حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’دعا کی قبولیت کا بھی یہی راز ہے ۔ انسان جب تک اپنی خواہشات ،ارادوں اور علموں کو ترک کر کے خدا میں فنا نہ ہو جاوے اور خدا کی قدرت کاملہ اور قادر مطلق ہونے اور سننے اور قبول کرنے والا ہونے پر یقینِ کامل اور پورا وثوق نہ رکھتا ہو تب تک دعا بھی ایک بے حقیقت چیز ہے۔ فلسفیوں کو کیوں قبولیتِ دعا پر ایمان نہیں ہوتا ۔ اِس کی یہی وجہ ہے کہ اُن کو خدا کی توسیع قدرت اور باریک در باریک سامانوں کے پیدا کر دینے والا ہونے پر ایمان نہیں ہوتا……اور وہ خدا کی قدرت کو محدود جانتے ہیں اور اپنے تجارب اور علوم پر بھی بھروسہ کر بیٹھتے ہیں۔ اُن کو اپنے تجارب کے مقابلہ میں یہ خیال بھی نہیں ہوتا کہ خدا بھی ہے اور وہ بھی کچھ کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات بعض سخت مہلک امراض میں وہ لوگ یقینی اور قطعی حکم لگا دیتے ہیں کہ یہ شخص بچ نہیں سکتا یا اتنے عرصے میں مرجاوے گا۔ یا اس طرز سے مرے گا۔ مگر بیسیوں مثالیں ایسی خود ہماری چشم دید ہیں اور بعض کو ہم جانتے ہیں جن میں باوجود ان کے یقینی اور قطعی حکم لگا دینے کے خدا تعالیٰ نے اُن بیماروں کے واسطے ایسے اسباب پیدا کر دیئے کہ وہ آخرکار بچ گئے اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض وہ بیمار جن کے حق میں یہ لوگ موت کا قطعی اور اٹل فتویٰ دے چکے تھے زندہ سلامت ہو گئے اور کسی دوسرے موقعہ پر ان کو مل کر شرمندہ کیا اور ان کے علم و دعویٰ کو بھی شرمندہ کیا ہے۔
حدیث میں آیا ہے مَا مَنْ دَآءٍ اِلَّا وَلَہٗ دَوَآءٌ ۔ ایک مشہور ڈاکٹر کا ہمیں قول یاد ہے وہ کہتا ہے کہ کوئی مرض بھی نا قابل علاج نہیں ہے بلکہ یہ ہماری سمجھ اور عقل و علم کا نقص ہے کہ ہمارے علم کی رسائی وہاں تک نہیں ہوتی۔ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مرض کے واسطے بعض ایسے ایسے اسباب پیدا کئے ہوں جن سے وہ شخص جس کو ہم ناقابل علاج یقین خیال کرتے ہیں قابل علاج اور صحت یاب ہو کر تندرست ہو جاوے۔ پس قطعی حکم ہر گز نہ لگانا چاہیے بلکہ اگر رائے ظاہر بھی کرنی ہو تو یوں کہہ دو کہ ہمیں ایسا شک پڑتا ہے مگر ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسے سامان پیدا کر دے کہ جن سے یہ روک اُٹھ جاوے اور بیماراچھا ہو جاوے ۔ دُعا ایک ایسا ہتھیار خدا تعالیٰ نے بنایا ہے کہ اَنہونے کام بھی جن کو انسان نا ممکن خیال کرتا ہے ہو جاتے ہیں کیونکہ خدا کے لیے کوئی بات بھی اَنہونی نہیں ۔ ‘‘
