یوم والدین

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کوزیادہ پسند ہے؟
فرمایا کہ نماز اپنے وقت پر پڑھنا۔ پھر والدین کے ساتھ نیکی کرنا اور فرمایا پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔
(بخاری رقم: 504)

مزید پڑھیں

فادرز ڈے(Father’s day)

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا
’’ ہم اپنے باپ سے کس انداز ولہجے میں بات کریں ؟‘‘
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ایک غلام، جس کا آقا بہت سخت اور ظالم ہو ، غلام سے کوئی بڑی خطا سرزد ہو جائے اور وہ آقا کو اس کی اطلاع دینا چاہے، تو کیسا انداز اور لب و لہجہ اختیار کرے گا ؟ پس اسی طرح اپنے باپ کو مخاطب کیا کرو۔‘‘

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”خدا سے صلح کرو ۔ سچی پرہیزگاری سے کام لو۔ آسمان اپنے غیر معمولی حوادث سے ڈرا رہا ہے۔ زمین بیماریوں سے انذار کر رہی ہے۔ مبارک وہ جو سمجھے۔“
( ملفوظات جلد اول صفحہ263)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”یاد رکھو! فضائِل بھی امراض متعدّیہ کی طرح متعدّی ہونے ضروری ہیں۔ مومن کے لئے حکم ہے وہ اپنے اخلاق کو اس درجہ پر پہنچائے کہ وہ متعدّی ہوجائیں۔ کیونکہ کوئی عُمدہ بات قابل پذیرائی اورواجب التعمیل نہیں ہوسکتی ۔جب تک اُس کے اندر ایک چمک اور جذبہ نہ ہو۔ اُس کی درخشانی دُوسروں کو اپنی طرف متوجّہ کرتی ہے اور جذب ان کو کھینچ لاتا ہے اور پھر اس فیض کی اعلیٰ درجہ کی خوبیاں خودبخود دوسرے کے عمل کی طرف توجہ دلاتی ہیں۔ دیکھو! حاتم کا نیک نام ہونا سخاوت کے باعث مشہور ہے ۔ گو مَیں نہیں کہہ سکتا کہ وہ خُلوص سے تھی۔ ایسا ہی رستم و اسفند یار کی بہادری کے فسانے عام زبان زد ہیں۔ اگرچہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ خُلوص سے تھے۔ میرا ایمان اورمذہب یہ ہے کہ جب تک انسان سچا مومن نہیں بنتا ۔ اُس کے نیکی کے کام خواہ کیسے ہی عظیم الشان ہوں لیکن وُہ ریاکاری کے ملمّع سے خالی نہیں ہوتے ۔ لیکن چونکہ اُن میں نیکی کی اصل موجود ہوتی ہے اور یہ وُہ قابل قدر جوہر ہے جو ہر جگہ عزّت کی نِگاہ سے دیکھا جاتا ہے اس لئے بایں ہمہ ملمّع سازی و ریاکاری وہ عزّت سے دیکھے جاتےہیں۔“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 212-213)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر5)

