حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر9)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’سود اور قمار بازی کو الگ کر کے دوسرے اقراروں اور ذمہ داریوں کو شریعت نے صحیح قرار دیا ہے ۔ قمار بازی میں ذمہ داری نہیں ہوتی۔ دنیا کے کاروبار میں ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ دوسرے ان تمام سوالوں میں اس امر کا خیال بھی رکھنا چاہیے کہ قرآن شریف میں حکم ہے کہ بہت کھوج نکال کر مسائل نہ پوچھنے چاہیئں ۔ مثلاً اب کوئی دعوت کھانے جاوے اور اسی خیال میں لگ جاوے کہ کسی وقت حرام کا پیسہ ان کے گھر میں آیا ہوگا پھر اس طرح تو آخر کار دعوتوں کا کھانا ہی بند ہو جاوے گا۔ خدا کا نام ستّار بھی ہے ورنہ دنیا میں عام طور پر راست باز کم ہوتے ہیں مستور الحال بہت ہوتے ہیں۔ یہ بھی قران میں لکھا ہےوَلَا تَجَسَّسُوْا یعنی تجسّس مت کیا کرو ورنہ اس طرح تم مشقت میں پڑو گے۔“
( ملفوظات جلد5 صفحہ223)

مزید پڑھیں

25 تقاریر بابت عہد بیعت ، شرائط بیعت اور ہم

ان تقاریرکو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبات و خطابات میں بیان فرمودہ 10 شرائطِ بیعت پر مشتمل مواد سے بطور خلاصہ تیار کیاگیا ہے جو ماہ نومبر اور ماہ دسمبر 2025ءمیں آن ائیر ہوئیں۔ جِن میں بیعت، اطاعت پر مشتمل مزید تقاریر شامل کر کے 25 تقاریرپر ایک مجموعہ ”مشاہدات“ کے کرمفرماؤں کی خدمت میں پیش ہے۔ جس میں آپ کو لفظ بیعت کے معنی، اُس کے تقاضے، اِس حوالے سے ہماری ذمہ داریاں، 10شرائطِ بیعت اور اِس میں درج اخلاقیات، اطاعت،وفاداری اور حضرت مسیح موعود علیہ لسلام کی آمد ، بعثت اور آپؑ کے ارشادات پر سیر حاصل بحث ملے گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے لیے بہت مبارک کرے اور ہمیں اِن مبارک و مقدّس تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر8)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” بہترین دعا وہ ہوتی ہے جو جامع ہو تمام خیروں کی اور مانع ہو تمام مضرّات کی۔ اس لئے اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ کی دُعا میں آدمؑ سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک کُل منعم علیہم لوگوں کے انعامات کے حصول کی دعا ہے اور غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ میں ہر قسم کی مضرّتوں سے بچنے کی دُعا ہے ۔ چونکہ مغضوب سے مراد یہود اور ضالین سے مراد نصاریٰ بالاتفاق ہیں تو اس دعا کی تعلیم کا منشا صاف ہے کہ یہود نے جیسے بے جا عداوت کی تھی ۔ مسیح موعود کے زمانہ میں مولوی لوگ بھی ویسا ہی کریں گے اور حدیثیں اس کی تائید کرتی ہیں یہاں تک کہ وہ یہودیوں کے قدم بہ قدم چلیں گے۔ “
(ملفوظات جلد 5 صفحہ 429-430)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ۔ ویسی کسی دوسرے مذہب نے قطعاً نہیں کی۔ مختصر الفاظ میں فرما دیا ہے۔ وَلَہُنَّ مِثۡلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ کہ جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر ہیں ۔ بعض لوگوں کاحال سُنا جاتا ہے کہ ان بیچاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات ان سے لیتے ہیں۔ گالیاں دیتے ہیں۔حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پردہ کے حکم ایسے ناجائز طریق سے برتتے ہیں کہ ان کو زندہ درگور کردیتے ہیں۔ چاہئے کہ بیویوں سے خاوند کا ایسا تعلق ہو جیسے دو سچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔ انسان کے اخلاقِ فاضلہ اور خداتعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں ۔ اگر ان ہی سے اس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خداتعالیٰ سے صلح ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہےخَیۡرُکُمۡ خَیۡرُکۡمۡ لِاَھۡلِہٖ ۔ تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل کے لئے اچھا ہے۔“
