’’ تصویر سےبھی ایک تعلق پیدا ہوتاہے ‘‘ (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
” مالی کے ریجن سِکَاسَو کے مبلغ لکھتے ہیں مروان کولی بالی صاحب احمدیہ مشن ہاؤس آئے اور کہا کہ وہ بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ریڈیو احمدیہ شوق سے سنتے تھے اور جماعت کی اکثر باتوں سے مطمئن تھے لیکن بیعت کرنے کو دل نہیں مانتا تھا۔ کہنے لگے: کل جب میری ریڈیو سنتے سنتے آنکھ لگ گئی تو مَیں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان میں چاند نہایت روشن ہے اور چاند میں دو اشخاص کی تصویریں نظر آ رہی ہیں۔ ایک تصویر بڑی اور ایک چھوٹی ہے اور قریب کھڑے بچے شور مچا رہے ہیں کہ یہ امام مہدی علیہ السلام اور ان کے خلیفہ کی تصویر ہے۔ وہ آ گئے ہیں۔ مروان صاحب کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے خواب میں ہی قریب کھڑے بزرگ سے دریافت کیاکہ کیا آپ کو بھی تصویر نظر آ رہی ہے، جس پر بزرگ نے تو نفی میں جواب دیا لیکن کہتے ہیں میرا دل مطمئن ہو گیا کہ احمدیت ہی سچی جماعت ہے جو امام مہدی کے ظہور کا اعلان کر رہی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلفاء کی تصویریں دیکھیں توحضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بڑی تصویر کو پہچان لیا۔ ساتھ میری تصویر بھی تھی اور کہا یہی تو میں نے خواب میں دیکھا تھا۔“
(خطبہ جمعہ 11؍اگست2023ء )

مزید پڑھیں

’’ تصویر سےبھی ایک تعلق پیدا ہوتاہے ‘‘ (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ہم نے اپنی تصویر محض اس لحاظ سے اُتروائی تھی کہ یورپ کو تبلیغ کرتے وقت ساتھ تصویریں بھیج دیں، کیونکہ ان لوگوں کا عام مزاج اس قسم کا ہوگیا ہے کہ وہ جس چیز کا ذکر کرتے ہیں ساتھ ہی اس کی تصویر دیتے ہیں جس سے وہ قیافہ کی مدد سے بہت سے صحیح نتائج نکال لیتے ہیں۔‘‘
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ18-19)

مزید پڑھیں

” مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ “ (روحانی ہجرت) (تقریر نمبر 5)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ کے ساتھ فرمایا کہ
’’ جس شخص نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی خاطر ہجرت کی اس کی خوشنودی کے لئے اپنے وطن اور خواہشات کو ترک کر دیا تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسولؐ کے لئے ہو گی۔ ‘‘
(بخاری کتاب الایمان باب النیّۃ فی الایمان)

مزید پڑھیں

مؤمنین کا بُلند مقام و مرتبہ اَور فرائض و ذمّہ داریاں(حضرت مسیح موعود ؑ کے ارشادات کے تناظر میں)(تقریرنمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی:
’’ ںمؤمن ںکی ںجو ںتقسیم ںقرآ ں ن ںشریف میں ںکی ںگئی ںہے۔ اس ںکے تین ںہی ںدرجے اللہ ںتعالیٰ ںنے ںرکھے ں ں ہی۔ ظالم۔ ں ں ص دد
قت
ُ
م
– ںسابق ںبالخیرات ں۔ یہ ںان کے ںمدار ں ج ں ہی۔ ںورنہ ں ںاسلا ں مں
کے ںاندر ںیہ ںداخل ں ں ہی۔ ںظالم ںوہں ںہوتا ں ں ہے ںکہ ںابھی ںاس ںمیں ںبہتں ںغلطیاں ںاور ںکمزوریاں ں ں ہی ںاور ں ص دد وہں
قت
ُ
م
ںہوتا ںہے ںکہ ںنفس ںاور ںشیطان ںسے ںاس ںکی ںجنگ ںہوتی ںہے۔ ںمگر ں ں کبھی ںیہ
غالب ںآجاتا ںہے ںاور ں ں کبھی ںمغلوب ںہوتا ںہے۔ ںکچھ ںغلطیا ں ںبھی ںہوتی ں ں ہی ںاور ںصلاحیت ںبھی ںاور ںسابق ںبالخیرات ںوہں ںہوتا ںہے ں۔ ںجو ںان ںدونو ں ںدرجوں ںسے ںنکل ںکر ںمستقل ںطور ں ں پرں
نیکیاں کرنے میںں سبقت لے جاوے اور بالکل صلاحیت ہیں ہو۔ں نفس اورں شیطان کو مغلوب کر چکاں ہو۔ قرآ ں نشریفں ان سب کو مسلمان ہی کہتا ں ہے۔‘ں‘ ں
)ملفوظات جلد 4 صفحہ 125 (ں ں

