محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں ( پس منظر اور ضرورت )

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں:
’’ مَیں نے اپنی عمر میں سینکڑوں مرتبہ قرآن کریم کا نہایت تدبُّر سے مطالعہ کیا ہے اس میں ایک آیت بھی ایسی نہیں جو کہ دنیاوی معاملات میں ایک مسلم اور غیر مسلم میں تفریق کی تعلیم دیتی ہو۔ شریعت بنی نوع انسان کے لیے خالصتاً باعث رحمت ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے دلوں کو محبت ،پیار اور ہمدردی سے جیتا تھا۔ اگر ہم بھی لوگوں کے دلوں کو فتح کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنا ہوگا۔ قرآن کریم کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے سب سے محبت اور نفرت کسی سے نہیں ۔یہی طریق ہے دلوں کو جیتنے کا ۔اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں۔‘‘
( دورہ مغرب صفحہ 523)

مزید پڑھیں

انسان کی انسانيت کا تقاضا اپنے بھائی سے مُروَّت، احسان کا سلوک کرے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتےہیں:
’’ تم جو ميرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تم ہر شخص خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو ہمدردی کرو اور بلا تميز ہر ايک سے نيکی کرو کیونکہ یہی قرآن شریف کی تعلیم ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 4 صفحہ 219)

مزید پڑھیں

”خادمِ نوعِ انسان“ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتےہیں:
”متکبّر دوسرے کا حقیقی ہمدرد نہیں ہوسکتا۔اپنی ہمدردی کو صرف مسلمانوں تک ہی محدود نہ رکھو بلکہ ہرایک کے ساتھ کرو ۔ اگر ایک ہندو سے ہمدردی نہ کرو گے تو اسلام کے سچے وصایا اُسےکیسے پہنچاؤ گے؟ خدا سب کا ربّ ہے ۔ ہاں مسلمانوں کی خصوصیت سے ہمدردی کرو اور پھر متقی اور صالحین کی اس سے زیادہ خصوصیت سے ۔ مال اور دُنیا سے دل نہ لگاؤ۔ اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ تجارت وغیرہ چھوڑ دو بلکہ دل بایار اور دست باکار رکھو ۔ خدا کاروبار سے نہیں روکتا بلکہ دنیا کو دین پر مقدم رکھنے سے روکتا ہے ۔ اس لیے تم دین کو مقدم رکھو۔“
(ملفوظات جلد 3 صفحہ592۔ایڈیشن 2003ء)

مزید پڑھیں

جماعت احمدیہ اور خدمتِ انسانیت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” ہمارا یہ اصول ہے کہ کل بنی نوع کی ہمدردی کرو ۔ اگر ایک شخص ایک ہمسایہ ہندو کو دیکھتا ہے کہ اس کے گھر میں آگ لگ گئی اور یہ نہیں اٹھتا کہ تا آگ بھجانے میں مدد دے تو مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ مجھ سے نہیں ہے۔ اگر ایک شخص ہمارے مریدوں میں سے دیکھتا ہے کہ ایک عیسائی کو کوئی قتل کرتا ہے اور وہ اس کے چھڑانے کے لئے مدد نہیں کرتا تو مَیں تمہیں بالکل درست کہتا ہوں کہ وہ ہم میں سے نہیں۔“
( سراج منیر ،روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 28)

مزید پڑھیں

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مخلوق سے ہمدردی

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی گواہی ان الفاظ میں دی کہ
وَاللّٰهِ لاَ يُخْزِيكَ اللّٰهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الكَلَّ وَ تَکسِبُ المَعدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الحَقِّ
(بخاری بدءالوحی)
کہ اللہ کی قسم! کہ وہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضائع نہیں کرے گا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو رشتہ داروں کا حق ادا کرتے ہیں، غریبوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ دنیا سے ناپید اخلاق اور نیکیاں قائم کرتے ہیں۔مہمان نوازی کرتے اور حقیقی مصائب میں مدد فرماتے ہیں ۔

مزید پڑھیں

آنحضورؐ مہمان نوازی اور تواضع کے اخلاق کے آئینہ میں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان نوازی کا معیار اس قدر بلند تھا کہ جو دوسروں کے مقابلے میں ایک امتیازی شان رکھتا تھا اور نبوت کے دعوے کے بعد تو یہ مہمان نوازی ایک ایسی اعلیٰ شان رکھتی تھی کہ جس کی مثال ہی کوئی نہیں ہے۔
اس بارہ میں آپؐ کے اُسوہ حسنہ کو دیکھیں تو صرف وہاں یہ نہیں ہے کہ سلامتی بھیجنے کی باتیں ہو رہی ہیں بلکہ کھانے پینے کی مہمان نوازی کے علاوہ بھی یا استقبال کرنے کے علاوہ بھی ایسے ایسے واقعات ملتے ہیں جن کے معیار اعلیٰ ترین بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہمان کو کھانے کا انتظام کے احسن رنگ میں کرنے سے ہی صرف عزت نہیں بخشی بلکہ مہمان کے جذبات کا خیال بھی رکھا۔ اس کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کا خیال بھی رکھا اور اس کے لئے قربانی کرتے ہوئے بہتر سہولیات اور کھانے کا انتظام بھی کیا۔ اس کے لئے خاص طور پر اپنے ہاتھ سے خدمت بھی کی اور اس کی تلقین بھی اپنے ماننے والوں کو کی کہ یہ اعلیٰ معیار ہیں جو مَیں نے قائم کئے ہیں۔ یہ میرا اسوہ اس تعلیم کے مطابق ہے جو خداتعالیٰ نے مجھ پر اتاری ہے۔ تم اگر مجھ سے تعلق رکھتے ہو تو تمہارا یہ عمل ہونا چاہئے۔ تمہیں اگر مجھ سے محبت کا دعویٰ ہے تو اس تعلق کی وجہ سے، اس محبت کی وجہ سے، میری پیروی کرو اور یہ مہمان نوازی اور خدمت بغیر کسی تکلف، کسی بدل اور کسی تعریف کے ہو اور خالصتاً اس لئے ہو کہ خداتعالیٰ نے یہ اعلیٰ اخلاق اپنانے کا حکم دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی ہمارا مقصود اور مطلوب ہونا چاہئے۔ ‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ17جولائی 2009ء)

مزید پڑھیں

خلفائے احمدیت کی امتِ مسلمہ سے محبت اور تڑپ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ ن فرماتے ہیں:
’’مسلم امّہ کا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنا احمدیت کی فتح سے ہی وابستہ ہے۔ ظلم و تعدی کا خاتمہ اسی سے وابستہ ہے۔ پس چاہے فلسطینیوں کو ظلم سے آزاد کروانا ہے یا مسلمانوں کو ان کے اپنے ظالم حکمرانوں سے آزاد کروانا ہے اس کی ضمانت صرف احمدیوں کی دعائیں ہی بن سکتی ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 8؍اگست 2014ء)

مزید پڑھیں