وَابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ

حضرت خلیفۃُ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”وَابْتَغُوا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ قرب اور وسیلہ کے حصول کے لیے جو راستہ اور سبیل ہے وہ تین قسم کی ہے۔ ایک تو صحیح روحانی علم کا حاصل ہونا ،معرفت کا حاصل ہونا دوسرے خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر اس کی عبادت کرنا اور تیسرے شریعتِ حقّہ اسلامیہ کے مکارم کو اختیار کرتے ہوئے اپنی روح اور اپنے ذہن اور اپنے عمل اور اپنے عقیدہ میں حسن پیدا کرنے کی کوشش کرنا ۔ ان تینوں چیزوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ انسان کی ڈھال بن جاتا ہے اور اُسے اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے ۔“
( خطبات ناصر جلد ششم صفحہ 445)

مزید پڑھیں

وسیلہ یا واسطہ کا اسلامی فلسفہ (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” وَابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ۔وسیلہ کے دو معنی ہیں۔ ایک تو حاجت۔ پس مطلب ہوا کہ اپنی حاجتیں جناب الہٰی میں لے جاؤ… (اور) دوسرے معنی ہیں ذریعہ کے … پس الۡوَسِیۡلَۃَ فرمایا یعنی ذریعہ ہو۔ مگر اس ذریعہ کو دیکھ لو وہ بے ایمان کا تو نہیں ۔ عقل و تجربہ و ایمان کے موافق ہے یا نہیں۔مکلّف انسان عقل و تجربہ و ایمان سے تقویٰ کے سامان کرے مگر وہ عقل و تجربہ شریعت کے خلاف نہ ہو۔ پھر یہ مجاہدہ فی سبیل اللہ کرے۔ جب اِن تین قاعدہ پر چلے گا تو مظفرومنصورہوگا۔ “
(حقائق الفرقان جلد2صفحہ 100-101)

مزید پڑھیں

وسیلہ یا واسطہ کا اسلامی فلسفہ (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہر ایک شخص کو خودبخو د خدا تعا لیٰ سے ملاقات کرنے کی طاقت نہیں ہے اس کے واسطے، واسطہ ضرور ہے اور وہ واسطہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اس واسطے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑتا ہے وہ کبھی با مراد نہ ہوگا۔انسان تو دراصل بندہ یعنی غلام ہے۔ غلام کا کام یہ ہوتا ہے کہ مالک جو حکم کرے اُسے قبول کرے اسی طرح اگر تم چاہتے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض حاصل کرو تو ضرور ہے کہ اس کے غلام ہوجاؤ ۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِم(الزمر:54)
اس جگہ بندوں سے مراد غلام ہی ہیں نہ کہ مخلوق۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بندہ ہونے کے واسطے ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھو اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرو ۔سب حکموں پر کار بند رہو جیسے کہ حکم ہے ۔ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (آل عمران:32)یعنی اگر تم خدا تعالیٰ سے پیار کرنا چاہتے ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے فرماں بردار بن جاؤ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں فنا ہوجاؤ تب خدا تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔
جب لوگ بدعتوں پر عمل کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ کیا کریں دُنیا سے چھٹکارا نہیں ملتا یا کہتے ہیں کہ ناک کٹ جاتی ہے ۔ایسے وقت میں گویا انسان خداتعالیٰ کے اس فرمان کو چھوڑتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا ہے اور خیال کرتا ہے کہ خداتعالیٰ سے محبت کرنا بےفائدہ ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 5صفحہ 321-322 )

مزید پڑھیں

وجودِ باری تعالیٰ پر دس دلائل (از حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ) (قسط نمبر 2)

حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”سلطنتوں میں ہزاروں مدبّر ان کی درستی کے لئے رات دن لگے رہتے ہیں لیکن پھر بھی دیکھتے ہیں کہ ان سے ایسی ایسی غلطیاں سرزد ہو تی ہیں کہ جن سے سلطنتوں کو خطرناک نقصان پہنچ جاتا ہے بلکہ بعض اوقات بالکل تباہ ہوجاتی ہیں لیکن اگر اس دنیا کا کاروبار صرف اتفاق پر ہے تو تعجب ہے کہ ہزاروں دانا دماغ تو غلطی کرتے ہیں لیکن یہ اتفاق تو غلطی نہیں کرتا۔ لیکن سچی بات یہی ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے جو بڑے وسیع عالم کا مالک اور عزیز ہے اور اگر یہ نہ ہوتا تو یہ انتظام نظر نہ آتا۔ اب جس طرف نظر دوڑا کر دیکھو۔ تمہاری نظر قرآن شریف کے ارشاد کے مطابق خائب و خاسر واپس آئے گی اور ہر ایک چیز میں ایک انتظام معلوم ہوگا۔ نیک جزاء اور بدکار سزا پا رہے ہیں۔ ہر ایک چیز اپنا مفوّضہ کام کررہی ہے اور ایک دم کے لئے سُست نہیں ہوئی۔ “

