ایثارکے نمونے

صحابہ رضوان اللہ علیہم نے سرورِ کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ایثار کی تربیت پاکر اُسے اپنی عملی زندگی میں اپنایا۔ یرموک کی جنگ میں حارث بن ہشام، عکرمہ بن ابی جہل اور سُہَیل بن عَمرو (رضی اللہ عنہم) شہید ہوئے۔ وہ جب زخمی حالت میں پڑے تھے تو (لوگ) اُن کے پاس پانی لائے۔ لیکن ان میں سے ہر ایک نے جب اس کی طرف پانی بڑھایا گیا اسے اگلے آدمی کے پاس بھیج دیا اور کہا کہ یہ پانی اُسے پلا دو۔ چنانچہ وہ سب وفات پاگئے اور ان میں سے کسی نے پانی نہ پیا۔ راوی نے بتایا کہ عکرمہ نے پانی طلب کیا لیکن انہوں نے دیکھا کہ سہیل ان کی طرف دیکھ رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ یہ پانی انہیں پلا دو۔ پھر سہیل نے دیکھا کہ حارث ان کی طرف دیکھ رہے ہی تو انہوں نے بھی کہا کہ اس کو پانی دے دو۔ پانی ابھی ان تک نہیں پہنچا تھا کہ وہ سب وفات پاگئے۔
(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب جلد3ذکر عکرمہ)

مزید پڑھیں

سادگی،  قناعت اور زُہد

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں۔
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے آخری شرعی نبی بنا کر مبعو ث فرمایا… اس عظیم اعزاز نے آپؐ میں کسی جاہ و جلال کا اظہار پیدا نہیں کیا… بلکہ اس چیز نے آپؐ میں.مزید مسکینی، سادگی اور قناعت پیدا کی کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کا اور شریعت کا اور اس تعلیم کا جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ پر نازل فرمائی سب سے زیادہ فہم و ادراک آپؐ کو ہی تھا۔“
(خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اگست 2005 ء)

مزید پڑھیں

پردہ پوشی ۔ چشم پوشی

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ :
مَنۡ سَتَرَ عَلَی مُسۡلِمٍ فِیۡ الدُّنۡیَا سَتَرَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ فِیۡ الدُّنۡیَا وَالۡآخِرَۃِ
(حدیقۃ الصالحین صفحہ650 ،حدیث:832)
کہ جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اُس کی پردہ پوشی کرے گا۔

مزید پڑھیں

خیالات کی ہجرت

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ کون سی ہجرت افضل ہے تو آپؐ نے فرمایا
مَنْ ہَجَرَ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ
کہ جن باتوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ان کو چھوڑ دینا۔
(سنن ابوداؤد جلد اول کتاب الصلوٰۃ)

مزید پڑھیں

غَضِّ بَصَر

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہماری آنکھیں اور دل اور ہمارے خطرات سب پاک رہیں اس لئے اُس نے یہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم فرمائی سو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ نفسانی قویٰ کو پوشیدہ کارروائیوں کا موقع بھی نہ ملے اور ایسی کوئی بھی تقریب نہ آئے۔ جس سے بد خطرات جنبش کر سکیں۔ اسلامی پردہ کی یہی فلاسفی ہے اوریہی ہدایت شرعی ہے۔“
(اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ5)

مزید پڑھیں

صبرواستقامت اور اِس کی  اہمیت وبرکات

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”صادق اور مومن کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ نہایت اخلاص اور انشراح صدر کے ساتھ خدا کی رضا کو مقدم کر لیتا ہے اور اُس پر خوش ہوجاتا ہے۔ کوئی شکوہ اور بدظنی نہیں کرتا۔ اس لئے خداتعالیٰ فرماتا ہے وَبَشِّرِالصّٰبِرِیْنَ پس صبر کرنے والوں کو بشارت دو، یہ نہیں فرمایا کہ دعا کرنے والوں کو بشارت دو بلکہ فرمایا کہ صبر کرنے والوں کو۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ انسان اگر بظاہر اپنی دعاؤں میں ناکامی دیکھے تو گھبرا نہ جاوے بلکہ صبر اور استقلال سے خداتعالیٰ کی رضا کو مقدم کرے۔“
(الحکم 10اکتوبر 1902ء)

مزید پڑھیں

”تیری عاجزانہ راہیں اُس کو پسند آئیں “

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’میرا یہ مسلک نہیں کہ میں ایسا تُندخُواور بھیانک بن کر بیٹھوں کہ لوگ مجھ سے ایسے ڈریں جیسے درندہ سے ڈرتے ہیں اور مَیں بُت بننے سے سخت نفرت کرتا ہوں۔ مَیں تو بُت پرستی کے ردّ کرنے کو آیا ہوں نہ یہ کہ مَیں خود بُت بنوں اور لوگ میری پُوجا کریں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ مَیں اپنے نفس کو دوسروں پر ذرا بھی ترجیح نہیں دیتا ۔ میرے نزدیک متکبِّر سے زیادہ کوئی بُت پرست اور خبیث نہیں۔ متکبِّر کسی خدا کی پرستش نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی پرستش کرتا ہے۔‘‘
(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 41- 42)

مزید پڑھیں

تقاریربابت اخلاقیات (حصہ اول)

اخلاقیات کے حوالہ سے بہت ہی کارآمد باتیں تو کتاب میں مندرج 50 تقاریر میں تفصیل سے بیان ہوئی ہیں تاہم یہاں یہ بتانا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اخلاقیات پر تقریر کرتے  وقت یا اِس کی تیاری کے وقت ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ عالِم با عمل اور عامِل باعلم بننے کی کوشش کرتا ہے یا کرتی ہے ۔ وہ ہزار دفعہ سوچتا یا سوچتی ہے کہ مَیں جس اچھی بات کو پبلک میں بیان کرنے لگا ہوں /لگی ہوں کیا مَیں خود اِ س پر عمل پیرا ہوں یا نہیں ۔ اِسی پہلو کو مدِ نظر رکھ کر اخلاقیات پر پہلے مرحلہ میں 50 تقاریر پیش کی جا رہی ہیں ۔

مزید پڑھیں

ہے کوئی مانگنے والا؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہىں:
’’مىرا دل ہر گز قبول نہىں کرتا کہ ہمارى جماعت مىں جو سچا تقوىٰ اور طہارت رکھتا ہے اور خدا سے اُسے سچا تعلق ہے پھر خدا اُسے ذلّت کى موت مارے……اس لئے راتوں کو اُٹھ کر روؤ۔ دعائیں مانگو اور اس طرح سے اپنے ارد گرد ایک دیوار رحمت بنا لو۔ خدا رحیم کریم ہے وہ اپنے خاص بندہ کو ذلّت کى موت کبھى نہىں مارتا……مجھے امید ہے کہ جو پورے درد والا ہو گا اور جس کا دل شرارت سے دُور نکل گیا ہے خدا اسے ضرور بچاوے گا۔ توبہ کرو، توبہ کرو۔ مجھے یاد ہے کہ اىک مرتبہ مجھے الہام ہوا تھا اردو زبان مىں۔ ’’آگ سے ہمىں مت ڈرا، آگ ہمارى غلام بلکہ غلاموں کى غلام ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ384-385)

مزید پڑھیں