مزید پڑھیں

مؤمنین کا بُلند مقام و مرتبہ اَور فرائض و ذمّہ داریاں(حضرت مسیح موعود ؑ کے ارشادات کے تناظر میں)(تقریرنمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ”جو شخص سچے جوش اور پورے صدق اور اخلاص سے اللہ تعالیٰ ںکی طرف آتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ یہ یقینی اور سچی بات ہے کہ جو خدا کے ہوتے ہی خدا ان کا ہوتا
ہے اور ہر ایک میدان میں ان کی نصرت اور مدد کرتا ہے بلکہ ان پر اپنے اس قدر انعام و اکرام نازل کرتا ہے کہ لوگ ان کے کپڑوں سے بھی برکتیں حاصل کرتے ہی ں ۔
اللہ تعالی نے یہ جو دعا سکھائی ہے تو یہ اس واسطے ہے کہ تا تم لوگوں کی آنکھ کھلے کہ جو کام تم کرتے ہو دیکھ لو کہ اس کانتیجہ کیا ہوا ہے۔ اگر انسان ایک عمل کرتا ہے اور ا ں س
کا نتیجہ کچھ نہیں تو اس کو اپنے اعمال کی پڑتال کرنی چاہئ کہ وہ کیسا عمل ہے جس کانتیجہ کچھ نہیں۔ ں “
)ملفوظات جلد 10 ایڈیشن 1984 ۔ صفحہ 44 ں ( ں

مزید پڑھیں

مؤمنین کا بُلند مقام و مرتبہ اَور فرائض و ذمّہ داریاں(حضرت مسیح موعود ؑ کے ارشادات کے تناظر میں)(تقریرنمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ” ںخدا تعالیٰ ںفرماتا ہے کہ کا فروہ ں ہی ںجو حیات ںدنیا ںپر راضی ہو گئے اور اطمینان ںپاگئے ں ہی۔ خدا تعالیٰ ںکی طرف حرکت کی ںضرورت کو وہ بالکل محسوس ہی نہیں کرتے قِیْمُ
ُ
لاَّ ن
َّ
ف
ا
ً
ن
ْ
قِیَّامَّۃِ وَّز
ْ
ہُمْ يَّوْمَّ ال
َّ
ل )الکہف: ں 106 ( میں ںگناہ کا ذکر نہیں ںہے۔ اس کا باعث صرف ں ں یہ ںہے کہ ان لوگوں نے دنیا ںکی خواہشوں ںکو مقدّم رکھا ہوا تھا۔ ںایک ںںاَور جگہ اللہ تعا ں لیٰں
فرماتا ہے کہ وہ لوگ دنیا ںکا حظّ ںپاچکے۔ وہاں بھی ںگناہ کا ذکر نہیں ںبلکہ دنیا ںکی ںلذّات ںجن کو خدا تعالیٰ نے جائز ں کیاہے اُن میں ںمنہمک ہو جانے کا ذکر ہے۔ اس قسم کے لوگوں کا
مرتبہ ں عناللہ کچھ نہ ہوگا اور نہ ان کو ں عزّت کا مقام دیا جائے گا۔ شیریں زندگی اصل میں ایک شیطان ہے جو کہ انسان کو دھو کادیتی ہے۔ مؤمن تو خود مصیبت خریدتاں ہےں ۔
ورنہ اگر وہ مداہنہ برتے تو ہر طرح آرام سے رہ سکتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اگر اس طرح کرتے تو اس قدر جنگیں کیوں ہوتیں لیکن آپ نے دںین کو مقدّمں رکھا
اس لئے سب دشمن ہو گئے۔ ں “ ں
)ملفوظات جلد 7 ایڈیشن 1984 ۔ ں صفحہ 108 (

