ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 3)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں :
’’ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَیں نے تمہارے لئے ہدایت کے سامان بھی مہیا فرمائے ہیں اور پھر تم ماہ رمضان میں قبولیت دعا کے نمونے بھی دیکھتے ہو لیکن اگر تم مستقل طور پر میری اطاعت کو اختیار نہیں کرو گے تو میرے فضل بھی تم پر مستقل طور پر نازل نہیں ہوں گے اور نہ ہی تمہارا انجام بخیر ہو گا۔ انجام بخیر اسی کا ہوتا ہے جو اپنی زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا جؤا اپنی گردن پررکھے۔‘‘
(خطبات ناصر جلد اول صفحہ61)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں :
’’ ماہ رمضان کا دوہرا تعلق قرآن کریم سے ہے۔ اِس لئے کہ قرآن کریم میں اس کے احکام ہیں ۔ ماہِ رمضان کی عبادات صَوم کی جو عبادات ہیں اس کے احکام جو ہیں وہ قرآن کریم میں نازل ہوئے اور دوسرے یہ کہ قرآن کریم ماہ رمضان میں نازل ہوا۔حدیث میں آتا ہے کہ ہر رمضان میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےجتنا قرآن نازل ہوتا تھا اس کا دور کیا کرتے تھے۔ تو ماہِ رمضان کا ایک گہرا تعلق اور دوہرا تعلق قرآن عظیم سے ہے۔‘‘
( خطبات ناصر جلد 8صفحہ 300)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں :
’’ وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ۔اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ہم نے تم پر روزے فرض کئے تو یہ حکم بھی دیا کہ سارے رمضان کے روزے رکھو تا کہ تم اس کی گنتی کو پورا کرو۔ اگر صرف یہ حکم ہوتا کہ روزے رکھو تو کوئی بیس دن کے روزے رکھتا۔ کوئی دس دن کے، کوئی رمضان کے مہینے میں رکھتا کوئی دوسرے مہینوں میں۔ پس ہم نے رمضان میں روزے رکھنے کا اس لئے حکم دیا تاکہ اُمّتِ مسلمہ ساری کی ساری اس سارے مہینے میں روزے رکھے اور ان اجتماعی برکات سے فائدہ اٹھائے جو اجتماعی عبادات سے تعلق رکھتی ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ24دسمبر1965ء)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)

شوال کے روزے کب رکھنے چاہئیں، اس بابت جماعت کو تاکیداً مخاطب کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں :
’’جن لوگوں کو علم نہ ہو وہ سن لیں اور جوغفلت میں ہو وہ بیدار ہوجائیں کہ سوائے ان کے جو بیمار اورکمزور ہونے کی وجہ سے معذور ہیں چھ روزے رکھیں، اگر مسلسل نہ رکھ سکیں تو وقفہ ڈال کر بھی رکھ سکتے ہیں ‘‘
(خطبات محمود جلد 1 صفحہ71)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں :
”ان ایام میں ہم پر بعض ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں یعنی پَو پھٹنے سے لے کر تمام وہ عاقل بالغ جو بیمار نہ ہوں، بچے کمزور اور بوڑھے نہ ہوں یا پھر حائضہ ، حاملہ یا دودھ پلانے والی عورتیں جو گو بیمار نہ ہوں لیکن روزہ کو برداشت نہ کر سکتی ہوں عام طور پر اکثر عورتوں کو حمل یا دودھ پلانے کی حالت میں غیر معمولی تکلیف کا امکان ہوتا ہے یا پھر مسافر کے سوا باقی سب کے لئے غروب آفتاب تک روزہ رکھنا فرض ہے۔‘‘
(فرموداتِ مصلح موعود۔ دربارہ فقہی مسائل صفحہ160-161)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 3)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں :
’’لیلۃ القدر آتی تو ہر سال ہےمگر ہر شخص کو وہ رات میسر تو نہیں آ جاتی۔جو لوگ سچے تقویٰ اور سچی نیکی سے خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں انہیں خاص توجہ اور خاص خشوع و خضوع کی حالت میں وہ میسر آتی ہے۔ یعنی گو اس کی عام برکات تو عام مسلمانوں کو ہر سال ہی مل جاتی ہیں لیکن اس کا کامل ظہور جبکہ انسان کو یہ معلوم بھی ہو جاتا ہے کہ آج لیلۃ القدر ہے، خاص خاص آدمیوں کو اور کبھی کبھی ہی نصیب ہوتا ہے ۔ یہ تجربہ درمیانہ درجہ کے مومنوں کو اپنی عمر میں کبھی ایک دفعہ یا دو دفعہ نصیب ہوتا ہے۔ پس اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں لیلۃ القدر مل جائے اسے سمجھنا چاہیے کہ اس کی ساری عمر کامیاب ہوگئی اور عمر کا اندازہ تراسی سال لگا کر بتایا ہے کہ ایسے شخص کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ رات اس کی باقی عمر سے افضل ہے اور اسی رات کی خاطر اس کی زندگی گزری ہے اور یہ رات اس کی زندگی کا نچوڑ ہے۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد 13صفحہ 491)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں :
’’اسی طرح افطاری میں تنوع اور سحری میں تکلفات بھی نہیں ہونے چاہئیں اور یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ سارا دن بھوکے رہے ہیں اب پُرخوری کرلیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کرام ؓ افطاری کے لئے کوئی تکلفات نہ کرتے تھے ۔ کوئی کھجور سے، کوئی نمک سے ، بعض پانی سے اور بعض روٹی سے افطار کر لیتے تھے۔ ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ ہم اس طریق کو پھر جاری کریں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کے نمونہ کو زندہ کریں۔ ‘‘
(تفسیر کبیر ۔ سورۃ البقرہ زیر آیت 186 )

