تین سلام

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ اپنے گھروں کو اس انعام سے فائدہ اٹھانے والا بنائیں جو اللہ تعالیٰ نے ہماری تربیت کے لئے ہمارے علمی اور روحانی اضافے کے لئے ہمیں دیا ہے تاکہ ہماری نسلیں احمدیت پر قائم رہنے والی ہوں۔ پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے آپ کو ایم ٹی اے سے جوڑیں۔ اب خطبات کے علاوہ اور بھی بہت سے لائیو پروگرام آرہے ہیں جوجہاں دینی اور روحانی ترقی کا باعث ہیں وہاں علمی ترقی کا بھی باعث ہیں۔ جماعت اس پر لاکھوں ڈالر ہر سال خرچ کرتی ہے اس لئے کہ جماعت کے افراد کی تربیت ہو۔ اگر افراد جماعت اس سے بھر پور فائدہ نہیں اٹھائیں گے تو اپنے آپ کو محروم کریں گے…ایم ٹی اے کی ایک اور برکت بھی ہے کہ یہ جماعت کو خلافت کی برکات سے جوڑنے کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہے۔ پس اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 18 اکتوبر 2013 ء)

مزید پڑھیں

ہم یوم مصلح موعودکیوں مناتے ہیں؟ (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’یہ ایک عظیم پیشگوئی ہےجو کسی شخص کی ذات سے وابستہ نہیں ہے بلکہ یہ پیشگوئی اسلام کی نشأۃ ثانیہ سے تعلق رکھتی ہے اور اس پیشگوئی کی اصل تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 18؍فروری 2011ء)

مزید پڑھیں

عہدِ بیعت ،اہمیت اور اِس  کے تقاضے

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’درحقیقت وہی بیعت کرتا ہے جس کی پہلی زندگی پر موت وارد ہو جاتی ہے اور ایک نئی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ ہر ایک امر میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد دوم صفحہ257 )

مزید پڑھیں

خلافت اور ہمارا عہدِ بیعت

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’بیعت سے مراد خدا تعالیٰ کو جان سپرد کرنا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہم نے اپنی جان آج خدا تعالیٰ کے ہاتھ بیچ دی۔ یہ بالکل غلط ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں چل کر انجام کار کوئی شخص نقصان اٹھاوے۔ صادق کبھی نقصان نہیں اٹھا سکتا۔ نقصان اسی کا ہے جو کاذب ہے۔ جو دنیا کے لئے بیعت کو اور عہد کو جو اللہ تعالیٰ سے اُس نے کیا ہے توڑ رہا ہے۔ وہ شخص جو محض دنیا کے خوف سے ایسے امور کا مرتکب ہو رہا ہے، وہ یاد رکھے بوقت موت کوئی حاکم یا بادشاہ اُسے نہ چھڑا سکے گا۔ اُس نے احکم الحاکمین کے پاس جانا ہے جو اُس سے دریافت کرے گا کہ تُو نے میرا پاس کیوں نہیں کیا؟ اِس لئے ہر مومن کے لئے ضروری ہے کہ خدا جو ملک السموٰات والارض ہے اس پر ایمان لاوے اور سچی توبہ کرے۔‘‘
(ملفوظات جلدہفتم صفحہ29-30 )

مزید پڑھیں

خلافت کی بیعت کیوں ضروری ہے؟ ( تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام صرف نماز پڑھا دینا اور یا پھر بیعت لے لینا ہے۔ یہ کام تو ایک مُلّاں بھی کر سکتا ہے اس کے لئے کسی خلیفے کی ضرورت نہیں اور مَیں اس قسم کی بیعت پر تھوکتا بھی نہیں۔ بیعت وہ ہے جس میں کامل اطاعت کی جائے اور خلیفہ کے کسی ایک حکم سے بھی انحراف نہ کیا جائے۔‘‘
(الفرقان خلافت نمبرمئی جون 1986ء صفحہ28)