مزید پڑھیں

مؤمنین کا بُلند مقام و مرتبہ اَور فرائض و ذمّہ داریاں(حضرت مسیح موعود ؑ کے ارشادات کے تناظر میں)(تقریرنمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی:
’’ از کو چہرہ دیکھ کر شناخت کرلیتے ہی۔ ایمان لانے والے تین قسم کے آدمی ہوتے ہی۔ ایک تو
وہ لوگ بہت تعریف کے قابل ہی جو کسی راس وہ جو چہرہ دیکھ کر ایمان
ب ہ حاصل ہو جاتا ہے
لاتے ہی دوسرے وہ جو نشان دیکھ کر ایمان لاتے ہی۔ تیسرا ایک ارذل گروہ کہ جب ہر طرح سے گل اور کوئی وجہ ایمان بالغیب کی باقی نہیں رہتی ں تو
اُس وقت ایمان لاتے ہیجیسے فرعون کہ جب غرق ہونے لگا تو اُس وقت إقرار کیا ۔ ‘‘ ں ں
)ملفوظات جلد 6 صفحہ 217 ۔ 218 ں ( ں

مزید پڑھیں

ایمان کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود کے افاضات کی روشنی میں (تقریر نمبر 5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی:
’’ یاد رکھو ! ایمان ایک راز ہوتا ہے جو ں مؤمن اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہوتا ہےںاور جس کو مخلوق میں سے اُس مؤمن کے سوا دوسرا نہیں جان سکتاں ۔ یْدِیْ بِ عَّبْ ِ
ن
َّ
دَّ ظ
ْ
ا عِن
َّ
آن ں
ں
کی حقیقت یہی ہے بعض اوقات وہ لوگ جو علوم ںحقّہ ںاور معارف الٰہیہ ںسے بہرہ ور نہیں ہوتے۔ کسی ںمؤ ں
من کے ان تعلقات کے عدم ںعلم کی وجہ سے جو اللہ تعا ں
ل ںکے ساتھں
اُس کو ہوتے ہی۔ اُس کی بعض حالتوں مثلاً معاملات رزق و معاش پر حیرت اور تعجّب ںظاہر کرتے ہی اور کبھی یہ تعجّب ںاُن کو بدظنّی ںاور گمراہی تک لے جاتا ہے۔ ںاں س لئے
اُن کی نظر اپنے ہی محدود اسباب ں تک ہوتی ہےاور وہ اس راز اور ںسِرّ ںسے ںجو ں ں ں
ئَ
اللہ تعالیٰ کے ساتھ وہ رکھتا ہےنا واقف ہوتے ہی۔ م چاہتا ہوں کہ ہمارے دوست ںاللہ ں ںتعا ں لیٰ
کے ساتھ اپنے ںا س راز کو ایس بنائیں جو صحابہ کرا ں م کا تھا۔‘ں‘ ں
) ملفوظات جلد 2 ایڈیشن 1984 ء صفحہں 98 ( ں

