صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا (تقریر نمبر 10)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
’’ ایک دفعہ مَیں کشتی میں بیٹھا دریا کی سیر کر رہا تھا اور بھائی عبد الرحیم صاحب میرے ساتھ تھے ۔ میرے لڑکے ناصر احمد نے بچپن کے لحاظ سے کہا کہ ابا جان! اگر اس وقت ہمارے پاس کوئی مچھلی بھی ہوتی تو بڑا مزا آتا ۔ اس وقت یکدم میرے دل میں خیال پیدا ہوا لوگ تو خواجہ خضر سے کچھ اور مراد لیتے ہیں مگر مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ خضر ایک فرشتہ ہے جس کے قبضہ میں اللہ تعالیٰ نے دریا رکھے ہوئے ہیں ۔ جب ناصر احمد نے یہ بات کہی تو مَیں نے کہا خواجہ خضر ہم آپ کے علاقہ میں سے گزر رہے ہیں۔ ہماری دعوت کیجیے اور ہمیں کھانے کے لیے مچھلی دیجئے ۔ جونہی مَیں نے یہ فقرہ کہا بھائی جی کہنے لگے آپ نے یہ کہہ دیا کہ خواجہ خضر ہماری دعوت کریں ۔ اس سے تو بچے کی عقل ماری جائے گی ۔ مگر ابھی بھائی جی کا یہ فقرہ ختم ہی ہوا تھا کہ یکدم ایک بڑی سی مچھلی کود کر ہماری کشتی میں آ پڑی اور مَیں نے کہا بھائی جی! لیجئے مچھلی آگئی ۔ چنانچہ اس کے بعد ہم نے وہ مچھلی پکا کر تبرک کے طور پر سب ہمراہیوں کو تھوڑی چکھائی کہ یہ ہمارے خدا کی طرف سے مہمان نوازی ہوئی ہے ۔“
( سوانح فضل عمر جلد پنجم صفحہ98)

مزید پڑھیں

صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا (تقریر نمبر 9)

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’آئندہ دنیا کے افق پر احمدیت کی فتوحات اُبھر رہی ہیں۔ شہداء کی قربانیاں ہمارے ایمانوں میں بھی اضافے کا موجب بن رہی ہیں۔ ہمیں صرف اس بات پر ہی تسلی نہیں پکڑنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ قربانیوں کو ضائع نہیں کرتا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ مَیں تجھے فتوحات دوں گا، یہ تو ہوگا اور ان شاء اللہ تعالیٰ یقیناً ہو گا۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 31 دسمبر 2010ء)

مزید پڑھیں

خلافت کی اساس، اطاعت  کے رُوح پرور واقعات

حضرت مصلح موعودؓ کو اطاعتِ خلافت کا سرٹیفکیٹ تو خود حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ نے بایں الفاظ عطا فرمایا:
’’میاں محمود بالغ ہے اُس سے پوچھ لو کہ وہ سچا فرمانبردار ہے … مَیں خوب جانتا ہوں کہ وہ میرا سچا فرمانبردار ہے اور ایسا فرمانبردار ہے کہ تم (میں سے) ایک بھی نہیں۔‘‘
(اخبار بدر 4 جولائی 1912ء)

مزید پڑھیں

خلافت احمدیہ کے خلاف سازشوں کا بدانجام (خلافتِ ثالثہ اور رابعہ کا ذکر) ( تقریر نمبر2)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے خلافت ثالثہ کے متعلق فرمایا:
’’ مَیں ایسے شخص کو جس کو خدا تعالیٰ خلیفہ ثالث بنائے ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لا کر کھڑا ہو جائے گا….اگر دنیا کی حکومتیں بھی اس سے ٹکر لیں گی تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔‘‘
(تاریخ احمدیت جلد19صفحہ161)

مزید پڑھیں

خلافتِ احمدیہ کے خلاف سازشوں کا بدانجام ( خلافتِ ثانیہ کے خلاف ہونے والی سازشوں کا ذکر) ( تقریر نمبر 1)

دہلی کے رسالہ’’اسلامی دنیا‘‘نے جولائی1935ء میں لکھا:
’’مجلس احرار جیسی افتراق انگیز انجمنوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے ایسے ہی غداروں کے ہاتھوں مسلمان ذلیل ہوئے ہیں۔ مجلسِ احرار کی اس غدارانہ رَوِش کے بعد مسلمانوں کو معلوم ہو گیا کہ عطاء اللہ شاہ بخاری کی مجلس احرار کُوفیوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی جنہوں نے آلِ رسول کو اور عاشقانِ اسلام کو بُلا کر یزید کے ہاتھوں شہید کرا دیا تھا۔‘‘
(تاریخ احمدیت جلد7صفحہ561)

مزید پڑھیں

خلافت راشدہ کے خلاف سازشیں (خلافتِ ثالثہ و رابعہ کا تذکرہ) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو تعلق تھا اور آپؐ کی نظر میں ان کا جو مقام تھا اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ حضرت عثمانؓ سے بغض رکھنے والے ایک شخص کا جنازہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھا۔ اس کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے۔ حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص کا جنازہ لایا گیا تا کہ آپؐ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں لیکن آپؐ نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔ کسی نے عرض کی یا رسول اللہؐ ! اس سے پہلے ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپؐ نے کسی کی نمازجنازہ چھوڑی ہو۔ اس پر آپؐ نے فرمایا یہ شخص عثمانؓ سے بغض رکھتا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ بھی اس سے دشمنی رکھتاہے۔‘‘ (سنن الترمذی ابواب المناقب باب فی مناقب عثمان…… حدیث نمبر 3709)
( خطبہ جمعہ فرمودہ 9 اپریل 2021 ء )

