حضرت مسیح موعودؑ کا بچوں سے پیار و شفقت اور اُن کی تعلیم و تربیت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
” میرے نزدیک بچوں کو یوں مارنا شرک میں داخل ہے۔ گویا بدمزاج مارنے والا ہدایت اور ربوبیت میں اپنے تئیں حصہ دار بنانا چاہتا ہے۔ایک جوش والاآدمی جب کسی بات پر سزا دیتا ہے تو اشتعال میں بڑھتے بڑھتے دشمن کا رنگ اختیار کرلیتا ہے اور جرم کی حد سے سزا میں سے کوسوں تجاوز کرجاتا ہے۔ اگر کوئی شخص خوددار اور اپنے نفس کی باگ کو قابو سے نہ دینے والا اور پورا متحمل اور بردبار اورباسکون اورباوقار ہو تو اُسے البتہ حق پہنچتا ہے کہ کسی وقت مناسب پر کسی حد تک بچہ کوسزا دے یا چشم نمائی کرے۔ مگر مغلوب الغضب اور سبک سر اورطائش العقل ہرگز سزا وار نہیں کہ بچوں کی تربیت کا متکفل ہو۔“

مزید پڑھیں

ایک احمدی مسلم بچے کی ذمہ داریاں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
”لوگ منہ سے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم اطاعت گزار ہیں سلسلے کا ہر حکم سر آنکھوں پر لیکن جب موقع آئے ، جب اپنی ذات کے حقوق چھوڑنے پڑیں تب پتہ لگتا ہے کہ اطاعت ہے یا نہیں ہے۔ “
(خطبہ جمعہ 27 اگست 2004ء )

مزید پڑھیں

جماعتی پروگرامز،میٹنگز اور اجلاسات میں شمولیت کی اہمیت و برکات

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’جو حالت میری توجہ کوجذب کرتی ہے۔اورجسے دیکھ کرمیں دعاکےلئے اپنے اندر تحریک پاتاہوں وہ ایک ہی بات ہے کہ میں کسی شخص کومعلوم کرلوں کہ یہ خدمت دین کے سزاوار ہے ۔اور اس کاوجود خداکے لئے،خدا کے رسول ؐکے لئے ،خداکی کتاب کے لئے اورخداکے بندوں کے لئے نافع ہے۔ایسے شخص کوجودردوالم پہنچے وہ درحقیقت مجھے پہنچتاہے۔‘‘

مزید پڑھیں

خلافت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے

خلافت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’میری پرورش ایسے ماحول میں ہوئی تھی جس میں یہ سکھایا گیا تھا کہ خلافت کے بغیر کوئی زندگی نہیں ،کوئی روحانی زندگی نہیں۔ جب میں وقف کرکے غانا گیا تو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی کو باقاعدگی سے خطوط لکھتا تھا ۔پھر حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ کو بھی اسی طرح باقاعدگی سے خطوط لکھتا تھا ۔ پھر میں اپنے لیے دعا بھی کرتا رہتا تھا کہ میں ہمیشہ خلافت کے قریب رہوں اور کبھی بھی ایسا کچھ نہ کروں کہ جس سے خلیفہ وقت کو تکلیف ہو۔ یہ دو چیزیں ہیں جن سے آپ خلافت سے تعلق مضبوط کر سکتے ہیں۔ خلیفہ المسیح سے زندہ تعلق قائم رکھیں اور پھر خلیفہ وقت کے لئے مسلسل دعائیں کرتے رہیں۔ اپنے لیے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالی آپ کو ایمان میں پڑھائے اور خلیفہ المسیح سے سے تعلق میں ترقی اور مضبوطی عطا فرمائے ‘‘۔
( حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا دورہ امریکہ2022ء قسط17از الفضل آن لائن لندن)

مزید پڑھیں
brown and black hardbound book

قرآنِ کریم میری زندگی کا نُور ہے

قرآنِ کریم میری زندگی کا نُور ہے
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ
اگر ہماری جماعت قرآنِ کریم کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے تو سارے مصائب آپ ہی آپ ختم ہو جائیں۔
(الفضل 9 دسمبر1947ء)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ۔
”قرآن شریف اپنی روحانی خاصیت اور اپنی ذاتی روشنی سے اپنے سچے پیروں کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس کے دل کو منور کرتا ہے اور پھر بڑے بڑے نشان دکھلا کر خدا سے ایسے تعلقات مستحکم بخش دیتا ہے کہ وہ ایسی تلوار سے بھی ٹوٹ نہیں سکتے جو ٹکڑا ٹکڑا کرنا چاہتی ہے۔ وہ دل کی آنکھ کھولتا ہے اور گناہ کے گندے چشمہ کو بند کرتا ہے اور خدا کے لذیذ مکالمہ مخاطبہ سے شرف بخشتا ہے اور علومِ غیب عطا فرماتا ہے اور دعا قبول کرنے پر اپنے کلام سے اطلاع دیتا ہے۔“
( چشمہ معرفت از روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 308 – 309)

