حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ(سیرت و سوانح)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ اپنے ایک مکتوب میں فرماتے ہیں :
’’ مجھے بھی خدا نے خبر دی ہے کہ مَیں تجھے ایک ایسا لڑکادوں گا جو دین کا ناصر ہو گا اور اسلام کی خدمت پر کمر بستہ ہو گا ‘‘
(تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ320)

مزید پڑھیں

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ(سیرت و سوانح)

”جس کا نزول بہت مبارک اور جلالِ الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ نُور آتا ہے نُور۔ جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی رُوح ڈالیں گے اور خُدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔‘‘
(اشتہار 20 ؍فروری 1886ء)

مزید پڑھیں

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ(سیرت و سوانح)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت حکیم مولوی نورالدین خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا:
’’ میرے مقام کی محبت کے لیے وہ اپنے اصلی وطن کی یاد کو چھوڑ دیتا ہے اور میرے ہر ایک امر میں میری اس طرح پیروی کرتا ہے جیسے نبض کی حرکت تنفس کی حرکت کی پیروی کرتی ہےاور مَیں اس کو اپنی رضا میں فانیوں کی طرح دیکھتا ہوں ‘‘

مزید پڑھیں

خلفائے احمدیت کی امتِ مسلمہ سے محبت اور تڑپ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ ن فرماتے ہیں:
’’مسلم امّہ کا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنا احمدیت کی فتح سے ہی وابستہ ہے۔ ظلم و تعدی کا خاتمہ اسی سے وابستہ ہے۔ پس چاہے فلسطینیوں کو ظلم سے آزاد کروانا ہے یا مسلمانوں کو ان کے اپنے ظالم حکمرانوں سے آزاد کروانا ہے اس کی ضمانت صرف احمدیوں کی دعائیں ہی بن سکتی ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 8؍اگست 2014ء)

مزید پڑھیں
blue flower in tilt shift lens

تحریکات خلافتِ خامسہ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ ن فرماتے ہیں:
”اپنے آپ کو حضرت مسیح موعودؑ سے جوڑ کر اور پھر خلافت سے کامل اطاعت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یہی چیز ہے جو جماعت میں مظبوطی اور روحانیت میں ترقی کا باعث بنے گی۔ خلافت کی پہچان اور اس کا صحیح علم اور ادراک اس طرح جماعت میں پیدا ہونا چاہئے کہ خلیفہ وقت کے ہر فیصلے کو بخوشی قبول کرنے والے ہوں۔“
(الفضل 18 مارچ 2014ء)

مزید پڑھیں

خلافتِ ثانیہ اور استحکامِ خلافت

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’فتنے ہیں اور ضرور ہیں مگر تم جو اپنے آپ کو اتحاد کی رسی میں جکڑ چکے ہو خوش ہو جاؤ کہ انجام تمہارے لئے بہتر ہوگا ۔ تم خدا کی ایک برگزیدہ قوم ہو گے اور اس کے فضل کی بارشیں ان شاء اللہ تم پر اس زور سے برسیں گی کہ تم حیران ہو جاؤ گے۔‘‘
(کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے از انوار العلوم جلد 2 صفحہ 19)

مزید پڑھیں

نظام خلافت کی اطاعت اور فرمانبرداری

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :
اِنۡ رَأَیۡتَ یَوۡمَٔذٍ خَلِیۡفَۃَ اللّٰہِ فِی الۡاَرۡضِ فَالۡزِمۡہُ وَاِنۡ نُھِکَ جِسۡمُکَ وَاُخِذَ مَالُکَ۔
یعنی اگر تو اللہ کے خلیفہ کو زمین میں دیکھے تو اسے مضبوطی سے پکڑ لینا اگرچہ تیرا جسم نوچ دیا جائے اور تیرا مال چھین لیاجائے ۔
(مسند احمد بن حنبل حدیث حذیفۃ بن الیمان حدیث نمبر22916)

مزید پڑھیں

خلیفہ بنانا خداتعالیٰ کا کام ہے

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”خوب یاد رکھو کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور جھوٹا ہے وہ انسان جو یہ کہتا ہے کہ خلیفہ انسانوں کا مقرر کردہ ہوتا ہے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح مولوی نورالدین صاحب اپنی خلافت کے زمانہ میں چھ سال متواتر اس مسٔلہ پر زور دیتے رہے کہ خلیفہ خدا مقرر کرتا ہے نہ انسان اور درحقیقت قرآن شریف کے غور سے مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ایک جگہ بھی خلافت کی نسبت انسانوں کی طرف نہیں کی گئی بلکہ ہر قسم کے خلفا کی نسبت اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ انہیں ہم بناتے ہیں۔ “
(کون ہے جو خدا کے کام کو ر وک سکے از انوار العلوم جلد 2صفحہ11)

مزید پڑھیں

منصبِ خلافت

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”جماعت احمدیہ کے خلیفہ کی حیثیت دنیا کے تمام بادشاہوں اور شہنشاہوں سے زیادہ ہے، وہ دنیا میں خدا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نمائندہ ہے۔“
(الفضل 27 اگست 1937ء صفحہ 8)

مزید پڑھیں

خلافت خامسہ اور استحکامِ خلافت

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
”ہر احمدی کو چاہئے کہ جب بھی کوئی نصیحت سنے یا خلیفہ وقت کی طرف سے کسی معاملے میں توجہ دلائی جائے تو سب سے پہلا مخاطب اپنے آپ کو سمجھے۔“
(خطبات مسرور جلد4صفحہ 257)

مزید پڑھیں