حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ صدق و صفا، تقویٰ طہارت ، یہ اسلام کے برکات تھے جو کہ مسلمانوں میں لازماًپائے جاتے ہیں مگر اب تو ان صفات سے لوگ بھی محروم ہوگئے ہیں۔ نماز بھی پڑھتے ہیں تو بہت ہی کم۔ مسجدیں ویران پڑی ہیں ، نمازی کوئی نظر نہیں آتا۔ ایک وقت تھا کہ نمازیوں کو مسجدیں نہ ملتی تھیں۔ جتنے پڑھتے ہیں اُن میں بھی اکثر دکھلاوے کی نماز پڑھتے ہیں کیونکہ حقیقی نماز کے آثار کے برکات اور ثمرات سے محروم ہیں۔ عیسائی تو حضرت مسیح کو پھانسی دے کر بے فکر ہو بیٹھے تھے اکثر مسلمان حضرت امام حسینؓ کی شہادت میں نجات پاچکے ہیں۔‘‘
( ملفوظات جلد10صفحہ256)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ یاد رکھو کہ بُت پرستی ، انسان پرستی ، مخلوق پرستی کی سزا آخرت میں ہے۔ مگر شریفوں بد معاشوں ، ظلم و تعدّی ، غفلت اور اہلِ حق کو ستانے اور دُکھ دینے کی سزا اِسی دنیامیں دی جاتی ہے۔ نوح کے وقت جو عذاب آیا اگر خدا تعالیٰ کے رسول کو نہ ستاتے تو وہ عذاب نہ آتا۔ یہ شوخی پر اِس لئے عذاب آتا ہے کہ ” ایک چور دوسرا چتر“ دنیا دارُالمکافات نہیں۔ اس میں دست بدست سزا صرف اُسے ملتی ہے جو بد معاشی کرے جو شرافت کے ساتھ گناہ میں گرفتار ہو تو اُس کی سزا آخرت میں ہے اور اب جو دنیا میں عذاب آیا تو اسی لئے کہ دلیری ، شوخی ، شرارت حد سے بڑھ گئی ایسی کہ گویا خدا ہے ہی نہیں۔ طاعون نےاِس قدر سخت بربادی کی مگر ابھی اُن کے دلوں نے کچھ محسوس نہیں کیا۔ پوچھو! تو ہنسی ٹھٹےمیں گزار دیتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں معمولی بیماری ہے گویا خدا کی قضاء و قدر سے مُنکر ہیں ۔ بیشک یہ بیماری ہے۔ مگر انہی بیماریوں سے عذاب آیا کرتا ہے۔ یہودیوں پر جب یہ وبا پڑی تو خدا تعالیٰ نے اسے عذاب فرمایا۔ یا د رکھو کہ جب خدا چاہتا ہے انہی بیماریوں کو شدت وکثرت میں بڑھا کر ہلاک کر دیتا ہے۔ ان لوگوں کی بے یقینی کی یہ علامت ہے کہ عذاب کوعذاب نہیں سمجھتے۔ خدا تعالیٰ رحیم ہے سزا دینے میں دھیما ہے مگر یہ لوگ یاد رکھیں کہ جب تک وہ وقت نہ آئے گا کہ پکار اٹھیں اب ہم سمجھے یہ عذاب ہٹنے کا نہیں۔ اس کا علاج وُہی ہےجو ہم بارہا دفعہ بتا چکے ہیں یعنی تضرّع و انابت الیٰ الله ۔‘‘
( ملفوظات جلد10صفحہ123)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ تم قال اللہ اور قال الرسول پر عمل کرو اور ایسی باتیں زبان پر نہ لاؤ جن کا تمہیں علم نہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ( بنی اسرائیل:37) تم نیکی کی طرف پورے زور سے مشغول ہو جاؤاور اعمالِ صالحہ بجا لاؤ۔ اگر تمہاری حالت اِس لائق ہو گئی اور تم نے پورے طور پر اپنا تزکیہ نفس کر لیا تو پھر خدا تعالیٰ کے مکالمہ مخاطبہ کا شرف بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ اکثر لوگ آجکل ہلاک ہو رہے ہیں اُن کی یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی حالت کا مطالعہ نہیں کرتے اور اُس تعلق کو نہیں دیکھتے جو وہ خداتعالیٰ سے رکھتے ہیں اور نہیں سوچتے کہ کسی زور سے خدا تعالیٰ کی طرف جا رہے ہیں اور کیسے کیسے مصائب آنے پر ثابت قدم نکلے ہیں اور ابتلاؤں میں پُورے اُترےہیں۔‘‘
( ملفوظات جلد10صفحہ14)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”نئے سرے سے قرآن شریف کو پڑھو اور اس کے معانی پر خوب غور کرو۔ نماز کو دل لگا کر پڑھو اور احکامِ شریعت پر عمل کرو۔ انسان کا کام یہی ہے۔ آگے پھر خدا کے کام شروع ہو جاتے ہیں۔ جو شخص عاجزی سے خدا تعالیٰ کی رضا کو طلب کرتا ہے خدا تعالیٰ اس پر راضی ہوتا ہے۔“
(ملفوظات جلد 9 صفحہ 323)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ اصل رازق خدا تعالیٰ ہے۔ وہ شخص جو اُس پر بھروسہ کرتا ہے کبھی رزق سے محروم نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر طرح سے اور ہر جگہ سے اپنے پر توکّل کرنے والے شخص کے لئے رزق پہنچاتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مجھ پر بھروسہ کرے اور توکّل کرے مَیں اُس کے لئے آسمان سے برساتا اور قدموں میں سے نکالتا ہوں ۔ پس چاہئے کہ ہر ایک شخص خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔‘‘
( ملفوظات جلد9صفحہ360)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”یہ بھی یاد رکھو کہ معصیت اور فسق کو نہ واعظ دُور کر سکتے ہیں اور نہ کوئی اَور حیلہ ۔اس کے لیے ایک ہی راہ ہے اور وہ دعا ہے۔ خدا تعالیٰ نے یہی ہمیں فرمایا ہے اس زمانہ میں نیکی کی طرف خیال آنا اور بدی کو چھوڑنا چھوٹی سی بات نہیں ہے یہ انقلاب چاہتی ہے اور یہ انقلاب خدا تعالی کے ہاتھ میں ہے اور یہ دعاؤں سے ہوگا۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ راتوں کو رو رو کر دعائیں کریں اس کا وعدہ ہے۔ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ ( المومن: 61) ۔ عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ دعا سے مراد دنیا کی دعا ہے وہ دنیا کے کیڑے ہیں اس لیے اس سے پَرے نہیں جا سکتے۔ اصل دعا دین ہی کی دعا ہے لیکن یہ مت سمجھو کہ ہم گنہگار ہیں یہ دعا کیا ہوگی اور ہماری تبدیلی کیسے ہو سکے گی یہ غلطی ہے۔ بعض اوقات انسانی خطاؤں کے ساتھ ہی ان پر غالب آ سکتا ہے اس لیے کہ اصل فطرت میں پاکیزگی ہے ۔ دیکھو! پانی کیسا ہی گرم ہو لیکن جب وہ آگ پر ڈالا جاتا ہے تو وہ بہرحال آگ کو بجھا دیتا ہے اس لیے کہ فطرتاً برودت اس میں ہے۔ ٹھیک اسی طرح پر انسان کی فطرت میں پاکیزگی ہے۔ ہر ایک میں یہ مادہ موجود ہے۔ وہ پاکیزگی کہیں نہیں گئی ۔ اسی طرح تمہاری طبیعتوں میں خواہ کیسے ہی جذبات ہوں رو کر دعا کرو گے تو اللہ تعالی دُور کر دے گا ۔“
(ملفوظات جلد9 صفحہ 167۔168 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”نماز کیا ہے؟ یہ ایک خاص دعا ہے مگر افسوس ہے کہ لوگ اس کو بادشاہوں کا ٹیکس سمجھتے ہیں نادان اتنا نہیں جانتے کہ بھلا خدا تعالی کو ان باتوں کی کیا حاجت ہے۔ اس کی غناء ذاتی کو اس بات کی کیا حاجت ہے کہ انسان دعا اور تسبیح اور تہلیل میں مصروف ہو بلکہ اس میں انسان کا اپنا ہی فائدہ ہے کہ وہ اس طریق سے اپنے مطلب کو پہنچ جاتاہے۔“
(ملفوظات جلد 9 صفحہ 3)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ یاد رکھو! اللہ تعالیٰ رحیم کریم ہے۔ اُس پر بدظنی نہیں کرنی چاہیے۔ جو اُس کی سنت کو نگاہ میں رکھے گا اور اُس کے لئے دُکھ اور تکالیف کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجاوے گا وہ ضرور کامیاب ہو گا۔ اگر اُس کے بتائے ہوئے راستہ پر نہیں چلے گا اور بخل سے کام لے گا تو رہ جاوے گا۔ دیکھو! فوجوں میں جو لوگ بھرتی ہوتے ہیں اور دنیا کی خاطر لڑنے مرنے اور جان دینے کے لئے نوکر ہوتے ہیں، وہ کوئی ہزاروں روپیہ تو تنخواہ نہیں پاتے۔ یہی دس بارہ روپیہ کی خاطر جان دینا قبول کر لیتے ہیں مگر کتنے افسوس کی بات ہےکہ خدا تعالے کی خاطر اور اُس دائمی بہشت اور دائمی خوشنودی کے لئے کوئی فکر نہیں کرتے ۔‘‘
( ملفوظات جلد 9صفحہ447)