( ملفوظات جلد10صفحہ197-195)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”پاکیزگی سے یہ مراد ہے کہ انسان کو جو اُس کے جذباتِ نفسانیہ خدا تعالیٰ سے روح گرداں کر کے اپنی خواہشات میں محو کرنا چاہتے ہیں ان کا مغلوب نہ ہو اور کوشش کرے کہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق اس کی رفتار ہو۔ یہاں تک کہ اس کا کوئی قول فعل خدا تعالیٰ کی رضامندی کے بغیر سرزد ہی نہ ہو۔ خدا تعالیٰ قدوس اور پاک ہے وہ اپنی صفات کے مطابق ہی انسان کو بھی چلانا چاہتا ہے ۔وہ رحیم ہے انسان سے بھی رحم چاہتا ہے ۔ وہ کریم ہے انسان سے بھی کرم جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی صفات خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت میں ظاہر ہیں۔ جسمانی طور سے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا مدت ہائے دراز سے چلی آتی ہے۔ ان کو اناج، پانی، لباس، روشنی وغیرہ تمام حوائجِ ضروریہ اور لوازم انسانیہ ہمیشہ سے بہم پہنچاتا چلا آیا ہے اور ہمیشہ ہی اس کے رحم اور کرم کی صفات اور اسمائے حسنہ کے تقاضے ساتھ ساتھ مخلوق کی دستگیری کرتے چلے آئے ہیں۔ پس غرض یہ ہے کہ خدا تعالیٰ انسان کو اپنی صفات کے رنگ میں رنگین کرنا چاہتا ہے۔“
( ملفوظات جلد10 صفحہ 437۔438 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”حدیث ہے طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةً عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَمُسْلِمة ۔مَيں پہلے مردوں کا ذکر کرتا ہوں کہ قبل اس کے جو اسلام کی حقیقت معلوم ہو اور اس کی خوبیاں معلوم ہوں پہلے ان علوم کی طرف مشغول ہو جانا سخت خطرناک ہے۔ چھوٹے بچوں کو جب دین سے بالکل آگاہ نہ کیا جائے اور صرف مدرسہ کی تعلیم دی جائے تو وہی باتیں ان کے بدن میں شیرِ مادر کی طرح رَچ جائیں گی۔ پھر سوا اس کے اور کیا ہے کہ وہ اسلام سے پھر جائیں۔ عیسائی تو بہت کم ہوں کیونکہ تثلیث و کفارہ اور ایک انسان کو خدا ماننے کا عقیدہ ہی کچھ ایسا لغو ہے کہ اسے کوئی عقیل و فہیم قبول نہیں کر سکتا ۔ البتہ دہریّہ ہو جانے کا بہت خطرہ ہے۔ پس ضرور ہے کہ پہلے روز ساتھ ساتھ روحانی فلسفہ پڑھایاجاوے۔ جب آجکل کی تعلیم نے مردوں پر مذہب کے لحاظ سے اچھا اثر نہیں کیا تو پھر عورتوں پر کیا توقع ہے؟ ہم تعلیمِ نسواں کے مخالف نہیں ہیں بلکہ ہم نے تو ایک سکول بھی کھول رکھا ہے ۔ مگر یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ پہلے دین کا قلعہ محفوظ کیا جائے تا بیرونی باطل تاثرات سے محفوظ رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو سواء السّبیل ، تو بہ، تقویٰ و طہارت کی توفیق دے۔“
( ملفوظات جلد10 صفحہ 379)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ صدق و صفا، تقویٰ طہارت ، یہ اسلام کے برکات تھے جو کہ مسلمانوں میں لازماًپائے جاتے ہیں مگر اب تو ان صفات سے لوگ بھی محروم ہوگئے ہیں۔ نماز بھی پڑھتے ہیں تو بہت ہی کم۔ مسجدیں ویران پڑی ہیں ، نمازی کوئی نظر نہیں آتا۔ ایک وقت تھا کہ نمازیوں کو مسجدیں نہ ملتی تھیں۔ جتنے پڑھتے ہیں اُن میں بھی اکثر دکھلاوے کی نماز پڑھتے ہیں کیونکہ حقیقی نماز کے آثار کے برکات اور ثمرات سے محروم ہیں۔ عیسائی تو حضرت مسیح کو پھانسی دے کر بے فکر ہو بیٹھے تھے اکثر مسلمان حضرت امام حسینؓ کی شہادت میں نجات پاچکے ہیں۔‘‘
