حسِّ مزاح، انسان کی چھٹی حسّ اور زندگی کے ہر مقام سے گزرنے کا ہنر

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
مَا رَآنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي (صحیح بخاری)
یعنی مَیں جب سے اسلام لایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جب بھی دیکھا آپؐ کے رُخِ انور پر ایک دل نشین مسکراہٹ سج گئی۔

مزید پڑھیں

چالیس اقوال رسولؐ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنۡبِ کَمَنۡ لَّا ذَنۡبَ لَہُ (سنن ابن ماجہ)
ترجمہ : گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جس نے گناہ کیا ہی نہیں۔
Translation: The one who repents from a sin is like one who has not committed the sin.

مزید پڑھیں

غلُوّ سے اجتناب

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ
(سنن النسائی)
کہ دین میں غلوّ سے بچو! کیونکہ تم سے پہلی امّتوں کو دین میں غلوّ اور حد سے تجاوز کرنے ہی نے ہلاک کیا۔

مزید پڑھیں

حقیقی مؤمن کی خصوصیات (حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر3)

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’مَیں بھیجا گیا ہوں کہ تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو۔‘‘ (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد 13صفحہ 293۔ حاشیہ)
ایک احمدی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سلسلہ بیعت میں داخل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اُسے ان الفاظ کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائے ہیں، ہر وقت سامنے رکھنا چاہئے۔ ان پر غور کرنا چاہئے۔ ان کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہئے اور جب ایک احمدی یہ کر رہا ہو گا تو تبھی وہ اُسے بیعت کا حق ادا کرنے والا بناتا ہے۔ ورنہ تو صرف ایک دعویٰ ہے کہ ہم احمدی ہیں۔ وہ سچائی اور ایمان جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لانا چاہتے ہیں یا جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے، جس سے دلوں میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے، یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے، جیسا کہ آپ کے اس فقرے سے ظاہر ہے کہ ’’ سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے‘‘ یعنی یہ سچائی اور ایمان اور تقویٰ کا زمانہ کسی وقت میں تھا جو اَب مفقود ہو گیا ہے اور اس کو پھر لانا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کام.ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 22؍ اپریل 2011ء)

مزید پڑھیں

حقیقی مؤمن کی خصوصیات (حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر2)

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ایک مؤمن کے لئے سال اور دن اس صورت میں مبارک ہوتے ہیں جب وہ اس کی توبہ کی قبولیت کا باعث بن رہے ہوں اور اس کی روحانی ترقی کا باعث بن رہے ہوں اور اس کی مغفرت کا باعث بن رہے ہو… نئے سال کے پہلے دن کو ہی اس طرح دعاؤں کے ساتھ سجاؤکہ سارا سال ہی قبولیت دعا کے نظارے نظر آتے چلے جائیں…حقیقی مؤمن وہی ہے جو تقوی کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اعمال بجا لانے کی کوشش کرے۔ اس دعا کے ساتھ اپنے ہردن اورہرسال میں داخل ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے ہمیشہ تقویٰ پر قائم رکھے اور دین و دنیا کی حسنات سے نوازتا رہے ۔‘‘
(خطبہ جمعہ 1؍جنوری 2010ء)

مزید پڑھیں

حقیقی مؤمن کی خصوصیات (حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر1)

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
اگر ہماری مسجدیں بنیں تو ایسی نمازیں ادا کرنے کے لیے مسجدیں بنیں۔ ہم مسجدیں بنانے کی طرف توجہ دیں تو اس معراج کو حاصل کرنے کے لیے۔ یہ ہماری معراج ہونی چاہیے۔ یہی وہ ذریعہ ہے جو خدا تعالیٰ تک لے جاتا ہے اور خدا تعالیٰ سے باتیں کرنے کا موقع ملتا ہے۔ پس مایوس نہیں ہونا چاہیے کہ یہ مقام کس طرح ملے۔ مسلسل کوشش سے یہ مقام اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔“
(خطبہ جمعہ 25؍ اکتوبر 2019ء)

مزید پڑھیں

لوگوں کی عزّت وناموس (اسلام کی آفاقی تعلیم اور احمدی مسلمان کی ذمّہ داری)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”غرض نوع انسان پر شفقت اور اس سے ہمدردی کرنا بہت بڑی عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کیلئے یہ ایک زبردست ذریعہ ہے۔ مگر مَیں دیکھتا ہوں کہ اس پہلو میں بڑی کمزوری ظاہر کی جاتی ہے۔ دوسروں کو حقیر سمجھا جاتا ہے۔ ان پر ٹھٹھے کیے جاتے ہیں ان کی خبرگیری کرنا اور کسی مصیبت اور مشکل میں مدد دینا تو بڑی بات ہے۔ جو لوگ غرباء کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش نہیں آتے بلکہ ان کو حقیر سمجھتے ہیں مجھے ڈر ہے کہ وہ خود اس مصیبت میں مبتلا نہ ہو جاویں۔ اللہ تعالیٰ نے جن پر فضل کیا ہے اس کی شکر گزاری یہی ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ احسان اور سلوک کریں اور اس خداداد فضل پر تکبر نہ کریں اور وحشیوں کی طرح غرباء کو کچل نہ.ڈالیں۔“

مزید پڑھیں

”خمیر سے خمیرلگتا ہے“ (مسیح موعودؑ )

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”انسان کو انوار اور برکات سے حصّہ نہیں مِل سکتا۔ جب تک وہ اِسی طرح عمل نہ کرے جس طرح خدا فرماتا ہے کہ کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ۔ بات یہی ہے کہ خمیر سے خمیر لگتا ہے اور یہی قاعدہ ابتداء سے چلا آتا ہے۔ پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو آپ کے ساتھ برکات اور انوار تھے جن میں سے صحابہ نے بھی حصّہ لیا پھر اِسی طرح خمیر کی لاگ کی طرح آہستہ آہستہ ایک لاکھ تک ان کی نوبت آئی۔ “
( البدر جلد 4 مورخہ 21 نومبر 1902ء صفحہ 31)

مزید پڑھیں

بچے ہماری تقریریں کم اور زندگی زیادہ یاد رکھتے ہیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں جس میں مَیں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا۔“
(ملفوظات، جلد 8 صفحہ 110)

مزید پڑھیں

فاسٹ  چارجنگ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ انسان کو انوار اور برکات سے حصّہ نہیں مل سکتا ۔ جب تک وہ اسی طرح عمل نہ کرے جس طرح خدا فرماتا ہے کہ كُونُوا مَعَ الصّادِقِین ۔ بات یہی ہے کہ خمیر سے خمیر لگتا ہے اور یہی قاعدہ ابتداء سے چلا آتا ہے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو آپ کے ساتھ برکات اور انوار تھے جن میں سے صحابہ نے بھی حصّہ لیا پھر اسی طرح خمیر کی لاگ کی طرح آہستہ آہستہ ایک لاکھ تک ان کی نوبت آئی۔‘‘
(البدر جلد نمبر 4 مؤرخہ 21 نومبر 1902ء صفحہ31)

مزید پڑھیں