(ملفوظات جلد 5 صفحہ 417-418)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہمارا صرف ایک ہی رسول ہے اور صرف ایک ہی قرآن شریف اس رسول پر نازل ہوا ہے جس کی تابعداری سے ہم خدا کو پاسکتے ہیں ۔ آج کل فقراء کے نکالے ہوئے طریقے اور گدی نشینوں اور سجادہ نشینوں کی سیفیاں اور دعائیں اور درود اور وظائف یہ سب انسان کو مستقیم راہ سے بھٹکانے کا آلہ ہیں۔ سو تم اُن سے پرہیز کرو ۔ ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے کی مَہر کو توڑنا چاہا گویا اپنی الگ ایک شریعت بنالی ہے۔ تم یاد رکھو کہ قرآن شریف اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی پَیروی اور نماز روزہ وغیرہ جو مسنون طریقے ہیں ان کے سوا خدا کے فضل اور برکات کے دروازے کھولنے کی اور کوئی کُنجی ہے ہی نہیں ۔ بُھولا ہوا ہے جو اِن راہوں کو چھوڑ کر کوئی نئی راہ نکالتا ہے۔ ناکام مرے گا وہ جو اللہ اور اس کے رسول کے فرمودہ کا تابعدار نہیں۔ بلکہ اَور اَور راہوں سے اُسے تلاش کرتا ہے ۔
دیکھو! گناہ کبیرہ بھی ہیں اُن کو تو ہر ایک جانتا ہے اور اپنی طاقت کے موافق نیک انسان اُن سےبچنے کی کوشش بھی کرتا ہے مگر تم تمام گناہوں سے کیا کبائر اور کیا صغائر سب سےبچو ۔ کیونکہ گناہ ایک زہر ہے جس کے استعمال سے زندہ رہنا محال ہے ۔ گناہ ایک آگ ہے جو رُوحانی قویٰ کو جلاکر خاک سیاہ کردیتی ہے۔ پس تم ہر قسم کے کیا صغیرہ کیا کبیرہ سب اندرونی بیرونی گناہوں سے بچو۔ آنکھ کے گناہوں سے ، ہاتھ کے گناہوں سے، کان ناک اور زبان اور شرمگاہ کے گناہوں سے بچو۔ غرض ہر عضو کے گناہ کے زہر سے بچتے رہو اور پرہیز کرتے رہو۔“
(ملفوظات جلد 5صفحہ 125-126)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” تم لوگوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے اسی پر بھروسہ نہ کر لینا۔ صرف اتنی ہی بات کافی نہیں۔ زبانی اقرار سے کچھ نہیں بنتا جب تک عملی طور سے اس اقرار کی تصدیق نہ کر کے دکھائی جاوے۔ یوں زبانی تو بہت سے خوش آمدی لوگ بھی اقرار کر لیا کرتے ہیں مگر صادق وہی ہے جو عملی رنگ سے اس اقرار کا ثبوت دیتا ہے ۔ خدا تعا لیٰ کی نظر انسان کے دل پر پڑتی ہے۔ پس اب سے اقرار سچا کر لو اور دل کو اس اقرار میں زبان کے ساتھ شریک کر لو کہ جب تک قبر میں جاویں ہر قسم کے گناہ سے شرک وغیرہ سے بچیں گے۔
غرض حق اور حق العباد میں کوئی کمی یا سستی نہیں کریں گے ۔اس طرح سے خدا تعا لیٰ تم کو ہر طرح کے عذابوں سے بچاوے گا اور تمہاری نصرت ہر میدان میں کرے گا۔ ظلم کو ترک کرو۔ خیانت، حق تلفی اپنا شیوہ نہ بناؤ اور سب سے بڑا گناہ جو غفلت ہے اس سے اپنے آپ کو بچاؤ ۔‘‘
( ملفوظات جلد5 صفحہ240-239)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ دیکھو! قرآن شریف سورۂ مزمّل میں صاف تاکید ہے کہ انسان کو کچھ حصہ رات آرام بھی کرنا چاہیے ۔ اس سے دن بھر کی کوفت اور تکان دور ہو کر قویٰ کو اپنا حرج شدہ مادہ بہم پہنچانے کا وقفہ مِل جاتا ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل یعنی سنّت بھی اسی کے مطابق ثابت ہے ۔ چنانچہ فرماتے ہیں اُصَلِّیْ وَ اَنُوْمُ
