مذہب میں ۔ آزادی اور روشن خیالی کہاں تک جائز ہے؟ (تقریر نمبر1)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضورؐ نے میرے کندھے کو پکڑ کر فرمایا:
کُنۡ فِیۡ الدُّنۡیَا کَأنَّکَ غَرِیۡبٌ اَوۡ عَابِرُ سَبِیۡلٍ
(بخاری کتاب الرقاق)
کہ اے عبداللہ ! دنیا میں ایسے زندگی بسر کر کہ گویا تو مسافر ہے یا راہ چلتا مسافر۔

مزید پڑھیں

وَابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ

حضرت خلیفۃُ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”وَابْتَغُوا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ قرب اور وسیلہ کے حصول کے لیے جو راستہ اور سبیل ہے وہ تین قسم کی ہے۔ ایک تو صحیح روحانی علم کا حاصل ہونا ،معرفت کا حاصل ہونا دوسرے خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر اس کی عبادت کرنا اور تیسرے شریعتِ حقّہ اسلامیہ کے مکارم کو اختیار کرتے ہوئے اپنی روح اور اپنے ذہن اور اپنے عمل اور اپنے عقیدہ میں حسن پیدا کرنے کی کوشش کرنا ۔ ان تینوں چیزوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ انسان کی ڈھال بن جاتا ہے اور اُسے اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے ۔“
( خطبات ناصر جلد ششم صفحہ 445)

مزید پڑھیں

وسیلہ یا واسطہ کا اسلامی فلسفہ (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” وَابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ۔وسیلہ کے دو معنی ہیں۔ ایک تو حاجت۔ پس مطلب ہوا کہ اپنی حاجتیں جناب الہٰی میں لے جاؤ… (اور) دوسرے معنی ہیں ذریعہ کے … پس الۡوَسِیۡلَۃَ فرمایا یعنی ذریعہ ہو۔ مگر اس ذریعہ کو دیکھ لو وہ بے ایمان کا تو نہیں ۔ عقل و تجربہ و ایمان کے موافق ہے یا نہیں۔مکلّف انسان عقل و تجربہ و ایمان سے تقویٰ کے سامان کرے مگر وہ عقل و تجربہ شریعت کے خلاف نہ ہو۔ پھر یہ مجاہدہ فی سبیل اللہ کرے۔ جب اِن تین قاعدہ پر چلے گا تو مظفرومنصورہوگا۔ “
(حقائق الفرقان جلد2صفحہ 100-101)

مزید پڑھیں

وسیلہ یا واسطہ کا اسلامی فلسفہ (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہر ایک شخص کو خودبخو د خدا تعا لیٰ سے ملاقات کرنے کی طاقت نہیں ہے اس کے واسطے، واسطہ ضرور ہے اور وہ واسطہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اس واسطے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑتا ہے وہ کبھی با مراد نہ ہوگا۔انسان تو دراصل بندہ یعنی غلام ہے۔ غلام کا کام یہ ہوتا ہے کہ مالک جو حکم کرے اُسے قبول کرے اسی طرح اگر تم چاہتے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض حاصل کرو تو ضرور ہے کہ اس کے غلام ہوجاؤ ۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِم(الزمر:54)
اس جگہ بندوں سے مراد غلام ہی ہیں نہ کہ مخلوق۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بندہ ہونے کے واسطے ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھو اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرو ۔سب حکموں پر کار بند رہو جیسے کہ حکم ہے ۔ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (آل عمران:32)یعنی اگر تم خدا تعالیٰ سے پیار کرنا چاہتے ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے فرماں بردار بن جاؤ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں فنا ہوجاؤ تب خدا تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔
جب لوگ بدعتوں پر عمل کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ کیا کریں دُنیا سے چھٹکارا نہیں ملتا یا کہتے ہیں کہ ناک کٹ جاتی ہے ۔ایسے وقت میں گویا انسان خداتعالیٰ کے اس فرمان کو چھوڑتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا ہے اور خیال کرتا ہے کہ خداتعالیٰ سے محبت کرنا بےفائدہ ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 5صفحہ 321-322 )

مزید پڑھیں

دسویں شرطِ بیعت

’’یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض للہ باقرار طاعت در معروف باندھ کر اُس پر تا وقتِ مرگ قائم رہے گا اور اس عقدِ اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہو گا کہ اس کی نظیر دنیاوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔‘‘

مزید پڑھیں

پانچویں  شرطِ بیعت

’’ ہر حال رنج وراحت اور عسر اور یسر اور نعمت اور بلاء میں خدا تعالیٰ کے ساتھ وفا داری کرے گا اور بہر حالت راضی بقضا ہو گا۔ اور ہر ایک ذلت اور دکھ کے قبول کرنےکے لئے اُس کی راہ میں تیار رہے گا اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اُس سے منہ نہیں پھیرے گا بلکہ آگے قدم بڑھائے گا‘‘

مزید پڑھیں