حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہمارا صرف ایک ہی رسول ہے اور صرف ایک ہی قرآن شریف اس رسول پر نازل ہوا ہے جس کی تابعداری سے ہم خدا کو پاسکتے ہیں ۔ آج کل فقراء کے نکالے ہوئے طریقے اور گدی نشینوں اور سجادہ نشینوں کی سیفیاں اور دعائیں اور درود اور وظائف یہ سب انسان کو مستقیم راہ سے بھٹکانے کا آلہ ہیں۔ سو تم اُن سے پرہیز کرو ۔ ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے کی مَہر کو توڑنا چاہا گویا اپنی الگ ایک شریعت بنالی ہے۔ تم یاد رکھو کہ قرآن شریف اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی پَیروی اور نماز روزہ وغیرہ جو مسنون طریقے ہیں ان کے سوا خدا کے فضل اور برکات کے دروازے کھولنے کی اور کوئی کُنجی ہے ہی نہیں ۔ بُھولا ہوا ہے جو اِن راہوں کو چھوڑ کر کوئی نئی راہ نکالتا ہے۔ ناکام مرے گا وہ جو اللہ اور اس کے رسول کے فرمودہ کا تابعدار نہیں۔ بلکہ اَور اَور راہوں سے اُسے تلاش کرتا ہے ۔
دیکھو! گناہ کبیرہ بھی ہیں اُن کو تو ہر ایک جانتا ہے اور اپنی طاقت کے موافق نیک انسان اُن سےبچنے کی کوشش بھی کرتا ہے مگر تم تمام گناہوں سے کیا کبائر اور کیا صغائر سب سےبچو ۔ کیونکہ گناہ ایک زہر ہے جس کے استعمال سے زندہ رہنا محال ہے ۔ گناہ ایک آگ ہے جو رُوحانی قویٰ کو جلاکر خاک سیاہ کردیتی ہے۔ پس تم ہر قسم کے کیا صغیرہ کیا کبیرہ سب اندرونی بیرونی گناہوں سے بچو۔ آنکھ کے گناہوں سے ، ہاتھ کے گناہوں سے، کان ناک اور زبان اور شرمگاہ کے گناہوں سے بچو۔ غرض ہر عضو کے گناہ کے زہر سے بچتے رہو اور پرہیز کرتے رہو۔“
(ملفوظات جلد 5صفحہ 125-126)
مزید پڑھیں