قُرَّۃُ عَیۡنِیۡ فِی الصَّلٰوۃِ ( حضرت محمدؐ ) نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے (تقریر نمبر 17)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادات کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’کیا اس محسن انسانیت جیسا کوئی اور ہے جو ساری ساری رات اپنے رب کے حضور لوگوں کے لئے مغفرت مانگتے ہی گزار دیتا ہے، بخشش مانگتے ہی گزار دیتا ہے۔ اپنے رب کے عشق میں سر شار ہے اور اس کی مخلوق کی ہمدردی نے بھی بے چین کر دیا ہے۔ اپنی رات کی نیند کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے اپنی سب سے چہیتی بیوی کے قرب کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ خواہش ہے تو صرف یہ کہ میرا اللہ مجھ سے راضی ہو جائے اور اس کی مخلوق عذاب سے بچ جائے۔ کیا ایسے شخص کے بارے میں کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ نعوذ باللہ دنیا کی رنگینیوں میں ملوث تھا۔ آپؐ کی راتیں کس طرح گزرتی تھیں اس کی ایک اور گواہی دیکھیں۔ حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ آپؐ کچھ دیر سوتے پھر کچھ دیر اٹھ کر نماز میں مصروف ہوتے۔ پھر سو جاتے، پھر اٹھ بیٹھتے اور نماز ادا کرتے۔ غرض صبح تک یہی حالت جاری رہتی۔(ترمذی کتاب فضائل القرآن باب ماجآء کیف کان قراء ۃ النبیؐ)“
(خطبہ جمعہ 18فروری2005ء )