( ملفوظات جلد10صفحہ256)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ یاد رکھو کہ بُت پرستی ، انسان پرستی ، مخلوق پرستی کی سزا آخرت میں ہے۔ مگر شریفوں بد معاشوں ، ظلم و تعدّی ، غفلت اور اہلِ حق کو ستانے اور دُکھ دینے کی سزا اِسی دنیامیں دی جاتی ہے۔ نوح کے وقت جو عذاب آیا اگر خدا تعالیٰ کے رسول کو نہ ستاتے تو وہ عذاب نہ آتا۔ یہ شوخی پر اِس لئے عذاب آتا ہے کہ ” ایک چور دوسرا چتر“ دنیا دارُالمکافات نہیں۔ اس میں دست بدست سزا صرف اُسے ملتی ہے جو بد معاشی کرے جو شرافت کے ساتھ گناہ میں گرفتار ہو تو اُس کی سزا آخرت میں ہے اور اب جو دنیا میں عذاب آیا تو اسی لئے کہ دلیری ، شوخی ، شرارت حد سے بڑھ گئی ایسی کہ گویا خدا ہے ہی نہیں۔ طاعون نےاِس قدر سخت بربادی کی مگر ابھی اُن کے دلوں نے کچھ محسوس نہیں کیا۔ پوچھو! تو ہنسی ٹھٹےمیں گزار دیتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں معمولی بیماری ہے گویا خدا کی قضاء و قدر سے مُنکر ہیں ۔ بیشک یہ بیماری ہے۔ مگر انہی بیماریوں سے عذاب آیا کرتا ہے۔ یہودیوں پر جب یہ وبا پڑی تو خدا تعالیٰ نے اسے عذاب فرمایا۔ یا د رکھو کہ جب خدا چاہتا ہے انہی بیماریوں کو شدت وکثرت میں بڑھا کر ہلاک کر دیتا ہے۔ ان لوگوں کی بے یقینی کی یہ علامت ہے کہ عذاب کوعذاب نہیں سمجھتے۔ خدا تعالیٰ رحیم ہے سزا دینے میں دھیما ہے مگر یہ لوگ یاد رکھیں کہ جب تک وہ وقت نہ آئے گا کہ پکار اٹھیں اب ہم سمجھے یہ عذاب ہٹنے کا نہیں۔ اس کا علاج وُہی ہےجو ہم بارہا دفعہ بتا چکے ہیں یعنی تضرّع و انابت الیٰ الله ۔‘‘
( ملفوظات جلد10صفحہ123)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ تم قال اللہ اور قال الرسول پر عمل کرو اور ایسی باتیں زبان پر نہ لاؤ جن کا تمہیں علم نہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ( بنی اسرائیل:37) تم نیکی کی طرف پورے زور سے مشغول ہو جاؤاور اعمالِ صالحہ بجا لاؤ۔ اگر تمہاری حالت اِس لائق ہو گئی اور تم نے پورے طور پر اپنا تزکیہ نفس کر لیا تو پھر خدا تعالیٰ کے مکالمہ مخاطبہ کا شرف بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ اکثر لوگ آجکل ہلاک ہو رہے ہیں اُن کی یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی حالت کا مطالعہ نہیں کرتے اور اُس تعلق کو نہیں دیکھتے جو وہ خداتعالیٰ سے رکھتے ہیں اور نہیں سوچتے کہ کسی زور سے خدا تعالیٰ کی طرف جا رہے ہیں اور کیسے کیسے مصائب آنے پر ثابت قدم نکلے ہیں اور ابتلاؤں میں پُورے اُترےہیں۔‘‘