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں :
’’رمضان کا مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص برکات اور خاص رحمتیں لے کر آتا ہے۔ یوں تو اللہ تعالیٰ کے انعام اور احسان کے دروازے ہر وقت ہی کھلے رہتے ہیں اور انسان جب چاہے ان سے حصہ لے سکتا ہے صرف مانگنے کی دیر ہوتی ہے ورنہ اس کی طرف سے دینے میں دیر نہیں لگتی کیونکہ خداتعالیٰ اپنے بندہ کو کبھی نہیں چھوڑتا۔ ہاں بندہ خداتعالیٰ کو چھوڑ کر بعض دفعہ دوسروں کے دروازہ پر چلا جاتا ہے… سو اس رحیم و کریم ہستی سے تعلق پیدا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ہر گھڑی رمضان کی گھڑی ہوسکتی ہے اور ہر لمحہ قبولیت دعا کا لمحہ بن سکتا ہے۔ اگر دیر ہوتی ہے تو بندہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ لیکن یہ بھی اس کے احسانات میں سے ہی ہے کہ اُس نے رمضان کا ایک مہینہ مقرر کر دیا تاکہ وہ لوگ جو خود نہیں اٹھ سکتے ان کو ایک نظام کے ماتحت اٹھنے کی عادت ہو جائے اور ان کی غفلتیں اُن کی ہلاکت کا موجب نہ ہوں۔‘‘
)تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 382-383)

مزید پڑھیں

ماہ ِ رمضان اور سورج و چاند گرہن (حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’سورج گرہن کو دیکھ کر یہ فائدہ اٹھانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو سورج بھی کہا ہے اور قمر بھی کہا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ ظاہر سے باطن کی طرف جائے۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب دیکھا کہ سورج کی روشنی جو دنیا کو پہنچتی ہے وہ رک گئی تو آپ گھبرا اٹھے کہ کہیں ہماری روشنی اور ہمارا فیضان اِس طرح کم نہ ہوجائے اور رک نہ جائے۔ گھبراہٹ کے وقت دعا اور تضرّع اور خیرات و صدقہ سے کام لینا چاہیے۔ لہٰذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا، تضرّع، خیرات اور صدقہ سب سے کام لیا اور دعائیں کیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو قبول فرمایا اور آپ کی روشنی بلا انقطاع قیامت تک دنیا میں رہنے والی ہے۔ اور آپ کے خلفاء کے ذریعہ سے اس کی تجدید ہمیشہ ہوتی رہتی ہے۔
فرمایا۔ کسوف خسوف خدا تعالیٰ کے نشانات میں سے ہے جو بندوں کو دکھایا جاتا ہے اور سمجھایا جاتا ہے کہ بڑی بڑی روشن چیزیں جو ہیں ان کو بھی خدا تعالیٰ تاریک کرسکتاہے۔‘‘
( ارشاداتِ نور جلد دوم صفحہ 499)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’مریض اور مسافر کے لئے قضاء رمضان علٰی الاتصال ضروری نہیں جب چاہے بتدریج عدّت کو پوری کرے۔ جولائی کے روزے دسمبر میں رکھ سکتا ہے یہی شرع اسلام کا حکم ہے۔ یہی معمول امام کا تھا۔‘‘
(ارشاداتِ نور جلد دوم صفحہ47)

مزید پڑھیں