اصل میں انسان کی مثال ایک گھوڑے کی سی ہے ۔ اگر ہم ایک گھوڑے سے ایک دن اس کی طاقت سے زیادہ کام لیں اور اُسے آرام کرنے کا وقفہ ہی نہ دیں تو بہت قریب ایساوقت ہو گا کہ ہم اس کے وجود کو ہی ضائع کر کے تھوڑے فائدہ سے بھی محروم ہو جائیں گے ۔ نفس کو گھوڑے سے مناسبت بھی ہے ۔‘‘
( ملفوظات جلد5 صفحہ129)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ کہتے ہیں ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں جلا دینے کی کوشش کی گئی اس وقت اُن کے پاس فرشتے آئے اور کہا کہ تمہیں کوئی حاجت ہے تو ابراہیم علیہ السلام نے ان کو یہی جواب دیا ۔ بلٰی وَلٰکِنْ اِلَیْکُمْ فَلَا۔ یعنی ہاں حاجت تو ہے لیکن تمہاری طرف نہیں۔ ایسے مقام پر دعا بھی منع ہوتی ہے اور انبیاء علیہم السلام اس مقام کو خوب سمجھتےہیں۔
گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی
غرض اصل غرض انسان کی محبت ذاتی ہونی چاہیے۔ اس سے جو کچھ اطاعت اور عبادت ہوگی وہ اعلیٰ درجہ کے نتائج اپنے ساتھ رکھے گی۔ ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے مبارک بندے ہوتے ہیں وہ جس گھر میں ہوں وہ گھر مبارک اور جس شہر میں ہوں وہ شہر مبارک۔ اس کی برکت سے بہت سی بلائیں دور ہو جاتی ہیں اس کی ہر حرکت و سکون، اُس کے در و دیوار پر خدا کی برکت اور رحمت نازل ہوتی ہے ۔ مَیں اسی راہ کو سکھانا چاہتا ہوں اسی غرض کے لیے خدا تعالیٰ نے مجھے مامور کیا ہے ۔‘‘
( ملفوظات جلد5 صفحہ 108)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ہماری جماعت تو ایمان لاتی ہے۔ مگر اصل میں مدارِ ایمان نشانوں پر ہوتا ہے۔ اگرچہ انسان محسوس نہ کرے مگر اس کے اندر بعض کمزوریاں ضرور ہوتی ہیں اور جب تک وہ کمزوریاں دور نہ ہوں اعلیٰ مراتب ایمانی نہیں مل سکتے اور یہ کمزوریاں نشانات ہی کے ذریعہ دور ہوتی ہیں اور اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اپنے نشانوں سے ان کمزوریوں کو دور کرے اور جماعت اپنے ایمان میں ترقی کرے اب وہ وقت آگیا ہے کہ إِنَّ اللّٰهَ عَلَى نَصْرِهِم لَقَدِيرٌ (الحج:40) کا نمونہ دکھائے ۔ اللہ تعالیٰ کی نظر سے صادق اور کاذب، خائن اور مظلوم پوشیدہ نہیں ہیں۔ اب ضروری ہے کہ سب گروہ متفق ہو کر میرے استیصال کے درپے ہوں جیسے جنگ احزاب میں ہوئے تھے۔ جو کچھ ہو رہا ہے یہ سب خدا تعالیٰ نے چاہا ہے۔ مَیں نے جو خواب میں دیکھا کہ دریائے نیل کے کنارہ پر ہوں اور بعض چلّائے کہ ہم پکڑے گئے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسا وقت بھی آوے جب جماعت کو کوئی ياس ہو مگر مَیں یقین رکھتا ہوں کہ خدا زور آور حملوں سے سچائی ظاہر کر دے گا۔ اس وقت یہ پورے زور لگائیں گے تاکہ قتل کے مقدمہ کی حسرتیں نہ رہ جائیں کہ کیوں چُھوٹ گیا۔ یہ لوگ ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مَیں پیش کرتا ہوں مگر وہ دیکھ لیں گے کہ اِ کرَاماً عَجَبًا کیسے ہوتا ہے۔‘‘
( ملفوظات جلد 5 صفحہ 40)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’تم کو خدا تعالیٰ نے خبردار کیا ہے کہ اپنی حالت بدل دو اور سمجھو کہ ایک دن موت آنی ہے۔ خدا کا دستور ہے کہ وہ گناہ گار کو بلا سزا دیے نہیں چھوڑتا۔ توبہ کرنے سے گناہ بخشے جاتے ہیں۔ خدا تعالیٰ بہت ہی رحم کرنے والا ہے مگر سزا بھی بہت دینے والا ہے۔ تمہاری فطرت میں کوئی نیکی ہوگی ورنہ عام طور پر اللہ تعالیٰ کی یہ عادت نہیں ہے کہ اس طرح سے خبر دیوے اس لیے اپنی زندگی کو بدلو اور عادتوں کو ٹھیک کرو۔ ‘‘
( ملفوظات جلد 5 صفحہ 40)

مزید پڑھیں