مذہب میں ۔ بااختیاری اور خودمختاری کہاں تک جائز ہے؟ (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
’’پس احمدی خوش قسمت ہیں ۔ ان کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ان کو احمدی گھروں میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور کچھ کو احمدی ہونے کی توفیق عطا فرمائی اور ان باتوں سے بچا کے رکھا جو باغیانہ روش پیدا کرتی ہیں ۔ بعض احمدی بچیوں میں بھی ردّعمل ہوتا ہے، ان کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ غیر آکر ہمارے سے متأثر ہوتے ہیں اس لئے کسی بھی قسم کے کمپلیکس میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ۔ اسلام کی جو خوبصورت تعلیم ہے یہ ہر ایک کے لئے ایسی تعلیم ہے جس کا فطرت تقاضا کرتی ہے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 5؍ستمبر 2014ء)

مزید پڑھیں

مذہب میں ۔ آزادی اور روشن خیالی کہاں تک جائز ہے؟ (تقریر نمبر1)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضورؐ نے میرے کندھے کو پکڑ کر فرمایا:
کُنۡ فِیۡ الدُّنۡیَا کَأنَّکَ غَرِیۡبٌ اَوۡ عَابِرُ سَبِیۡلٍ
(بخاری کتاب الرقاق)
کہ اے عبداللہ ! دنیا میں ایسے زندگی بسر کر کہ گویا تو مسافر ہے یا راہ چلتا مسافر۔

مزید پڑھیں

دسویں شرطِ بیعت

’’یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض للہ باقرار طاعت در معروف باندھ کر اُس پر تا وقتِ مرگ قائم رہے گا اور اس عقدِ اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہو گا کہ اس کی نظیر دنیاوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔‘‘

مزید پڑھیں

پانچویں  شرطِ بیعت

’’ ہر حال رنج وراحت اور عسر اور یسر اور نعمت اور بلاء میں خدا تعالیٰ کے ساتھ وفا داری کرے گا اور بہر حالت راضی بقضا ہو گا۔ اور ہر ایک ذلت اور دکھ کے قبول کرنےکے لئے اُس کی راہ میں تیار رہے گا اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اُس سے منہ نہیں پھیرے گا بلکہ آگے قدم بڑھائے گا‘‘

مزید پڑھیں

تیسری  شرطِ بیعت

’’ بلا ناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہے گا اور حتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اور ہر روزاپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا اور دلی محبت سے خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اُس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر روزہ ورد بنائے گا ۔‘‘

مزید پڑھیں