( ملفوظات جلد10صفحہ14)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”نئے سرے سے قرآن شریف کو پڑھو اور اس کے معانی پر خوب غور کرو۔ نماز کو دل لگا کر پڑھو اور احکامِ شریعت پر عمل کرو۔ انسان کا کام یہی ہے۔ آگے پھر خدا کے کام شروع ہو جاتے ہیں۔ جو شخص عاجزی سے خدا تعالیٰ کی رضا کو طلب کرتا ہے خدا تعالیٰ اس پر راضی ہوتا ہے۔“
(ملفوظات جلد 9 صفحہ 323)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ اصل رازق خدا تعالیٰ ہے۔ وہ شخص جو اُس پر بھروسہ کرتا ہے کبھی رزق سے محروم نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر طرح سے اور ہر جگہ سے اپنے پر توکّل کرنے والے شخص کے لئے رزق پہنچاتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مجھ پر بھروسہ کرے اور توکّل کرے مَیں اُس کے لئے آسمان سے برساتا اور قدموں میں سے نکالتا ہوں ۔ پس چاہئے کہ ہر ایک شخص خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔‘‘
( ملفوظات جلد9صفحہ360)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”یہ بھی یاد رکھو کہ معصیت اور فسق کو نہ واعظ دُور کر سکتے ہیں اور نہ کوئی اَور حیلہ ۔اس کے لیے ایک ہی راہ ہے اور وہ دعا ہے۔ خدا تعالیٰ نے یہی ہمیں فرمایا ہے اس زمانہ میں نیکی کی طرف خیال آنا اور بدی کو چھوڑنا چھوٹی سی بات نہیں ہے یہ انقلاب چاہتی ہے اور یہ انقلاب خدا تعالی کے ہاتھ میں ہے اور یہ دعاؤں سے ہوگا۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ راتوں کو رو رو کر دعائیں کریں اس کا وعدہ ہے۔ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ ( المومن: 61) ۔ عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ دعا سے مراد دنیا کی دعا ہے وہ دنیا کے کیڑے ہیں اس لیے اس سے پَرے نہیں جا سکتے۔ اصل دعا دین ہی کی دعا ہے لیکن یہ مت سمجھو کہ ہم گنہگار ہیں یہ دعا کیا ہوگی اور ہماری تبدیلی کیسے ہو سکے گی یہ غلطی ہے۔ بعض اوقات انسانی خطاؤں کے ساتھ ہی ان پر غالب آ سکتا ہے اس لیے کہ اصل فطرت میں پاکیزگی ہے ۔ دیکھو! پانی کیسا ہی گرم ہو لیکن جب وہ آگ پر ڈالا جاتا ہے تو وہ بہرحال آگ کو بجھا دیتا ہے اس لیے کہ فطرتاً برودت اس میں ہے۔ ٹھیک اسی طرح پر انسان کی فطرت میں پاکیزگی ہے۔ ہر ایک میں یہ مادہ موجود ہے۔ وہ پاکیزگی کہیں نہیں گئی ۔ اسی طرح تمہاری طبیعتوں میں خواہ کیسے ہی جذبات ہوں رو کر دعا کرو گے تو اللہ تعالی دُور کر دے گا ۔“
(ملفوظات جلد9 صفحہ 167۔168 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”نماز کیا ہے؟ یہ ایک خاص دعا ہے مگر افسوس ہے کہ لوگ اس کو بادشاہوں کا ٹیکس سمجھتے ہیں نادان اتنا نہیں جانتے کہ بھلا خدا تعالی کو ان باتوں کی کیا حاجت ہے۔ اس کی غناء ذاتی کو اس بات کی کیا حاجت ہے کہ انسان دعا اور تسبیح اور تہلیل میں مصروف ہو بلکہ اس میں انسان کا اپنا ہی فائدہ ہے کہ وہ اس طریق سے اپنے مطلب کو پہنچ جاتاہے۔“
(ملفوظات جلد 9 صفحہ 3)

مزید پڑھیں