے کیسے بچیں؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”مومن صرف وہی لوگ نہیں ہیں جو نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں اور سوزوگداز ظاہر کرتے ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر وہ مومن ہیں کہ جو باوجود خشوع اورسوزو گداز کے تمام لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو تعلقوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں اور اپنی خشوع کی حالت کو بیہودہ کاموں اور لغو باتوں کے ساتھ ملا کر ضائع اور برباد ہونے نہیں دیتے اور طبعاً تمام لغویات سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں اور بیہودہ باتوں اور بیہودہ کاموں سے ایک کراہت اُن کے دلوں میں پیدا ہوجاتی ہے … پس دنیا کی لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو سیرو تماشا اور لغو صحبتوں سے واقعی طور پر اُسی وقت انسان کا دل ٹھنڈا ہوتا ہے جب دل کا خدائے رحیم سے تعلق ہو جائے اور دل پر اس کی عظمت اور ہیبت غالب آجائے۔ خدا پرایمان لا کر ہر ایک لغو بات اور لغو کام اور لغو مجلس اور لغو حرکت اور لغو تعلق اور لغو جوش سے کنارہ کشی کی جائے۔“
( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21 صفحہ199۔200)

مزید پڑھیں