چوتھی شرطِ بیعت
’’ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔ نہ زبان سے، نہ ہاتھ سے، نہ کسی اور طرح.سے۔‘‘
مزید پڑھیں’’ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔ نہ زبان سے، نہ ہاتھ سے، نہ کسی اور طرح.سے۔‘‘
مزید پڑھیں’’ بلا ناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہے گا اور حتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اور ہر روزاپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا اور دلی محبت سے خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اُس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر روزہ ورد بنائے گا ۔‘‘
مزید پڑھیں’’جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت اُن کا مغلوب نہیں ہو گا اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔‘‘
مزید پڑھیں’’بیعت کنندہ سچے دل سے عہد اس بات کا کرے کہ آئندہ اُس وقت تک کہ قبر میں داخل ہو، شرک سے مجتنب رہے گا۔‘‘
مزید پڑھیں”حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا جس کے کپڑے بہت سفید تھے اور بالوں کا رنگ بہت سیاہ تھا اس پر سفر کی کوئی علامت دکھائی نہیں دیتی تھی اور نہ ہم میں سے کوئی اُسے پہچانتا تھا ۔ وہ آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے کے ساتھ اپنا گھٹنا ملا کر (مؤدب) بیٹھ گیا اور عرض کیا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایمان کسے کہتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ، یوم آخرت کو مانے اور خیر اور شر کی تقدیر اور اس کے صحیح صحیح اندازے پر یقین رکھے۔ “
( حدیقۃُ الصالحین حدیث نمبر166)
اک سے ہزار ہوویں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ تحریر فرمایا ہے: ” یہ بات ہر ایک جانتا ہے کہ تالیفات کی نسبت یہ عام محاورہ ہے کہ ان کو نتائجِ طبع کہتے ہیں یعنی طبع.زادبچے“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ350-351) لغات میں لکھا ہے کہ نتائجِ طبع سے مراد طبیعت […]
مزید پڑھیںحضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”زمین کی وراثت کا راز تقویٰ میں ہے۔ زمین کے حقیقی وارث وہ نہیں ہیں جن کے پاس مادی دولت یا طاقت ہے بلکہ وہ ہیں جن کے پاس ایمان اور تقویٰ کی دولت ہے۔“
(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 69)
حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”سلطنتوں میں ہزاروں مدبّر ان کی درستی کے لئے رات دن لگے رہتے ہیں لیکن پھر بھی دیکھتے ہیں کہ ان سے ایسی ایسی غلطیاں سرزد ہو تی ہیں کہ جن سے سلطنتوں کو خطرناک نقصان پہنچ جاتا ہے بلکہ بعض اوقات بالکل تباہ ہوجاتی ہیں لیکن اگر اس دنیا کا کاروبار صرف اتفاق پر ہے تو تعجب ہے کہ ہزاروں دانا دماغ تو غلطی کرتے ہیں لیکن یہ اتفاق تو غلطی نہیں کرتا۔ لیکن سچی بات یہی ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے جو بڑے وسیع عالم کا مالک اور عزیز ہے اور اگر یہ نہ ہوتا تو یہ انتظام نظر نہ آتا۔ اب جس طرف نظر دوڑا کر دیکھو۔ تمہاری نظر قرآن شریف کے ارشاد کے مطابق خائب و خاسر واپس آئے گی اور ہر ایک چیز میں ایک انتظام معلوم ہوگا۔ نیک جزاء اور بدکار سزا پا رہے ہیں۔ ہر ایک چیز اپنا مفوّضہ کام کررہی ہے اور ایک دم کے لئے سُست نہیں ہوئی۔ “
حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”ہزاروں راستبازوں کی شہادت جو اپنے عینی مشاہدہ پر خدا تعالیٰ کے وجود کی گواہی دیتے ہیں کسی صورت میں بھی ردّ کے قابل نہیں ہو سکتی۔ تعجب ہے کہ جو اس کوچہ میں پڑے ہیں وہ تو سب باتفاق کہہ رہے ہیں کہ خدا ہے لیکن جو روحانیت کے کوچہ سے بالکل بے بہرہ ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ان کی بات نہ مانوکہ خدا ہے حالانکہ اصول شہادت کے لحاظ سے اگر دوبرابر کے راستباز آدمی بھی ایک معاملہ کے متعلق گواہی دیں تو جو کہتا ہے کہ مَیں نے فلاں چیز کود یکھا اس کی گواہی کو اس گواہی پرجو کہتا ہے مَیں نے اس چیز کونہیں دیکھا ترجیح دی جائے گی کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ان میں سے ایک کی نظر اس چیز پر نہ پڑی ہو لیکن یہ ناممکن ہے کہ ایک نے نہ دیکھا ہو اور سمجھ لے کہ میں نے دیکھا ہے۔ پس خدا کے دیکھنے والوں کی گواہی اس کے منکروں پر بہرحال حجت ہوگی۔“
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”خدا کے تمام کامل نام اِسی سے مخصوص ہیں اور اِن میں شرکت غیر کی جائز نہیں سو خدا کو انہیں ناموں سے پکارو جو بلاشرکت غیرے یعنی نہ مخلوقاتِ ارضی و سماوی کے نام خدا کے لئے وضع کرو اور نہ خدا کے نام مخلوق چیزوں پر اطلاق کرو اور ان لوگوں سے جدا رہو جو کہ خدا کے ناموں میں شرکتِ غیر جائز رکھتے ہیں۔ عنقریب وہ اپنے کاموں کا بدلہ پائیں گے ۔“
( براہینِ احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 522۔ حاشیہ درحاشیہ نمبر3)