حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7 ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہماری جماعت بھی اگر بیچ کا بیج ہی رہے گی تو کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ جوردّی رہتے ہیں خدا تعالیٰ ان کو بڑھاتا نہیں ۔ پس تقویٰ ، عبادت اور ایمانی حالت میں ترقی کرو۔ اگر کوئی شخص مجھے دجّال اور کافر وغیرہ ناموں سے پکارتا ہے تو تم اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہ کرو ۔ کیونکہ جب خدا میرے ساتھ ہے تو مجھے ان کے ایسے بدکلمات اور گالیوں کا کیا ڈر ہے؟ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کافر کہا تھا۔ ایک زمانہ ایسا آگیا کہ پکار اُٹھا کہ مَیں اس خدا پر ایمان لایا جس پر موسیٰ اور اس کے متّبِع ایمان لائے ہیں۔ ایسے لوگ یا د رکھو کہ مخنّث اور نامرد ہوتے ہیں۔ یہ تو ایسے ہوتے ہیں کہ جیسے ایک بچہ بعض اوقات اپنی ماں اور باپ کو بھی ناسمجھی کی وجہ سے گالی دے دیتا ہے۔ مگر اس کے اس فعل کو کوئی بُرا نہیں سمجھتا۔“
(ملفوظات جلد7 صفحہ 233-234)