مزید پڑھیں
blue flower in tilt shift lens

عباد الصالحین کیسے بنا جائے

عبادِ الصالحین کیسے بنا جائے
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’الله تعالیٰ متّقی کے راستہ کی تمام دُنیوی روکیں دُور فرما دیتا ہے جو اُس کے دین کے کام میں حارج ہوں، پس اگر دنیاوی کاموں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نمازوں کی وقت پر ادائیگی ہم کر رہے ہیں اور اِسی طرح دوسرے دنیاوی کاموں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جماعتی اور دینی کاموں کو ترجیح دے رہے ہوں تو وہ سب طاقتوں کا مالک خدا فرماتا ہے کہ مَیں تمہارے ساتھ ہوں، تمہاری فکروں کو دُور کروں گا۔ پس انسان نے خدا تعالیٰ کی کیا مدد کرنی ہے، الله تعالیٰ ہے جو ہمیں دینی خدمت کا موقع دیتا ہے، ہماری نیکیوں کے ہمیں اجر دیتا ہے، ہماری ضروریات پوری فرماتا ہے اور پھر اِن تمام نوازشوں کے بعد ہمیں اپنے دین کے مددگاروں میں شامل کرنے کا اعلان فرما دیتا ہے۔ کتنا مہربان ہے ہمارا خدا، کس قدر دیالو ہے ہمارا خدا، اِس کا کبھی ہم احاطہ ہی نہیں کر سکتے۔ پس ہمیں چاہئے کہ ہم الله تعالیٰ کے حقیقی شکر گزار بندے بنتے ہوئے، اُس کے حکموں پر چلتے ہوئے، تقویٰ کی راہوں پر قدم مارتے ہوئے اپنی زندگیاں گزارنے والے بنیں اور یہی ہمارے حقیقی انصار ہونے کی روح ہے۔‘‘
( اختتامی خطاب مجلس انصار اللہ یو کے 2022ء )

مزید پڑھیں

نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے

نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے
اللہ تعالیٰ نے وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡن میں انسان کا مقصدِ حیات عبادت کو قرار دیا ہے اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اِس میدان میں بھی دوسروں کے لئے نمونہ تھے جن کے جسم اور روح میں نماز کی ادائیگی سمائی ہوئی تھی۔
آپؐ کی نمازوں میں آنکھوں کی ٹھنڈک کا یہ عالَم تھا کہ آپؐ کے دشمن بھی آپؐ کی اپنے اللہ سے محبت اور پیار کے مصدِّق تھے اور کہا کرتے تھے عَشِقَ مُحَمَّدٌ رَبَّہُ کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) تو اپنے رب پر عاشق ہوگیا ہے ۔

مزید پڑھیں
blue flower in tilt shift lens

عِبادُ الصالحین کی صفات

عبادِ الصالحین کیسے بنا جائے
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’الله تعالیٰ متّقی کے راستہ کی تمام دُنیوی روکیں دُور فرما دیتا ہے جو اُس کے دین کے کام میں حارج ہوں، پس اگر دنیاوی کاموں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نمازوں کی وقت پر ادائیگی ہم کر رہے ہیں اور اِسی طرح دوسرے دنیاوی کاموں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جماعتی اور دینی کاموں کو ترجیح دے رہے ہوں تو وہ سب طاقتوں کا مالک خدا فرماتا ہے کہ مَیں تمہارے ساتھ ہوں، تمہاری فکروں کو دُور کروں گا۔ پس انسان نے خدا تعالیٰ کی کیا مدد کرنی ہے، الله تعالیٰ ہے جو ہمیں دینی خدمت کا موقع دیتا ہے، ہماری نیکیوں کے ہمیں اجر دیتا ہے، ہماری ضروریات پوری فرماتا ہے اور پھر اِن تمام نوازشوں کے بعد ہمیں اپنے دین کے مددگاروں میں شامل کرنے کا اعلان فرما دیتا ہے۔ کتنا مہربان ہے ہمارا خدا، کس قدر دیالو ہے ہمارا خدا، اِس کا کبھی ہم احاطہ ہی نہیں کر سکتے۔ پس ہمیں چاہئے کہ ہم الله تعالیٰ کے حقیقی شکر گزار بندے بنتے ہوئے، اُس کے حکموں پر چلتے ہوئے، تقویٰ کی راہوں پر قدم مارتے ہوئے اپنی زندگیاں گزارنے والے بنیں اور یہی ہمارے حقیقی انصار ہونے کی روح ہے۔‘‘
( اختتامی خطاب مجلس انصار اللہ یو کے 2022ء )

مزید پڑھیں