مزید پڑھیں

خلافت کی اساس، اطاعت  کے رُوح پرور واقعات

حضرت مصلح موعودؓ کو اطاعتِ خلافت کا سرٹیفکیٹ تو خود حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ نے بایں الفاظ عطا فرمایا:
’’میاں محمود بالغ ہے اُس سے پوچھ لو کہ وہ سچا فرمانبردار ہے … مَیں خوب جانتا ہوں کہ وہ میرا سچا فرمانبردار ہے اور ایسا فرمانبردار ہے کہ تم (میں سے) ایک بھی نہیں۔‘‘
(اخبار بدر 4 جولائی 1912ء)

مزید پڑھیں

خلافت احمدیہ کے خلاف سازشوں کا بدانجام (خلافتِ ثالثہ اور رابعہ کا ذکر) ( تقریر نمبر2)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے خلافت ثالثہ کے متعلق فرمایا:
’’ مَیں ایسے شخص کو جس کو خدا تعالیٰ خلیفہ ثالث بنائے ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لا کر کھڑا ہو جائے گا….اگر دنیا کی حکومتیں بھی اس سے ٹکر لیں گی تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔‘‘
(تاریخ احمدیت جلد19صفحہ161)

مزید پڑھیں

خلافتِ احمدیہ کے خلاف سازشوں کا بدانجام ( خلافتِ ثانیہ کے خلاف ہونے والی سازشوں کا ذکر) ( تقریر نمبر 1)

دہلی کے رسالہ’’اسلامی دنیا‘‘نے جولائی1935ء میں لکھا:
’’مجلس احرار جیسی افتراق انگیز انجمنوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے ایسے ہی غداروں کے ہاتھوں مسلمان ذلیل ہوئے ہیں۔ مجلسِ احرار کی اس غدارانہ رَوِش کے بعد مسلمانوں کو معلوم ہو گیا کہ عطاء اللہ شاہ بخاری کی مجلس احرار کُوفیوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی جنہوں نے آلِ رسول کو اور عاشقانِ اسلام کو بُلا کر یزید کے ہاتھوں شہید کرا دیا تھا۔‘‘
(تاریخ احمدیت جلد7صفحہ561)

مزید پڑھیں

خلافت راشدہ کے خلاف سازشیں (خلافتِ ثالثہ و رابعہ کا تذکرہ) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو تعلق تھا اور آپؐ کی نظر میں ان کا جو مقام تھا اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ حضرت عثمانؓ سے بغض رکھنے والے ایک شخص کا جنازہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھا۔ اس کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے۔ حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص کا جنازہ لایا گیا تا کہ آپؐ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں لیکن آپؐ نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔ کسی نے عرض کی یا رسول اللہؐ ! اس سے پہلے ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپؐ نے کسی کی نمازجنازہ چھوڑی ہو۔ اس پر آپؐ نے فرمایا یہ شخص عثمانؓ سے بغض رکھتا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ بھی اس سے دشمنی رکھتاہے۔‘‘ (سنن الترمذی ابواب المناقب باب فی مناقب عثمان…… حدیث نمبر 3709)
( خطبہ جمعہ فرمودہ 9 اپریل 2021 ء )

مزید پڑھیں

خلافت راشدہ کے خلاف سازشیں (خلافتِ اُولیٰ و ثانیہ کا ذکر) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’حضرت ابوبکر صدیق ؓ.کا دورِخلافت چاروں خلفائے راشدین میں سے مختصر دور تھا جو کہ تقریباً سوا دو سال پر مشتمل تھا لیکن یہ مختصر سا دور خلافت راشدہ کا ایک اہم ترین اور سنہری دور کہلانے کا مستحق تھاکیونکہ حضرت ابوبکرؓ .کو سب سے زیادہ خطرات اور مصائب کاسامنا کرنا پڑا اور پھر خدا تعالیٰ کی غیرمعمولی تائید و نصرت اور فضل کی بدولت حضرت ابوبکرؓ کی کمال شجاعت اور جوانمردی اور فہم و فراست سے تھوڑے ہی عرصہ میں دہشت و خطرات کے سارے بادل چھٹ گئے اور سارے خوف امن میں تبدیل ہو گئے اور باغیوں اور سرکشوں کی ایسی سرکوبی کی گئی کہ خلافت کی ڈولتی ہوئی امارت مستحکم اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہو گئی۔‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ 4مارچ2022 ء )

مزید پڑھیں