(تقریر نمبر5)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہماری جماعت میں شہزور اور پہلوانوں کی طاقت رکھنے والے مطلوب نہیں ۔ بلکہ ایسی قوت رکھنے والے مطلوب ہیں جو تبدیلِ اخلاق کے لیے کوشِش کرنے والے ہوں۔ یہ ایک امرواقعی ہے کہ وہ شہزور اور طاقت والا نہیں جو پہاڑ کو جگہ سے ہٹا سکے۔ نہیں! نہیں! ۔ اصلی بہادر وُہی ہے جو تبدیلِ اخلاق پر مقدرت پاوے ۔ پس یاد رکھو کہ ساری ہمت اور قوت تبدیلِ اخلاق میں صرف کرو کیونکہ یہی حقیقی قوت اور دلیری ہے ۔ “
(ملفوظات جلد اول صفحہ 140)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ خداتعالیٰ کے نزدیک اُس شخص کی قدرو منزلت ہے جو دین کا خادم اور نافع النّاس ہے ۔ ورنہ وُہ کچھ پَرواہ نہیں کرتا کہ لوگ کتّوں اور بھیڑوں کی موت مَر جائیں۔“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 324)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہرایک سے نیک سلوک کرو۔ حکّام کی اطاعت اور وفاداری ہر مُسلمان کا فرض ہے وہ ہماری حفاظت کرتے ہیں اور ہر قسم کی مذہبی آزادی ہمیں دے رکھی ہے۔ مَیں اِس کو بڑی بے ایمانی سمجھتا ہوں کہ گورنمنٹ کی اطاعت اوروفاداری سچّے دل سے نہ کی جائے۔ برادری کے حقُوق ہیں۔ اُن سے بھی نیک سلوک کرنا چاہئے۔ البتہ اُن باتوں میں جو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے خلاف ہیں، اُن سے الگ رہنا چاہئے۔ ہمارا اصول تو یہ ہے کہ ہرایک سے نیکی کرو اور خداتعالیٰ کی کُل مخلوق سے احسان کرو۔ “
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 459-460)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”تہجد میں خاص کر اُٹھو اور ذوق اور شوق سے ادا کرو۔ درمیانی نمازوں میں بہ باعث ملازمت کے ابتلا آجاتا ہے۔ رازق اللہ تعالیٰ ہے۔ نماز اپنے وقت پر ادا کرنی چاہیے۔ ظہر و عصر کبھی کبھی جمع ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ضعیف لوگ ہوں گے ۔ اس لئے یہ گنجائش رکھ دی ۔ مگر یہ گنجائش تین نمازوں کے جمع کرنے میں نہیں ہوسکتی ۔ جبکہ ملازمت میں اور دوسرے کئی امور میں لوگ سزا پاتے ہیں (اور موردِ عتاب حکام ہوتے ہیں) تو اگر اللہ تعالیٰ کے لئے تکلیف اُٹھاویں تو کیاخوب ہے“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 6)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” اس لئے اس سے پیشتر کہ عذاب الٰہی آکر توبہ کا دروازہ بند کردے توبہ کرو۔ جبکہ دُنیا کے قانون سے اس قدر ڈر پیدا ہوتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ خداتعالیٰ کے قانون سے نہ ڈریں۔ جب بَلا سر پر آپڑے تو اس کا مزہ چکھنا ہی پڑتا ہے۔ چاہئے کہ ہر ایک شخص تہجد میں اُٹھنے کی کوشش کرے اور پانچ وقت کی نمازوں میں بھی قنوت ملادیں ۔ ہرایک خدا کو ناراض کرنے والی باتوں سے توبہ کریں ۔ توبہ سے یہ مراد ہے کہ ان تمام بدکاریوں اور خدا کی نارضا مندی کے باعثوں کو چھوڑ کر ایک سچی تبدیلی کریں اور آگے قدم رکھیں اور تقویٰ اختیار کریں ۔ اس میں بھی خدا کا رحم ہوتا ہے ۔ عاداتِ انسانی کو شائستہ کریں۔ غضب نہ ہو۔ تواضع اور انکسار اس کی جگہ لے لے ۔ اخلاق کی درستی کے ساتھ اپنے مقدور کے موافق صدقات کا دینا بھی اختیار کرو۔ یُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّیَتِیۡمًا وَّاَسِیۡرًا (الدھر: 9)یعنی خدا کی رضا کے لئے مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھانا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خاص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہم دیتے ہیں اور اُس دن سے ہم ڈرتے ہیں جونہایت ہی ہَولناک ہے۔قصّہ مختصر دُعا سے، توبہ سے کام لواور صدقات دیتے رہو ۔ تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے ساتھ تم سے معاملہ کرے۔ “
( ملفوظات جلد اول صفحہ 208 ایڈیشن 1984ء )

مزید پڑھیں

”اگر نوحؑ کے وقت میں یہ نماز ہوتی تو وہ قوم کبھی تباہ نہ ہوتی“

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”نماز ایسی شئ ہے کہ اس کے ذریعہ سے آسمان انسان پر جُھک پڑتا ہے۔ نماز کا حق ادا کرنے والا یہ خیال کرتا ہے کہ مَیں مرگیا اور اس کی روح گداز ہو کر خدا کے آستانہ پر گِر پڑی ہے ۔ اگر طبعیت میں قبض اور بدمزگی ہو تو اس کے لئے بھی دعا ہی کرنی چاہئے کہ الٰہی! تُو ہی اُسے دُور کر اور لذّت اور نور نازل فرما۔ جس گھر میں اِس قسم کی نماز ہوگی وہ گھر کبھی تباہ نہ ہوگا ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر نوحؑ کے وقت میں یہ نماز ہوتی تو وہ قوم کبھی تباہ نہ ہوتی۔“
(ملفوظات جلد 6 صفحہ 421-422)

مزید پڑھیں