ULEZ اور انسانی زندگی

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا کہ یہ کون عورت ہے ۔ مَیں نے عرض کی۔ یہ فلاں ہے جو اس قدر عبادت اور ذکرِ الٰہی میں مشغول رہتی ہے کہ سوتی بھی نہیں ۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ تم پر اسی قدر عبادت واجب ہے جتنی تم میں طاقت ہے ۔ خدا کی قسم!تم تھک اور اُکتا جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ نہیں اُکتائے گا ۔ اللہ تعالیٰ کو وہی عمل پسند ہے جس پر میانہ روی کے ساتھ مداومت ہو ۔
( حدیقۃ الصالحین حدیث نمبر 779)

مزید پڑھیں

انسان اور کِردار

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ تمہاری بیعت کا اقرار کرنا زبان تک محدود رہا تو یہ بیعت کچھ فائدہ نہ پہنچائے گی۔ چاہئے کہ تمہارے اعمال تمہارے احمدی ہونے پر گواہی دیں۔ مَیں ہرگز یہ بات نہیں مان سکتا کہ خداتعالیٰ کا عذاب اس شخص پر وارد ہو جس کا معاملہ خداتعالیٰ کے ساتھ ہو۔ خداتعالیٰ اسے ذلیل نہیں کرتا جو اس کی راہ میں ذلت اور عاجزی اختیار کرے۔ یہ سچی اور صحیح بات ہے۔ پس راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں مانگو۔ کوٹھڑی کے دروازے بند کرکے تنہائی میں دعا کرو کہ تم پر رحم کیاجائے۔ اپنا معاملہ صاف رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا فضل تمہارے شامل حال ہو۔ جو کام کرو نفسانی غرض سے الگ ہو کر کرو تا خداتعالیٰ کے حضور اجر پاؤ‘‘
(ملفوظات جلد 5صفحہ 272)

مزید پڑھیں

لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلاکْ اگر تم نہ ہوتے تو مَیں کائنات کی کوئی بھی چیز پیدا نہ کرتا

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’انسان کامل جن کا نام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ہے جن کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم ! مَیں نے زمین و آسمان کو بھی تیری وجہ سے پیدا کیا ہے۔ اپنے نور ہونے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں۔ایک روایت مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ کتاب الایمان میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی وہ میرا نور ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الایمان باب الایمان بالقدر) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ابتداء سے ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اس انسان کامل کو دیا جانے والا نور وہ نور ہے جو نہ پہلوں میں کبھی کسی کو دیا گیا اور نہ بعد میں آنے والوں کو دیا جائے گا۔ وہ صرف اور صرف انسان کامل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہو گا۔‘‘
( خطبہ جمعہ 22جنوری2010ء)

مزید پڑھیں

اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ (حضرت محمدؐ ) مجھے اخلاقِ حسنہ کی تکمیل  کے لئے مبعوث کی گیا ہے (ارشادات حضرت مسیح موعودؑ کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ کے بارے میں فرماتے ہیں :
”تُو اے نبی! ایک خُلق عظیم پر مخلوق و مفطور ہے یعنی اپنی ذات میں تمام مکارمِ اخلاق کا ایسا متمَّم و مکمل ہے کہ اس پر زیادت متصوّر نہیں کیونکہ لفظ عَظِیْم محاورۂ عرب میں اس چیز کی صفت میں بولا جاتا ہے جس کو اپنا نوعی کمال پورا پورا حاصل ہو……بعضوں نے کہا ہے کہ عَظِیْم وہ چیز ہےجس کی عظمت اس حد تک پہنچ جائے کہ حیطۂ.ادراک سےباہرہو۔ “
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 194 بقیہ حاشیہ نمبر 11)

مزید پڑھیں

اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ (حضرت محمدؐ ) مجھے اخلاقِ حسنہ کی تکمیل  کے لئے مبعوث کی گیا ہے (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’وہ انسان جس نے اپنی ذات سے اپنی صفات سے اپنے افعال سے ،اپنے اعمال سے اوراپنے روحانی اور پاک قویٰ کے پُرزوردریاسے کمال تام کا نمونہ علماًو عملاً و صدقاً وثباتاً دکھلایا اورا نسانِ کامل کہلایا…وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اورحشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہوگیا۔ وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء امام الاصفیاء ختم المرسلین فخر النبیین جناب محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے پیارے خدا! اِس پیارے نبی پروہ رحمت اوردرود بھیج جو ابتداء دنیا سے تو نے کسی پرنہ بھیجا ہو۔‘‘
(اتمام الحجہ، روحانی خزائن جلد8صفحہ308)

مزید پڑھیں

اَلصِّدۡقُ شَفِیۡعَتِیۡ (حضرت محمدؐ) صدق میرا شفیع ہے (تقریر نمبر 14)

