درس نمبر 5بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور روحانی ہجرت

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ کون سی ہجرت افضل ہے تو آپؐ نے فرمایا
مَنْ ہَجَرَ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ
(سنن ابوداؤد جلد اول کتاب الصلوٰۃ)
کہ جن باتوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ان کو چھوڑ دینا۔

مزید پڑھیں

تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان اور اصلاح و تطہیرِ نفس

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں کہ:
’’پس مبارک وہ جو خدا کے لئے اپنے نفس سے جنگ کرتے ہیں اور بد بخت وہ جو اپنے نفس کے لئے خدا سے جنگ کر رہے ہیں اور اس سے موافقت نہیں کرتے جو شخص اپنے نفس کے لئے خدا کے حکم کو ٹالتا ہے وہ آسمان میں ہر گز داخل نہیں ہو گا۔‘‘
(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19 صفحہ25(

مزید پڑھیں

تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء صبر بھی ایک عبادت ہے ( صبر اور عبادت ، رمضان کی دو خوبصورتیاں ہیں)

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں صبر کے متعلق فرماتا ہے۔
یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡہَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَاصۡبِرۡ عَلٰی مَاۤ اَصَابَکَ ؕ اِنَّ ذٰلِکَ مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ( لقمان :18)
اے میرے پیارے بیٹے! نماز کو قائم کر اور اچھی باتوں کا حکم دے اور ناپسندیدہ باتوں سے منع کر اور اُس (مصیبت) پر صبر کر جو تجھے پہنچے۔ یقیناً یہ بہت اہم باتوں میں سےہے۔

مزید پڑھیں

دنیا میں رہنے کے لئے رُوح و صحت افزاء مقام ”اپنی اَوقات“

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
انسان جتنی زیادہ کوئی تواضع اور خاکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُتنا ہی اُسے بلند مرتبہ عطا کرتا ہے۔
(مسلم کتاب البرّ والصلۃ)

مزید پڑھیں

چھوٹوں پر رحم اور بڑوں کا ادب

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَیسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ یَرحَمْ صَغِیرَنَا وَ یَعرِفْ حَقَّ کَبِیرِنَا
(الادب المفرد للبخاری باب رحمۃ الصغیر)
کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو چھوٹوں سے رحم کا سلوک نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کے حقوق کا پاس نہیں کرتا۔

مزید پڑھیں

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہاں یہ مبارک مذہب جس کا نام اسلام ہے وہی ایک مذہب ہے جو خدا تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور وہی ایک مذہب ہے جو انسانی فطرت کے پاک تقاضوں کو پُورا کرنے والاہے۔“
( حقیقۃالوحی ، روحانی خزائن جلد22 صفحہ64)

مزید پڑھیں

ایثارکے نمونے

صحابہ رضوان اللہ علیہم نے سرورِ کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ایثار کی تربیت پاکر اُسے اپنی عملی زندگی میں اپنایا۔ یرموک کی جنگ میں حارث بن ہشام، عکرمہ بن ابی جہل اور سُہَیل بن عَمرو (رضی اللہ عنہم) شہید ہوئے۔ وہ جب زخمی حالت میں پڑے تھے تو (لوگ) اُن کے پاس پانی لائے۔ لیکن ان میں سے ہر ایک نے جب اس کی طرف پانی بڑھایا گیا اسے اگلے آدمی کے پاس بھیج دیا اور کہا کہ یہ پانی اُسے پلا دو۔ چنانچہ وہ سب وفات پاگئے اور ان میں سے کسی نے پانی نہ پیا۔ راوی نے بتایا کہ عکرمہ نے پانی طلب کیا لیکن انہوں نے دیکھا کہ سہیل ان کی طرف دیکھ رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ یہ پانی انہیں پلا دو۔ پھر سہیل نے دیکھا کہ حارث ان کی طرف دیکھ رہے ہی تو انہوں نے بھی کہا کہ اس کو پانی دے دو۔ پانی ابھی ان تک نہیں پہنچا تھا کہ وہ سب وفات پاگئے۔
(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب جلد3ذکر عکرمہ)

مزید پڑھیں

سادگی،  قناعت اور زُہد

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں۔
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے آخری شرعی نبی بنا کر مبعو ث فرمایا… اس عظیم اعزاز نے آپؐ میں کسی جاہ و جلال کا اظہار پیدا نہیں کیا… بلکہ اس چیز نے آپؐ میں.مزید مسکینی، سادگی اور قناعت پیدا کی کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کا اور شریعت کا اور اس تعلیم کا جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ پر نازل فرمائی سب سے زیادہ فہم و ادراک آپؐ کو ہی تھا۔“
(خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اگست 2005 ء)

مزید پڑھیں

پردہ پوشی ۔ چشم پوشی

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ :
مَنۡ سَتَرَ عَلَی مُسۡلِمٍ فِیۡ الدُّنۡیَا سَتَرَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ فِیۡ الدُّنۡیَا وَالۡآخِرَۃِ
(حدیقۃ الصالحین صفحہ650 ،حدیث:832)
کہ جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اُس کی پردہ پوشی کرے گا۔

مزید پڑھیں

خیالات کی ہجرت

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ کون سی ہجرت افضل ہے تو آپؐ نے فرمایا
مَنْ ہَجَرَ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ
کہ جن باتوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ان کو چھوڑ دینا۔
(سنن ابوداؤد جلد اول کتاب الصلوٰۃ)

مزید پڑھیں