مزید پڑھیں

ایمان کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود کے افاضات کی روشنی میں (تقریر نمبر 4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی:
” ںایمان ںبالغیب ںکے ںیہ ںمعنی ں ں ہی ںکہ وہ خدا سےاَڑ نہیں ں غیب
ٔ
باندھتے۔ بلکہ جو بات پردہ ںمیں ں حّہ کے لحاظ سے قبول کرتے ہی
ج
ہو۔ اس کو قرائن مر ںاور دیکھ ںلیتے ں ں ہی ںکہ صدق ں
کے وجوہ کذب کے وجوہ پر غالب ں ہی۔ ںیہ بڑی غلطی ہے کہ انسان یہ خیال رکھے کہ آفتاب کیں طرح ہر ایک امر اس پر منکشف ہو جاوے۔ اگر ایس ہو تو پھر بتلاؤ کہ اس کے ں
ثواب حاصل کرنے کا کونسا موقعہ ملا؟ ں کیا ںاگر ہم آفتاب کو د ں یکھ ںکر ں کہی ںکہ ہم اُس پر ایمان ںلائے تو ہم کو ثواب ملتا ہے؟ ہرگز ں نہیں۔ کیوں ں ؟ ںصرف اس لئے کہ اس ں میںں
غیب ںکا پہلو کوئی ںبھی ںنہیں۔ لیکن ںجب ملائکہ، خدا اور ں ں قیامت ںوغیرہ ںپر ایمان ںلاتے ں ہی ںتو ثواب ملتا ہے۔ اس کی ںیہی ںوجہ ہے کہ ان پر ایمان ںلانے میں ںایک ںپہلو غیب ںکا پڑا
ہوا ہے۔ ایمان لانے کے لئے ضرو ں ریں ہے کہ کچھ اخفاء بھی ہو اور طالب حق چند قرائن صدق کے لحاظ سے ان باتوں کو مان لے۔ ں “ ں
)ملفوظات جلد 6 ں ایڈیشن 1984 ء صفحہ 218 – 219 ں (

مزید پڑھیں

ایمان کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود کے افاضات کی روشنی میں (تقریر نمبر 3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی:
تو ہمیشہ دعا کرتا ہوں مگر تم لوگوں کو بھی چاہئ کہ ہمیشہ دعا میں لگے رہو۔نمازیں پڑھو اَور توبہ کرتے رہو۔ جب یہ حالت ہو
ئَ
’’ م گی تو اللہ تعالیٰ حفاظت کرے گا اَور ا ں گر
سارے گھر میں ایک شخص بھی ایس ہو گا تو اللہ تعالیٰ اُس کے باعث سے دوسروں کی بھی حفاظت کرے ں کھ اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے سوا نہیں آتا اَور وہ اُس
ُ
گا۔ کوئی بَلا اَور د
وقت آتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی نافرمان اَور مخالفت کی جاوے۔ ایسے وقت پر عام ایمان کام نہیں آتا بلکہ خاص ایمان کام آتا ہے۔ جو لوگ عام ایمان رکھتے ہی وہ اُن بَلاؤ ں
سے حصّہ لیتے ہی اَور اللہ تعالیٰ اُن کی پروا نہیں کرتا مگر جو خاص ایمان رکھتے ہی اللہ تعالیٰ اُن کی طرف رجوع کرتا ہے اَور آپ اُن کی حفاظت فرماتا ہے۔
انَّ لل
َّ
مَّنْ ک انَّ
َّ
هِ ک
الل ہٗ۔
َّ
هُ ل بہت سے لوگ ہی جو زبان سے
االل
لاَّ اِلّٰہَّ اِل هُ کھ یا
ُ
کھ نہیں اُٹھاتے۔کوئی د
ُ
کا اقرار کرتے ہی اَور اپنے اسلام اَور ایمان کا دعو ی کرتے ہی مگر وہ اللہ تعالیٰ کے لئے د
تکلیف یا مقدّمہ آ جاوے تو فوراً خدا کو چھوڑنے کو تیارہو جاتے ہی اَور ا س کی نافرمانی کر بیٹھتے ہی۔ اللہ تعالیٰ اُن کی کوئی ںپروا نہیں ںکرتا مگر جو خاص ایمان رکھتا ہو اَور ہر حا ں ل
کھ اُٹھا لیتا ہے اَوردو مصیبتیں اُس پر جمع نہیں کر
ُ
کھ اُٹھانے کو تیار ہو جاوے تو خدا تعالیٰ اُس سے د
ُ
میں خدا کے ساتھ ہو اَور د کھ ہی ہے اَور مؤمن پر دں و
ُ
کھ کا اصل علاج د
ُ
تا۔ د
بَلائیں جمعنہیں کی جاتیں۔‘ں‘ ں
) ملفوظات جلد 5 صفحہ 67 ۔ 68 ں ( ں

مزید پڑھیں