ماہ ِ رمضان اور سورج و چاند گرہن (حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات کی روشنی میں)
حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’سورج گرہن کو دیکھ کر یہ فائدہ اٹھانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو سورج بھی کہا ہے اور قمر بھی کہا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ ظاہر سے باطن کی طرف جائے۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب دیکھا کہ سورج کی روشنی جو دنیا کو پہنچتی ہے وہ رک گئی تو آپ گھبرا اٹھے کہ کہیں ہماری روشنی اور ہمارا فیضان اِس طرح کم نہ ہوجائے اور رک نہ جائے۔ گھبراہٹ کے وقت دعا اور تضرّع اور خیرات و صدقہ سے کام لینا چاہیے۔ لہٰذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا، تضرّع، خیرات اور صدقہ سب سے کام لیا اور دعائیں کیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو قبول فرمایا اور آپ کی روشنی بلا انقطاع قیامت تک دنیا میں رہنے والی ہے۔ اور آپ کے خلفاء کے ذریعہ سے اس کی تجدید ہمیشہ ہوتی رہتی ہے۔
فرمایا۔ کسوف خسوف خدا تعالیٰ کے نشانات میں سے ہے جو بندوں کو دکھایا جاتا ہے اور سمجھایا جاتا ہے کہ بڑی بڑی روشن چیزیں جو ہیں ان کو بھی خدا تعالیٰ تاریک کرسکتاہے۔‘‘
( ارشاداتِ نور جلد دوم صفحہ 499)