اپنے اور بیگانے آپؐ کی صداقت کے قائل تھے۔ ابوسفیان سے ہرقل بادشاہ نے جب پوچھا کہ اُس مدعی نبی نے کبھی جھوٹ بولا ہے۔ ابوسفیان باوجود شدید معاند اور دشمن ہونے کے بے ساختہ بول اُٹھا کہ نہیں تب ہرقل نے کہا کہ جس شخص نے کسی سے جھوٹ نہیں بولا وہ خدا پر کیا جھوٹ بولے گا۔
(بخاری کتاب بدء الوحی)

مزید پڑھیں

اَلیَّقِیْنُ قُوَّتِیْ ( حضرت محمدؐ) یقین میری قوّت ہے (تقریر نمبر 13)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’جیسے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل مُتَبَتَّل تھے ویسے ہی کامل متوَکَّل بھی تھے اور یہی وجہ ہے کہ اتنے وجاہت والے اور قوم اور قبائل والے سرداروں کی ذرا بھی پروا نہیں کی اور ان کی مخالفت سے کچھ بھی متاثر نہ ہوئے۔ آپؐ میں ایک فوق العادت یقین خدا تعالی کی ذات پر تھا۔ اسی لیے اس قدر عظیم الشان بوجھ کو آپؐ نے اٹھا لیا اور ساری دنیا کی مخالفت کی اور ان کی کچھ بھی ہستی نہ سمجھی۔یہ بڑا نمونہ ہے توکل کا جس کی نظیر اس دنیا میں نہیں ملتی۔‘‘
(الحکم جلد5 نمبر37 صفحہ1 – 3 پرچہ 10 اکتوبر 1901ء)

مزید پڑھیں

اَلذُّہۡدُ حِرۡفَتِیۡ(حضرت محمدؐ) زُہد میرا پیشہ  ہے (تقریر نمبر 12)

ایک دفعہ حضرت سہیل بن مسعودؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا عمل کرنے کا پوچھاکہ جس سے اللہ اور لوگ مجھ سے محبت کرنے لگیں تو آپؐ نے فرمایا
اِزۡھَدۡ فِی الدُّنۡیَا یُحبُّکَ اللّٰہُ وَاَزۡھَدۡ فِیۡمَا فِیۡ اَیۡدِیۡ النَّاسِ یُحِبُّکَ النَّاسُ
کہ دنیا سے بے رغبت ہو جا اللہ تم سے محبت کرے گااور اُس سے جولوگوں کے ہاتھوں میں ہے بے رغبت ہو جا لوگ تجھ سے محبت کریں گے۔
(حدیقۃ الصالحین حدیث نمبر 803)

مزید پڑھیں

وَالۡعِجۡزُ فَخۡرِیۡ (حضرت محمدؐ) عاجزی میرا فخر ہے (تقریر نمبر 11)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اِنَّ اللّٰہَ اَوْحٰى اِلَيَّ اَنْ تَوَاضَعُوا حَتّٰى لَا يَفْخَرَ اَحَدٌ عَلَى اَحَدٍ
یعنی اللہ نے میری طرف وحی فرمائی کہ تم لوگ تواضُع (عاجزی)اختیار کرو یہاں تک کہ کوئی بھی دوسرے پر فَخْر نہ کرے۔
(مسلم حدیث 7210 )

مزید پڑھیں

اَلصَّبۡرُ رِدَائِیۡ (حضرت محمدؐ) صبر میری چادر ہے (تقریر نمبر 9)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
’’ تیرہ برس کا زمانہ کم نہیں ہوتا اس عرصہ میں آپؐ نےجس قدر دکھ اٹھائے ان کا بیان بھی آسان نہیں ہے۔ قوم کی طرف سے تکالیف اور ایذا رسانی میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی جاتی تھی اور ادھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر و استقلال کی ہدایت ہوتی اور بار بار حکم ہوتا تھاکہ جس طرح پہلے نبیوں نے صبر کیا ہے توبھی صبر کر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کمال صبر کے ساتھ ان تکالیف کو برداشت کرتے تھے اور تبلیغ میں سست نہ ہوتے تھے۔ بلکہ قدم آگے ہی پڑتا تھا اور اصل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صبر پہلے نبیوں جیسا نہ تھا کیونکہ وہ تو ایک محدود قوم کے لئے مبعوث ہو کر آئے تھے اس لئے ان کی تکالیف اور ایذا رسانیاں بھی اسی حد تک محدود ہوتی تھیں لیکن اس کے مقابلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صبر بہت ہی بڑا تھا کیونکہ سب سے اول تو اپنی ہی قوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالف ہو گئی اور ایذا رسانی کے در پہ ہوئی اور عیسائی بھی دشمن ہو گئے۔‘‘
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ53 )

مزید پڑھیں