اُعۡطِیۡتُ الشَّفَاعَۃَ وَلَمۡ یُعۡطَ نَبِیٌّ قَبۡلِیۡ (حضرت محمدؐ) مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو حاصل نہیں ہوئی (تقریر نمبر 3)
حضرت خلیفۃُ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”شفاعت کی حقیقت سمجھنے کے لئے یہ جاننا ضروری یے کہ یہ لفظ شفع سے نکلا ہے اور مندرجہ آیت اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَیَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَاللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ (آل عمران: 32)سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع انسان کے گناہوں کی مغفرت کا موجب ہے۔ حضور انور کی ذات ستودہ صفات ایک نور ہے جو اس نور سے تعلق پیدا کرتا ہے۔ اس سے ظلمات دور ہوتی ہیں۔ یہ شفاعت ہے۔ مجرموں کی جنبہ بازی کا نام شفاعت نہیں جیسا کہ بعض نادانوں نے غلطی سے سمجھا ہے اور اس پر اعتراض کرتے ہیں۔ “
(تشحیذ الاذہان جلد 7 صفحہ 136)
