حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5 ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ہماری جماعت تو ایمان لاتی ہے۔ مگر اصل میں مدارِ ایمان نشانوں پر ہوتا ہے۔ اگرچہ انسان محسوس نہ کرے مگر اس کے اندر بعض کمزوریاں ضرور ہوتی ہیں اور جب تک وہ کمزوریاں دور نہ ہوں اعلیٰ مراتب ایمانی نہیں مل سکتے اور یہ کمزوریاں نشانات ہی کے ذریعہ دور ہوتی ہیں اور اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اپنے نشانوں سے ان کمزوریوں کو دور کرے اور جماعت اپنے ایمان میں ترقی کرے اب وہ وقت آگیا ہے کہ إِنَّ اللّٰهَ عَلَى نَصْرِهِم لَقَدِيرٌ (الحج:40) کا نمونہ دکھائے ۔ اللہ تعالیٰ کی نظر سے صادق اور کاذب، خائن اور مظلوم پوشیدہ نہیں ہیں۔ اب ضروری ہے کہ سب گروہ متفق ہو کر میرے استیصال کے درپے ہوں جیسے جنگ احزاب میں ہوئے تھے۔ جو کچھ ہو رہا ہے یہ سب خدا تعالیٰ نے چاہا ہے۔ مَیں نے جو خواب میں دیکھا کہ دریائے نیل کے کنارہ پر ہوں اور بعض چلّائے کہ ہم پکڑے گئے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسا وقت بھی آوے جب جماعت کو کوئی ياس ہو مگر مَیں یقین رکھتا ہوں کہ خدا زور آور حملوں سے سچائی ظاہر کر دے گا۔ اس وقت یہ پورے زور لگائیں گے تاکہ قتل کے مقدمہ کی حسرتیں نہ رہ جائیں کہ کیوں چُھوٹ گیا۔ یہ لوگ ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مَیں پیش کرتا ہوں مگر وہ دیکھ لیں گے کہ اِ کرَاماً عَجَبًا کیسے ہوتا ہے۔‘‘
( ملفوظات جلد 5 صفحہ 40)
