حضرت مسیح موعودؑ کے وجود کی علّتِ غائی
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ یہود کی اخلاقی حالت بھی بہت خراب ہو گئی تھی اور خدا کی محبت ٹھنڈی ہو گئی تھی۔ اب میرے زمانہ میں بھی یہی حالت ہے۔ سو مَیں بھیجا گیا ہوں تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو سو یہی افعال میرے وجود کی علّتِ غائی ہیں۔ مجھے بتلایا گیا ہے کہ پھر آسمان زمین سے نزدیک ہو گا۔ بعد اِس کے کہ بہت دُور ہوگیا تھا۔ سو مَیں اِنہی باتوں کا مجدّد ہوں اور یہی کام ہیں جن کے لئے مَیں بھیجا گیا ہوں اور مِنجملہ اِن اَمور کے جو میرے مامور ہونے کی علّتِ غائی ہیں مسلمانوں کے ایمان کو قوِی کرنا ہے اوراِن کو خدا اور اُس کی کتاب اور اُس کے رسول کی نسبت ایک تازہ یقین بخشا اوریہ طریق ایمان کی تقویت کا دو طَور سے میرے ہاتھ سے ظہور میں آیا ہے۔اوّل قرآن شریف کی تعلیم کی خوبیاں بیان کرنی اور اُس کے اعجازی حقائق اورمعارف اور انوار اور برکات کو ظاہر کرنے سے جن سے قرآن شریف کا مِنجانب اللہ ہونا ثابت ہوتا ہے چنانچہ میری کتابوں کو دیکھنے والےاس بات کی گواہی دے سکتے ہیں کہ وہ کتابیں قرآن شریف کے عجائب اسرار اورنکات سے پُر ہیں اور ہمیشہ یہ سلسلہ جاری ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جس قدر مسلمانوں کا علم قرآن شریف کی نسبت ترقی کرے گا اُسی قدر اُن کا ایمان بھی ترقی پذیر ہو گا۔ ‘‘
(کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 293۔ 296۔ حاشیہ)