مزید پڑھیں

وجودِ باری تعالیٰ پر دس دلائل (از حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ) (قسط نمبر 1)

حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”ہزاروں راستبازوں کی شہادت جو اپنے عینی مشاہدہ پر خدا تعالیٰ کے وجود کی گواہی دیتے ہیں کسی صورت میں بھی ردّ کے قابل نہیں ہو سکتی۔ تعجب ہے کہ جو اس کوچہ میں پڑے ہیں وہ تو سب باتفاق کہہ رہے ہیں کہ خدا ہے لیکن جو روحانیت کے کوچہ سے بالکل بے بہرہ ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ان کی بات نہ مانوکہ خدا ہے حالانکہ اصول شہادت کے لحاظ سے اگر دوبرابر کے راستباز آدمی بھی ایک معاملہ کے متعلق گواہی دیں تو جو کہتا ہے کہ مَیں نے فلاں چیز کود یکھا اس کی گواہی کو اس گواہی پرجو کہتا ہے مَیں نے اس چیز کونہیں دیکھا ترجیح دی جائے گی کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ان میں سے ایک کی نظر اس چیز پر نہ پڑی ہو لیکن یہ ناممکن ہے کہ ایک نے نہ دیکھا ہو اور سمجھ لے کہ میں نے دیکھا ہے۔ پس خدا کے دیکھنے والوں کی گواہی اس کے منکروں پر بہرحال حجت ہوگی۔“

مزید پڑھیں

”خداتعالیٰ کہنے میں بڑی برکات ہیں“

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”خدا کے تمام کامل نام اِسی سے مخصوص ہیں اور اِن میں شرکت غیر کی جائز نہیں سو خدا کو انہیں ناموں سے پکارو جو بلاشرکت غیرے یعنی نہ مخلوقاتِ ارضی و سماوی کے نام خدا کے لئے وضع کرو اور نہ خدا کے نام مخلوق چیزوں پر اطلاق کرو اور ان لوگوں سے جدا رہو جو کہ خدا کے ناموں میں شرکتِ غیر جائز رکھتے ہیں۔ عنقریب وہ اپنے کاموں کا بدلہ پائیں گے ۔“
( براہینِ احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 522۔ حاشیہ درحاشیہ نمبر3)

مزید پڑھیں

ہُن مَیں چھ مہینے لئی تیرا ربّ نہیں رہیا؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اصل رازق خدا تعالیٰ ہے۔ وہ شخص جو اس پر بھروسہ کرتا ہے کبھی رزق سے محروم نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر طرح سے اور ہر جگہ سے اپنے پر توکّل کرنے والے شخص کے لئے رزق پہنچاتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مجھ پر بھروسہ کرے اور توکّل کرے مَیں اس کے لئے آسمان سے برساتا اور قدموں میں سے نکالتا ہوں۔ پس چاہئے کہ ہر ایک شخص خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔ ‘‘
(ملفوظات جلد 5صفحہ 273 ایڈیشن 1988ء)

مزید پڑھیں

نُورِالٰہی، نُورِمصطفویؐ اور نُورِقرآن احمدی مسمانوں کا ورثہ ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”خدا ہی ہے جو ہر دم آسمان کا نور اور زمین کا نور ہے۔ اس سے ہر ایک جگہ روشنی پڑتی ہے۔ آفتاب کا وہی آفتاب ہے۔ زمین کے تمام جانداروں کی وہی جان ہے۔“
(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد10 صفحہ444)

مزید پڑھیں

لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوۡمٌ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” خدا کی کرسی کے اندر تمام زمین و آسمان سمائے ہوئے ہیں اور وہ اُن سب کو اٹھائے ہوئے ہے۔ اُن کے اُٹھانے سے وہ تھکتا نہیں۔ “
(چشمۂ معرفت ، روحانی خزائن جلد 23صفحہ 118 حاشیہ)

مزید پڑھیں

”قبولیتِ دعا ہستی باری تعالیٰ کی زبردست دلیل ہے“ ( مسیح موعودؑ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
” دُعا میں خداتعالیٰ نے بڑی قوتیں رکھی ہیں۔ خدا نے مجھے بار بار الہامات کے ذریعہ یہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہوگا دُعا کے ذریعہ سے ہوگا ۔ ہمارا ہتھیار تو دعا ہی ہے اور اس کے سوا کوئی ہتھیار میرے پاس نہیں ہے۔ جو کچھ ہم پوشیدہ خدا سے مانگتے ہیں ۔ خدا اس کو ظاہر کرکے رکھ دیتا ہے۔ “
( سیرت حضرت مسیح موعود از یعقوب علی عرفانیؓ صفحہ 518)

مزید پڑھیں