مزید پڑھیں

75تقاریربابت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی احبابِ جماعت کو پَندو نصائح

 روحانی ولاز میں داخلہ Spiritual Villa’s Entry (پیش لفظ)) آج مَیں اپنے پروردگار کا بے حد شکر گزار ہوں کہ اُس نے مجھ حقیر، ناچیز اَور نابکار کو مامورِ زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان فرمودہ تقاریر، دروس، مختلف محافل میں اور سیر کے دوران کی گئی مبارک گفتگو جو ملفوظات کے نام […]

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
” ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ نرمی اور رفق سے معاملہ کرو۔ اپنی ساری مصیبتیں اور بلائیں خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو۔ یقیناً سمجھو اگر کوئی شخص ایسا ہے کہ ہر شخص کی شرارت پر صبر کرتا ہے اورخدا پر اُسے چھوڑتا ہے تو خدا اُسے ضائع نہیں کرے گا۔ اگرچہ دنیا میں ایسے آدمی موجود ہیں جو ہنسی کریں گے اور ان باتوں کو سن کر ٹھٹھا کریں گے مگر تم اس کی پروا نہ کرو۔ خدا تعالیٰ خود اس کے لیے موجود ہے۔ وہ خدا پُرانا نہیں ہو گیا جیسے انسان بُڈھا ہو کر پیرِ فرتوت ہو جاتا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ وہی ہے جو موسیٰ علیہ السلام اور عیسی علیہ السلام کے وقت تھا اور وہی خدا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تھا۔ اس کی وہی طاقتیں اب بھی ہیں جو پہلے تھیں ۔ لیکن جو کچھ مَیں کہتا ہوں تم اس پر عمل نہ کرو تو میری جماعت میں نہ رہے۔“
(ملفوظات جلد 9 صفحہ 165۔166 )

مزید پڑھیں