حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ہماری جماعت کو اس بات کا بہت خیال چاہیے کہ اگر ایک شخص فوت ہوجاوے تو حتّی الوسع سب جماعت کو اس کے جنازہ میں شامل ہونا چاہیے اور ہمسایہ کی ہمدردی کرنی چاہیے ۔ یہ تمام باتیں حقوق العباد میں داخل ہیں ۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ جس تعلیم اور درجہ تک خدا تعالیٰ پہنچانا چاہتا ہے اس میں ابھی بہت کمزوری ہے ۔ صرف دعویٰ ہی دعویٰ نہ ہونا چاہیے کہ ہم ایمان دار ہیں بلکہ اس ایمان کو طلب کرنا چاہیے جسے خدا چاہتا ہے۔ بھائیوں کے حقوق کو اور ہمسائیوں کے حقوق کو شناخت کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ زبان سے کہہ لینا کہ ہم جانتے ہیں بیشک آسان ہے مگر سچی ہمدردی اور اخوّت کو بَرت کر دکھلانا مشکل ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ تمام حرکات، اعمال، افعال کے لیے ایمان مِثل ایک انجن کے ہے ۔ جب ایمان ہوتا ہے تو سب حقوق خود بخود نظر آتے جاتے ہیں اور بڑے بڑے اعمال اور ہمدردی خود ہی انسان کرنے لگتا ہے ۔ ایمان کا تُخم آہستہ آہستہ ترقی کرتا ہے لیکن یہ ہر ایک کے نصیب میں نہیں ہوتا ۔‘‘
( ملفوظات جلد6 صفحہ107)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ رسول وہ ہوتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسانات ہوتے ہیں۔ پس جو شخص اس کا انکار کرتا ہے وہ بہت خطرناک جرم کا مرتکب ہوتا ہے ۔ کیونکہ وہ شریعت کے سارے سلسلہ کو باطل کرنا چاہتا ہے اور حِلّت و حرمت کی قید اٹھا کر اباحت کا مسئلہ پھیلانا چاہتا ہے اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیسے نجات کا مانع نہ ہو۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو لاانتہا برکات اور فیوض لے کر آیا ہے اس کا انکار ہو اور پھر نجات کی امید۔ اس کا انکار کرنا ساری بدیوں اور بدمعاشیوں کو جائز سمجھنا ہے کیونکہ وہ ان کو حرام ٹھہراتا ہے۔‘‘
( ملفوظات جلد6 صفحہ89-88)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے بڑھ کر کوئی نہیں ہو سکتا مگر تاہم آپؐ کی بیویاں سب کام کر لیا کرتی تھیں ۔جھاڑو بھی دے لیا کرتی تھیں اور ساتھ اس کے عبادت بھی کرتی تھیں۔ چنانچہ ایک بیوی نے اپنی حفاظت کے واسطے ایک رسا لٹکا رکھا تھا کہ عبادت میں اُونگھ نہ آئے۔ عورتوں کے لیے ایک ٹکڑا عبادت کا خاوندوں کا حق ادا کرنا ہے اور ایک ٹکڑا عبادت کا خدا کا شکر بجا لانا ہے۔ خدا کا شکر کرنا اور خدا کی تعریف کرنی یہ بھی عبادت ہے اور دوسرا ٹکڑا عبادت کا نماز کو ادا کرنا ہے ۔“
( ملفوظات جلد6 صفحہ53)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ ہر ایک شۓ کی ایک اُمّ ہوتی ہے ۔ مَیں نے سوچا کہ جو انعامات ہیں اُن کی اُمّ کیا ہے ؟ خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ اُن کی اُمّ اُدۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ( المومن:61) ہے ۔ کوئی انسان بدی سے بچ نہیں سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو ۔ پس اُدۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ فرما کر یہ جتلا دیا کہ عاصم وہی ہے اُسی کی طرف تم رجوع کرو۔ ‘‘
( ملفوظات جلد6 صفحہ 3)

مزید پڑھیں

بِکھرنا ۔ نِکھرنا-اور خودی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’انسان بیعت کنندہ کو اوّل انکسارى اور عِجز اختیار کرنى پڑتى ہے اور اپنى خودى اور نفسانیت سے الگ ہونا پڑتاہے تب وہ نشوونما کے قابل ہوتاہے لیکن جو بیعت کے ساتھ نفسانیت بھى رکھتاہے اسے ہر گز فیض حاصل نہیں ہوتا۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ455)

مزید پڑھیں

’’آج حوّا کی بریّت کے ہوئے ہیں سامان ‘‘

حضور انور ایدہ اللہ نے سانحہ لاہور کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
”دشمن نے ایک مذموم سازش کی اور اپنے زعم میں احمدیوں سے ان کا دین اور ایمان چھیننا چاہا لیکن اس کا یہ خواب پورا نہ ہوسکا۔ ہم نے تو یہ نظارے دیکھے کہ باپ کے شہید ہونے پر اس کے نو دس سالہ بیٹے کو ماں نے یہ نصیحت کر کےمسجد بھجوایا کہ بیٹا وہیں کھڑے ہو کر جمعہ پڑھنا جہاں تمہارا باپ شہید ہوا تھا تا کہ یہ بات تمہارے ذہن میں رہے کہ موت ہمیں ہمارے عظیم مقاصد کے حصول سےخوفزدہ نہیں کر سکتی۔ پس جس قوم میں ایمان کی دولت سے لبریز ایسے بہادر بچے اور مائیں ہوں اس قوم کی ترقی کو کوئی دشمن اور دنیاوی طاقت روک نہیں سکتی۔ “
(ماہنامہ انصار اللہ نومبر،دسمبر2010ء کو شہدائے لاہور نمبر صفحہ 9)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی آمد کا ایک مقصد ۔ مخلوق کا اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’بیعت سے اصل مدعا یہ ہے کہ اپنے نفس کو اپنے رہبر کی غلامی میں دے کر وہ علوم اور معارف اور برکات اس کے عوض میں لیوے جن سے ایمان قوی ہو اور معرفت بڑھے اور خدا تعالیٰ سے صاف تعلق پیدا ہو اور اسی طرح دنیوی جہنم سے رہا ہوکر آخرت کے دوزخ سے مخلصی نصیب ہو۔‘‘
(ضرورۃ الاما م،روحانی خزائن جلد 13صفحہ498)

مزید پڑھیں

50 تقاریر بابت وجود باری تعالی

اَلْاَوَّلُ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی کم از کم 175 صفات کا تذکرہ ہے۔ حدیث میں 104 صفات کا ذکر ملتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اِن کے علاوہ اپنی جن صفات پر اطلاع دی وہ 27 ہیں۔ ( الفضل انٹرنیشنل 23؍دسمبر 2025ء)  ان کُل 306 صفات میں سے ایک صفت ”اَلْاَوَّلُ “ بھی ہے یعنی پہلا۔ اِسی صفت کو آج مَیں نے ”مشاہدات“ کے  32ویںمجموعہ کے پیش لفظ کے عنوان کے طور پر چُنا ہے۔ ہمیں اللہ.تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم اور احادیث میں وجودِ الہٰی اور توحیدِ باری تعالیٰ کے ثبوت […]

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر10)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” کوئی مشکل مشکل اور کوئی مصیبت مصیبت رہ سکتی ہی نہیں اگر کوئی شخص استقامت اور صبر اپنا شیوا کر لے اور خدا تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ کرے
خدا داری چہ غم داری۔‘‘
( ملفوظات جلد5 صفحہ 274)

مزید پڑھیں