صاحبزادی امۃ الودود بیگم صاحبہ بنت حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے صاحبزادی امۃ الودود بیگم صاحبہ کی وفات کے بعد الفضل 23جون 1940ء میں ایک مضمون میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے تحریر فرمایا:
’’ امۃ الودود جسے ہم پیار سے دودی کہا کرتے تھے جو کل ہم سے جدا ہوئی گو میری بھتیجی تھی مگر میری آئندہ نسلوں کے غم اس کے غم کو کہاں پہنچ سکتے ہیں ۔ کیونکہ خداتعالیٰ کا یہی قانون ہے کہ زمانہ، رشتہ اور تعلق یہ تین چیزیں مل کر دلوں میں محبت کے جذبات پیدا کیا کرتی ہیں پھر اگر اِن میں سے کوئی ایک چیز زور پکڑ جائے تو وہ دوسری چیزوں کو دبا دیتی ہے اور جب تینوں جمع ہوجائیں تو جذبات بھی شدید ہو جاتے ہیں ۔ دودی میری بھتیجی تو تھی مگر زمانہ کے قرب اور تعلق نے اسے میرے دل کے خاص گوشوں میں جگہ دے رکھی تھی ۔ بعد کی نسلیں تو الگ رہیں میرے اپنے بچوں میں سے کم ہی ہیں جو مجھے اس کے برابر پیارےتھے ۔ ‘‘