مزید پڑھیں

خلافت راشدہ کے خلاف سازشیں (خلافتِ اُولیٰ و ثانیہ کا ذکر) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’حضرت ابوبکر صدیق ؓ.کا دورِخلافت چاروں خلفائے راشدین میں سے مختصر دور تھا جو کہ تقریباً سوا دو سال پر مشتمل تھا لیکن یہ مختصر سا دور خلافت راشدہ کا ایک اہم ترین اور سنہری دور کہلانے کا مستحق تھاکیونکہ حضرت ابوبکرؓ .کو سب سے زیادہ خطرات اور مصائب کاسامنا کرنا پڑا اور پھر خدا تعالیٰ کی غیرمعمولی تائید و نصرت اور فضل کی بدولت حضرت ابوبکرؓ کی کمال شجاعت اور جوانمردی اور فہم و فراست سے تھوڑے ہی عرصہ میں دہشت و خطرات کے سارے بادل چھٹ گئے اور سارے خوف امن میں تبدیل ہو گئے اور باغیوں اور سرکشوں کی ایسی سرکوبی کی گئی کہ خلافت کی ڈولتی ہوئی امارت مستحکم اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہو گئی۔‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ 4مارچ2022 ء )

مزید پڑھیں

خلافتِ راشدہ کے خلاف سازشوں کے المناک اثرات

حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔
’’دیکھو! ہم ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کر رہے ہیں۔ مگر تم نے کبھی غور کیا کہ یہ تبلیغ کس طرح ہو رہی ہے۔ ایک مرکز ہے جس کے ماتحت وہ تمام لوگ جن کے دلوں میں اسلام کا درد ہے اکٹھے ہو گئے ہیں اور اجتماعی طور پر اسلام کے غلبہ اور اس کے احیاء کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ وہ بظاہر چند افراد نظر آتے ہیں مگر ان میں ایسی قوت پیدا ہو گئی ہے کہ وہ بڑے بڑے اہم کام سرانجام دے سکتے ہیں۔ جس طرح آسمان سے پانی قطروں کی صورت میں گرتا ہے پھر وہی قطرے دھاریں بن جاتی ہیں اور وہی دھاریں ایک بہنے والے دریا کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ اس طرح ہمیں زیادہ سے زیادہ قوت اور شوکت حاصل ہوتی چلی جا رہی ہے… اس کی وجہ محض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں خلافت کی نعمت عطا کی ہے جس سے وہ لوگ محروم ہیں۔ اس خلافت نے تھوڑے سے احمدیوں کو بھی جمع کر کے انہیں طاقت بخشی ہے جو منفردانہ طور پر کبھی حاصل نہیں ہو سکتی“
(الفضل، 25مارچ1951)

مزید پڑھیں

خلافت ، پہرہ اور امام کی حفاظت

حضرت شیخ محمد اسماعیل سرساوی صاحبؓ صحابی حضرت مسیح موعودؑ نے نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
ہم نے خلافت کی حقیقت کو سمجھا تھا کہ خلافت ہی ایسی ضروری ہے کہ جس کے بغیراسلام کی حفاظت ہو نہیں سکتی۔ پس ہم نے اپنے وقت میں اپنے خلیفہ کی بھی حفاظت کماحقہ کرکے دکھا دی تھی اور حفاظت بھی کماحقہ کرکے اپنے پیارے خدا کی خوشنودی حاصل کرلی تھی۔ اب ہم تو بوڑھے ہو گئے اور ہڈیاں بھی ہماری کھوکھلی ہوگئیں۔ ٹھوکریں ہی کھاتے رہے اور ٹھوکریں کھاتے ہی اس دنیا سے گزر جائیں گے۔ اب تمہارا نوجوانوں کا ہی کام ہے کہ آگے آگے قدم رکھو اور اپنے پیارے خلیفہ کی بھی حفاظت کرو اور خلافت کی بھی حفاظت کرو۔
(رجسٹر روایات صحابہ نمبر6 صفحہ78)

مزید پڑھیں

نظامِ خلافت اور زکٰوۃ

حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔
’’ دیکھ لو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں زکوٰۃ کی وصولی کا باقاعدہ انتظام تھا۔ پھر جب آپؐ کی و فات ہوگئی اور حضرت ابو بکرؓ خلیفہ ہوگئےتو اہلِ عرب کے کثیر حصہ نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ حکم صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص تھا بعد کے خلفاء کے لئے نہیں مگر حضرت ابو بکرؓ نے ان کے اس مطالبہ کو تسلیم نہ کیا بلکہ فرمایا کہ اگر یہ لوگ اونٹ کے گھٹنے کو باندھنے والی رسی بھی زکوٰۃ میں دینے سے انکار کریں گے تو مَیں ان سے جنگ جاری رکھوں گا اور اُس وقت تک بس نہیں کروں گا جب تک اُن سے اُسی رنگ میں زکوٰۃ وصول نہ کرلوں جس رنگ میں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ادا کیا کرتے تھے چنانچہ آپ اس مہم میں کامیاب ہوئےاور زکوٰۃ کا نظام پھر جاری ہوگیا۔ جو بعد کے خلفاء کےزمانوں میں بھی جاری رہا۔مگرجب سے خلافت جاتی رہی مسلمانوں میں زکوٰۃ کی وصولی کا بھی کوئی انتظام نہ رہا اور یہی اللہ تعالیٰ اِس آیت (استخلاف)میں فرمایا تھا کہ اگر خلافت کا نظام نہ ہو تو مسلمان زکوٰۃ کے حکم پر عمل نہیں کر سکتے۔‘‘
(تفسیر کبیر سورۃ نور آیت347-348)

مزید پڑھیں